کراچی:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی حقائق پر مبنی تحقیقاتی رپورٹ،” کیا ہندو کمیونٹی سندھ چھوڑ رہی ہے؟” میں ریاست کی جانب سے ایک کمزور اقلیتی گروہ کو تحفظ دینے میں ناکامی کو اجاگر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد ہندو خاندانوں کو نہ صرف مذہبی بنیادوں پر تشدد کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑی، بلکہ اقتصادی مسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی انہیں نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا۔

خصوصی معاون وزیرِ اعلیٰ سندھ برائے انسانی حقوق راجویر سنگھ سوڈھانے کہا کہ سندھ میں قانون کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے کئی اونچی ذات کے ہندو خاندانوں کو جرائم پیشہ گروپوں کی جانب سے بھتہ خوری کا سامنا ہے،جس کی وجہ سے انہیں ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ایچ آر سی پی کی کونسل کی رکن پشپا کماری نے ہندو خواتین کے اغواء،زبردستی مذہب کی تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں کے خطرات کو اجاگر کیا.
کونسل کے رکن اور صحافی سہیل سنگی نے سندھ اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندو کمیونٹی کے لیے ایک محفوظ اور باوقار ماحول بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں،جن میں مؤثر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا قیام،پولیس میں ہندو برادری کی نمائندگی میں اضافہ،اور حکومت اور مقامی ہندو کمیونٹی کے درمیان مسلسل مکالمہ شامل ہو۔
ایچ آر سی پی کی تحقیق میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ سندھ سے ہندو افراد اور خاندانوں کی ہجرت کا حقیقت پسندانہ ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تاکہ مسئلے کے حجم کا اندازہ لگایا جا سکے،اقلیتی گروپوں کے خلاف تشدد والے علاقوں میں خصوصی قانون نافذ کرنے والے یونٹس تعینات کیے جائیں،اور زبردستی مذہب کی تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف قوانین کا نفاذ کیا جائے۔