Untitled 2025 12 01T080446.279

ملتان کے قانونی ورثہ پر زکریا یونیورسٹی میں تحقیقی چیئر کے قیام کی ضرورت

سید خالد جاوید بخاری

ملتان برصغیر کا قدیم ترین قانونی اور تہذیبی مرکز رہا ہے۔ یہاں کے قاضی، عالم، صوفیا، اور عدالتی افسران نے اسلامی فقہ، عرفی قانون (Customary Law)، اور برطانوی عدالتی اصولوں کے امتزاج سے ایک منفرد قانونی ورثہ تخلیق کیا۔اس ورثے کی بازگشت لاہور ہائیکورٹ، پنجاب پری ایمپشن ایکٹ (1905) اور وقف قوانین میں صاف نظر آتی ہے۔تاہم، اس عظیم علمی ورثے پر اب تک کوئی منظم تحقیقی کام نہیں ہوا۔اسی تناظر میں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی — جو جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی تحقیقی درسگاہ ہے — میں “Legal Heritage of Multan” کے عنوان سے ایک ریسرچ چیئر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملتان کے قاضیوں اور فقیہوں نے 11ویں صدی سے 19ویں صدی تک فقہی و عدالتی تحریریں چھوڑی ہیں، جیسے:قاضی علی بن محمود ملتانی (12ویں صدی): کتاب القضا فی ملتان، مخدوم بہاءالدین زکریا ملتانی (1262ء): رسالہ فی احکام الوقف، سید احمد شاہ بخاری (1891ء): Legal Notes of Shufa Cases in Multan Court، یہ تحریریں فقہ اور سماجی انصاف کے امتزاج کی عکاس ہیں۔برطانوی دور کے عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملتان کی عدالتوں نے 1858ء تا 1947ء تک Islamic–Anglo Law کے کئی مقدمات میں فقہی اصولوں کو قانونی نظائر (Precedents) کی حیثیت دی۔ان مقدمات کی دستاویزات آج بھی Multan Archives Department میں موجود ہیں۔
Untitled 2025 12 01T080429.443
تاہم اس نادر ذخیرہ کے باوجود اب تک کوئی ایسا تحقیقی مرکز موجود نہیں جو ان تاریخی عدالتی نظائر، فیصلوں، اور مقامی فقہی اصولوں کو ایک مربوط تحقیقی فریم ورک میں محفوظ کرے۔”ملتان کے تاریخی قانونی ورثے کے بکھرے ہوئے مواد کو محفوظ، مرتب اور جدید قانونی تحقیق سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک ادارہ جاتی ڈھانچے کی شدید کمی ہے”۔

اس تحقیق کی بدولت ملتان کے تاریخی عدالتی ریکارڈز کی جمع آوری اور ڈیجیٹل تحفظ، فقہی و عدالتی نظریات پر تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت، سید احمد شاہ بخاری، قاضی محمود ملتانی، اور دیگر شخصیات پر علمی سوانحی تحقیق، جنوبی پنجاب کے قانونی ارتقاء کو قومی نصاب اور قانون سازی میں شامل کرنے کی تجاویز، بین الاقوامی سطح پر “Islamic Legal Heritage of South Asia” کے موضوع پر سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد ممکن ہو گا.

اس لئے تجویز کردہ تحقیقی چیئر کا خاکہ اس طرح ہو سکتاہے کہ اس کا نام”Chair for Legal Heritage of Multan and South Punjab” ہو اور اس کا مقام فیکلٹی آف لاء، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان ہونی چاہیئے، جس کی مدتِ قیام، ابتدائی طور پر 5 سال کے لئے ہو، جس کے لئے فنڈنگ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، حکومت پنجاب اور مخیر حضرات ہونے چاہیئں. اس مرکزی منصوبے میں آرکائیوز ڈیجیٹلائزیشن، فقہی تحقیقی سیریز، سالانہ "ملتان لاء کانفرنس” اور بین الاقوامی اشتراک سےSOAS (London), Al-Azhar University (Cairo), International Islamic University (Islamabad) ہونے چاہیئں.
Untitled 2025 12 01T080438.593
اس چیئر اور تحقیق کے علمی جواز کے طور پر ملتان کے عدالتی ورثے کو محفوظ کر کے جنوبی ایشیا کے قانونی ارتقاء کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، تو قومی جواز کے طور پاکستان کے آئین اور شریعت قوانین میں ملتان کی فقہی روایت کی جھلک موجود ہے، جیسے”حقِ شفع” اور "وقف کے اصول”۔ سماجی جواز کے طور پر یہ چیئر مقامی آبادی کو اپنی عدالتی تاریخ سے جوڑے گی اور نوجوان محققین کو تحقیق کے نئے میدان فراہم کرے گی۔

اس کے لئے بین الاقوامی نظائر (Global Comparisons) کے طور پر مصر میںAl-Azhar University – Chair of Islamic Legal History اسلامی فقہ کی تاریخی تدوین، بھارت میںAligarh Muslim University – Centre for Legal Studies in Mughal India مغلیہ قانون کا مطالعہ، ترکی میںIstanbul University – Chair on Ottoman Legal Heritage سلطنتِ عثمانیہ کا قانونی ورثہ اور
پاکستان میں مجوزہ BZU – Chair for Legal Heritage of Multan میں برصغیر کا جنوبی اسلامی قانونی ورثہ مثال ہو سکتا ہے.

اس لئے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں فوری طور پر ایک بین الشعبہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو چیئر کے قیام کا خاکہ تیار کرے۔HEC Pakistan اس چیئر کو "National Centre of Excellence” کا درجہ دے۔وہیں Multan Archives Department کے ساتھ معاہدہ کیا جائے تاکہ 19ویں صدی کے عدالتی فیصلے ڈیجیٹل کیے جا سکیں۔اس کے ساتھ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء میں ایک خصوصی کورس "Legal Heritage "of Multan شامل نصاب کیا جائے۔نیز بین الاقوامی کانفرنس”Heritage and Law in South Punjab” ہر سال منعقد کی جائے۔ جن میں
ممکنہ تحقیقی موضوعات (Suggested Research Themes) کے طور پر "سید احمد شاہ بخاری اور حقِ شفع کا عدالتی ارتقاء”، "ملتان کے قاضیوں کے فیصلوں میں صوفیانہ عدل کا تصور”، "برطانوی دور میں اسلامی فقہ کا قانونی اطلاق”، "Multan Preemption Cases (1891–1947): A Legal Analysis” اور "Legal Pluralism in South Punjab: Custom, Sharia, and Colonial Law” کو موضوع بنایا جا سکتا ہے.

"Legal Heritage of Multan” پر تحقیقی چیئر کا قیام جنوبی پنجاب کے علمی وقار کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گا۔یہ چیئر اسلامی قانون،صوفیانہ، اخلاقیات، اور برطانوی قانونی ورثے کے امتزاج کو دستاویزی بنیادوں پر محفوظ کرے گی — تاکہ آنے والی نسلیں اس علاقے کی علمی و عدالتی تاریخ سے واقف رہیں۔

حوالہ جات (References):
1. Punjab Judicial Gazette, 1906–1939, Lahore.
2. District Court Records, Multan Archives.
3. Dr. N.A. Siddiqi, Islamic Jurisprudence in Colonial Punjab, Karachi University Press, 1989.
4. Dr. Syed Mehmood Rizvi, History of Law in Multan, BZU Press, 2010.
5. Al-Hidayah fi Sharh al-Bidayah, Burhanuddin al-Marghinani.
6. Fatawa-i-Alamgiri, Kitab al-Shufa.
7. Bahauddin Zakariya Multan, Risalah fi Ahkam al-Waqf, 1262 CE Manuscript, Multan Museum.

Untitled 2025 06 04T010448.935
خالد جاوید بخاری
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں