432704 1415118 updates

اسلام آباد ہائیکورٹ‌سے ججز کے تبادلے پرکمیشن کا اجلاس بلانے کی غیر رسمی درخواستیں مسترد

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کےججوں کے تبادلے کے معاملے پر کمیشن کا اجلاس بلانےکی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی غیر رسمی درخواستیں مسترد کردیں۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو تحریری جواب میں لکھا کہ ’ججوں کےتبادلےکے لیےکمیشن اجلاس بلانےکی درخواست قبول نہیں کی جاسکتی، بغیر وجہ تبادلہ جج کو سزا دینے کے مترادف ہوگالہٰذا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مخصوص مقصد کے لیے بلانا ممکن نہیں‘۔
WhatsApp Image 2026 04 24 at 06.14.19
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے جواب میں مزید لکھا کہ "سندھ سےتعلق رکھنے والےججوں کی واپسی وفاقی توازن کے خلاف ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں صوبوں کی نمائندگی ختم ہوجائےگی،اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ 2010 کے تقاضے متاثر ہوں گے اور 9 میں سے5 ججوں کے تبادلے سےعدالتی نظام متاثرہوسکتاہے”۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھےگئے خط کے مطابق ’متعدد آسامیوں کے خالی ہونے سے عدالتی غیریقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی، ہائیکورٹ ججوں کے تبادلےکے لیےکوئی واضح وجہ یا ادارہ جاتی ضرورت بیان نہیں کی گئی، آئین کسی جج کو ہٹانےکا آرٹیکل209 میں واضح طریقہ کار فراہم کرتاہے‘۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 209 کے تحت ہی جج کے خلاف کارروائی ممکن ہے، ججوں کے انتظامی تبادلے کرنا آئین کے منافی ہوگا، ایسا کرنے سے عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری متاثرہوسکتی ہے لہٰذا ججوں کو قابلِ تبادلہ انتظامی افسر سمجھنا خطرناک رجحان ہوگا، ایسےتبادلےعدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

خط کے متن میں مزید درج ہے کہ سیکرٹری جوڈیشل کمیشن اجلاس بلانے کے مجاز ہیں،7 اپریل2026کو ایک تہائی ارکان کی اجلاس بلانےکی ہاتھ سےلکھی ریکوزیشن موصول ہوئی، ایک تہائی ارکان کی ریکوزیشن پر آرٹیکل175اےکے تحت سیکرٹری اجلاس طلب کرسکتے ہیں، تبادلےکےلیےاجلاس بلانےکی وجوہات کمیشن کےتمام ارکان کوبھجوائی جائیں۔

قبل ازیں ججز ٹرانسفر کیس میں‌اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی انٹرا کورٹ اپیلیں خارج ہونے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا، جبکہ وفاقی آئینی عدالت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی انٹرا کورٹ اپیل سماعت کیلئے مقرر ہو چکی ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں