422832 5202619 updates

شک کا ایک پہلو بھی موجود ہو تو ملزم مقدمہ سے بریت کا حقدار ہے ، سپریم کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں شک کا ایک پہلو بھی موجود ہو تو ملزم بریت کا حقدار ہو جاتا ہے۔

بیٹے کے قتل کےمقدمے میں ملوث سگے باپ کو اسی اصول پر بری بھی کر دیا گیا۔
jail
عدالت نے مبینہ طور پر بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے کے مقدمے میں ملزم والد سلطان عرف ببو جتوئی کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔

ہائیکورٹ نے ملزم کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریری فیصلہ میں‌ کہا گیا کہ فوجداری قانون کے اصول کے مطابق شک کا ایک پہلو بھی ملزم کو بریت کا حقدار بنا دیتا ہے ۔ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ باپ اپنے ہی بیٹے کو قتل کیوں کرنا چاہتا تھا۔

ایک باپ کا اپنے کمسن بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت اور رویئے کے خلاف ہے۔ گھرمیں کپاس کی فصل کیلئے کیڑے مار ادویات موجود تھیں جو بچہ خود بھی پی سکتا تھا ۔ میڈیکل رپورٹ کےمطابق 4 سال کا بچہ زہریلی اور پینےوالی چیزمیں تمیزنہیں کرسکتا ۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ گواہوں کے بیانات میں تضادات اور ان کی موقع پر موجودگی بھی مشکوک ہے ۔

خیال رہے کہ سال 2019 میں سکھر میں چار سالہ مدثر عرف مٹھو کی مبینہ طور پر زہر کھانے سے موت ہوئی تھی ۔ جس پر بچے کے ماموں نے اس کے والد کیخلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں