Pnjb Br Concil

پنجاب: 300جعلی وکلاء کے خلاف مقدمات زیر التواء، 219 اشتہاری، 1435 کی انرولمنٹ فائلیں‌ریکارڈ‌ سے غائب

لاہور: پنجاب بار کونسل نے جعلی وکلاء کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کر لیا.

اینٹی کرپشن کمیٹی پنجاب بار کونسل نے وکلاء کی عزت اور پیشے کے وقار کے تحفظ کے لیے جعلی وکلاء اور کرپٹ مافیا کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

اینٹی کرپشن کمیٹی کا اجلاس آج 15 مارچ کو چیئرمین منیر حسین بھٹی کی صدارت میں‌منعقد ہوا، اجلاس میں‌دیگر ممبران سردار حبیب انور، امجد اقبال خان، راؤ‌شیراز اور راجہ ظفر اقبال بھی شریک تھے.

اجلاس میں‌فیصلہ کیا گیا کہ اینٹی کرپشن کمیٹی جعلی وکلاء کے خاتمے اور کرپشن میں‌ملوث وکلاء کے خلاف زیر سماعت شکایات کا فوری فیصلہ کرے گی.

کمیٹی میں‌ مسنگ فائلز کا ریکارڈ پیش کیا گیا، جس کے مطابق، پنجاب بار کونسل سے لوئر کورٹ کی 214 اور ہائیکورٹ کی 1221 انرولمنٹ فائلیں‌غائب پائی گئیں ہیں،مزید برآں، 300 جعلی وکلاء کے خلاف ٹرائل زیرسماعت ہے، اور پولیس ریکار‌ڈ کے مطابق 219 جعلی وکلاء اشتہاری ہیں‌۔اس کے علاوہ 70 درخواستیں‌ابھی تک زیر التواء ہیں‌.

WhatsApp Image 2025 03 15 at 10.51.41کمیٹی نے نیوکیسل یونیورسٹی فراڈ کے خلاف اور بدنام زمانہ ڈگری فروش خالد نامی شخص، جوکہ خالد یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے،کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور جن وکلاء کے پاس غیر ملکی ڈگریاں‌ہیں، ان کی بھی ازسر نو تصدیق کرانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں.

اجلاس میں‌ڈگری تصدیق کے سلسلہ میں‌پنجاب کی تمام یونیورسٹیز کے چانسلر گورنر پنجاب سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ کمیٹی نے تحصیل و ضلعی سطح پر وکلاء کی سب کمیٹیاں‌ تشکیل دینے کا فیصلہ کیاہے.

اجلاس میں‌ چیئرمین اور ممبران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وکالت کے معزز پیشے کو بدنام کرنے والوں‌ اور عوام الناس کے ساتھ ذیادتی کرنے والوں‌ کے ساتھ کوئی رعایت نہیں‌ برتی جائے گی، نیز عوام الناس سے درخواست کی گئی کہ وکالت کے معزز پیشہ میں‌وکلاء کے روپ میں‌داخل ہونے والی کالی بھیڑوں‌ کی نشاندہی کی جائے، اس سلسلہ میں‌اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں‌رکھا جائے گا، تاکہ اس معزز پیشہ کا تقدس بحال رکھا جا سکےاور پیشہ وکالت کو پر وقار بنایا جا سکے.

اپنا تبصرہ لکھیں