ویب نیوز:مس یونیورس کے فائنل میں میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش نے تنازعات اور تضحٰیک کےباوجود مس یونیورس 2025 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس 2025 کے مقابلے میں 120 ممالک کی حسیناؤں نے حصہ لیا تھا، مقابلے کے دوران میکسیکو کی فاطمہ بوش نے تمام تنازعات اور دباؤ کے باوجود شاندار پرفارمنس سے ناصرف ججز بلکہ دنیا بھر کے ناظرین کو بھی متاثر کیا۔
فائنل کے نتائج میں تھائی لینڈ کی امیدوار رنر اپ قرار پائیں جبکہ وینزویلا اور فلپائن کی حسینائیں بھی ٹاپ فائیو میں شامل رہیں.
میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش انسانیت دوست سرگرمیوں اور رضاکارانہ کاموں کے لیے جانی جاتی ہیں، ان کو بنکاک میں گزشتہ سال کی فاتح ڈنمارک کی وکٹوریا کیئر تھیلوِگ نے تاج پہنایا۔مس یونیورس کا ٹائٹل جیتنے والی فاطمہ بوش نے فیشن ڈیزائن کی تعلیم میکسیکو میں حاصل کی ہے، مس یونیورس سماجی مسائل اجاگر کرنے کے لیے بھی سرگرم رہتی ہیں جبکہ ستمبر 2025 میں فاطمہ بوش نے مس میکسکیو کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔
میکسیکو کی فاطمہ بوش لائیو اسٹریمڈ میٹنگ کے دوران تھائی ایونٹ ڈائریکٹر کی سرِعام سرزنش کے بعد مداحوں کی پسندیدہ امیدوار کے طور پر ابھری تھیں،اس واقعہ کے بعد مقابلہ حسن میں شریک متعدد حسیناؤں نے احتجاجاً واک آؤٹ کردیاتھا۔جس پر مس میکسیکو کا مؤقف تھا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک عورت کو کیسے عزت دی جاتی ہے اور وہ بھی وہ عورت جو اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہو.
مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی 25 سالہ روما ریاض نے کی جبکہ فلسطین کی پہلی حسینہ نادین ایوب بھی مِس یونیورس مقابلے میں جلوہ گر ہوئیں۔
مس یونیورس کو عالمی سطح پر خوبصورتی کے مقابلوں کا سپر باؤل کہا جاتا ہے، جسے ہر سال لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں، ہر ملک کی نمائندہ مقامی نمایاں شخصیات کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے جو مس یونیورس آرگنائزیشن سے لائسنس حاصل کرتے ہیں۔ اس سال 120 ممالک کی نمائندہ خواتین نے اس مقابلے میں حصہ لیا۔

