اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے پیکٹ بند اشیائے خورونوش، بچوں کے فارمولا دودھ، مٹھائیوں، تیل، برانڈڈ جوتوں اور کپڑوں سمیت 3 ہزار سے زائد چیزوں پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز منظور کرلی۔
نئے فنانس بل کی قائمہ کمیٹی خزانہ سے منظوری کا اہم مرحلہ پر حکومتی نمائندے وفاقی وزیر خزانہ بروقت پہنچے نہ ہی وزیر مملکت آئے، جس پر چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اجلاس کی کارروائی روکی تو وزراء پہنچ گئے۔
کمیٹی نے عام استعمال کی 3400 اشیاء پر سٹینڈرڈ سیلز ٹیکس لگانے، ایف بی آر کو مخصوص حالات میں ری آڈٹ کے اختیارات دینے اور نیشنل فیس لیس ٹیکس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔
ایف بی آر کو اس اقدام سے 60 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے پی آئی اے کو طیاروں، پرزوں، لیز، کیٹرنگ آلات،اور فیول ٹرکس کی درآمد پر ٹیکس استثنیٰ کی تجویز منظور کر لی، تاہم کمیٹی نے یہ سہولت تمام ایئر لائنز کو دینے کی ترمیم بھی کر دی۔
کمیٹی نے ایس سی او سمٹ کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد اور ٹیکس استثنیٰ کی منظوری بھی دے دی۔دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے خصوصی گاڑیوں پر ٹیکس رعایت کی تجویز کی مشروط منظوری دی گئی،جبکہ گاڑیوں کی تعداد کا تعین وزارت داخلہ کرے گی۔

