ملتان:لاہور ہائیکورٹ نے مختلف الزامات ثابت ہونے پر 3 ججز کو سزائیںدینے، ایک کو وارننگ اور تین کو الزامات سے بری کر دیا.
اس سلسلے میںرجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے.
نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج حاصل پور حال تعینات خان پور ملک اللہ دتہ انجم کو انکوائری آفیسر نے الزام ثابت ہونےپر سنشور کی معمولی سزا دینے کی سفارش کی تھی، تاہم لاہور ہائیکورٹکےجسٹس مرزا وقاص رؤف نے زاتی شنوائی میں سزا بڑھا کر دو سال کے لئے پے سکیل میںکمی کی سزا کی سفارش کی، جسے چیف جسٹس اور ججز نے منظور کر لیا.
سول جج منزہ افضل کو انکوائری آفیسر نے دو سال کے لئے ایک انکریمنٹروکنے جبکہ سول جج سرگودھا سید فیضان رسول کی دو سال کے لئے دو انکریمنٹس روکنے کی سزا دی، جو چیف جسٹس اور ججز کمیٹی نے برقرار رکھنے کا حکم دیا.
اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ شوکت علی کو مستقبل میںمحتاط رہنے کی وارننگ جاری کرتےہوئے انکوائری ڈراپ کرنے کا حکم دیا گیا.
اس کے ساتھ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور ثمینہ حیات، سول ججز ماڈل ٹاؤن لاہور شبیر حسین اور نبیل حسین کو الزامات سے بری کرتے ہوئے انکوائری ختم کر دی گئی.
