سید خالد جاوید بخاری
ملتان، جو صدیوں سے جنوب پنجاب کا ایک اہم تاریخی شہر رہا ہے، اپنے عدالتی نظام اور قیدی رکھنے کے انتظامات کی وجہ سے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈسٹرکٹ جیل ملتان سے پہلے شہر میں مختلف مقامی اور نوآبادیاتی انتظامات موجود تھے۔ اس مقالے میں نواب ولی محمد خان کے دور، قدیم قید خانوں، زندان خانہ، اور بعد میں ڈسٹرکٹ جیل کے قیام کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
نواب ولی محمد خان کا دور حکومت: تقریباً 1760ء–1790ء (ملتان کے مقامی سردار) تھے اور ان کی شہرت مقامی حکمران، قیدی رکھنے کے انتظامات کے بانی، اور خیرات و تعمیرات کے فاعل ہونے کے حوالے سے ہیں. نواب ولی محمد خان نے ملتان میں قیدی رکھنے کے لیے مستقل اور منظم نظام قائم کیا، جس میں قیدیوں کے لیے بیریکیں، تحویل خانہ اور دفاتر شامل تھے۔ یہ انتظام بعد میں برطانوی نوآبادیاتی دور میں ڈسٹرکٹ جیل میں تبدیل ہوا۔ زندان خانہ کی تعمیر ولی محمد خان کے دور میں ملتان میں عدالتی نظم و نسق کے لیے اہم قدم تھی او ر ولی محمد خان نے شہر کے عدالتی اور انتظامی نظام میں قیدی رکھنے کی بنیاد رکھی۔
اس نظام میں بیریکیں قیدیوں کی اقسام کے مطابق تھیں اور تحویل خانہ میں عدالتی مقدمات کے لئے قائم کیا گیا تھا، جس میںدفاتر اور نگرانی کے حصے بھی تھے اور ابتدائی بیریکیں مٹی اور پتھر سے بنی تھیں، جو بعد میں پختہ کی گئیں.اس جیل اور تحویل خانہ کے قیام پر مقامی تاجروں اور شہریوں کا ردعمل ملا جلا تھا جبکہ زمین اور تعمیرات پر بعض اوقات اعتراضات آئے، مگر شہری نظم و نسق میں بہتری کو سراہا گیا
قبل از نوآبادیاتی قیدی رکھنے کے نظام کا جائزہ لیںتو قدیم اور مغلیہ دور (1526–1739) کے دوران ملتان میں قیدی رکھنے کے لیے ابتدائی طور پر قلعہ خانہ، قید خانہ، تحویل خانہ، لاک اپ، بیت الحبس جیسے مقامات استعمال ہوتے تھے۔ملتان کے قلعے کے اندر عدالتی فیصلوں کے تحت قیدی رکھے جاتے تھے، اور قلعہ خانہ ان کا عارضی تحویل مرکز تھا۔یہ ابتدائی انتظام رسمی جیل سے قبل قیدیوں کو رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
افغان اور سِکھ دور (1739–1848) میں قیدیوں کو قلعہ یا چھوٹی تحویل گاہوں میں رکھا جاتا تھا۔ یہ نظام رسمی نہیں تھا، اکثر قیدی عدالتی فیصلوں کے فوری نفاذ کے لیے عارضی تحویل میں رکھے جاتے تھے۔
برطانوی نوآبادیاتی دور میں پنجاب جیل خانہ جات محکمہ 1854ء میںقائم کیا گیا اور اس کا مقصد قیدیوں کی تحویل، دیکھ بھال، کنٹرول اور اصلاح تھا. اس نوآبادیاتی انتظام نے قیدی رکھنے کے نظام کو قانونی اور منظم شکل دی۔
ڈسٹرکٹ جیل ملتان کا قیام 1872ء میںہوا اور بنیادی ڈھانچہ سابقہ زندان خانہ کے بیس پر تھا، جس میںبیریکیں مضبوط کی گئیں، دفاتر قائم کیے گئے، اور قواعد نافذ ہوئے. برطانوی دور میں جیل نظام منظم ہوا اور موجودہ ڈسٹرکٹ جیل کی بنیاد ولی محمد خان کے زندان خانہ پر رکھی گئی۔انگریز دور کے قانونی اور انتظامی عہدوں میں گورنر جنرل انڈیا نے Prisons Act, 1894 کی منظوری دی اور جیل ادارے کے قوانین کو منظم کیا. سربراہ پنجاب جیل خانہ جات محکمہ میں ابتدائی طور پر IG: Dr. C. Hathaway اور دیگر افسران میں Deputy IG، Superintendent، Jailer، Medical Officer شامل تھے. آئی جی جیل خانہ جات کا کردار جیلوں کے مجموعی کنٹرول، نظم و نسق اور قیدیوں کے حقوق کے نفاذ میں کلیدی تھا۔
ابتدائی دور کے جیل افسران میں…
1. Dr. C. Hathaway (1854–1863)
2. Dr. A. M. Dalla (1864–1884)
3. Brig. R. Grey (1884–1891)
4. Col. T. E. L. Bate (1891–1905)
5. Lt. Col. R. T. Macnamara (1905–1906)
6. Lt. Col. G. F. W. Braide (1906–1915) شامل تھے.
برطانوی دور میں پنجاب جیل خانہ جات محکمہ (Punjab Prisons Department) نے صوبہ بھر میں جیلوں کے انتظام کو منظم کیا، جن میں کئی جیلیں 19ویں صدی میں قائم ہوئیں۔ ڈسٹرکٹ جیل ملتان کی مزید تعمیرات 1872ء سے، ضلع جیل جہلم 1854ء سے، ضلع جیل راجنپور 1860ء سے، ضلع جیل سیالکوٹ 1865ء سے، ضلع جیل شاہپور 1873ء سے، ضلع جیل فیصل آباد 1873ء سے، مرکزی جیل گوجرانوالہ 1854ء سے فعال ہیں.یہ فہرست بتاتی ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل ملتان ان جیلوں میں شامل ہے جو نوآبادیاتی دور کے دوران قائم ہوئیں، اور ان میں سے کچھ جیلیں 1872ء سے پہلے بھی موجود تھیں (مثلاً ضلع جیل جہلم یا مرکزی جیل گوجرانوالہ)۔ تاریخی اہمیت کے مطابق نواب ولی محمد خان کے دور میں قیدی رکھنے کا مستقل نظام قائم ہوا، تو نوآبادیاتی دور میں یہ انتظام سرکاری ضلع جیل میں تبدیل ہوا اور 3. زندان خانہ اور بعد کی ڈسٹرکٹ جیل ملتان کی عدالتی و انتظامی تاریخ کی علامت ہیں.
ملتان میں قلعہ خانہ سے ڈسٹرکٹ جیل تک کا سفر نہ صرف شہر کی عدالتی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ نواب ولی محمد خان کی خدمات، نوآبادیاتی قوانین، اور جیل انتظامیہ کی ترقی کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ زندان خانہ سے شروع ہونے والا نظام آج بھی شہر کی تاریخی شناخت کا حصہ ہے۔
حوالہ جات و ریفرنسز:
1. District Jail Multan Wikipedia: https://en.wikipedia.org/wiki/District_Jail_Multan
2. Punjab Prisons Department History: https://prisons.punjab.gov.pk/history
3. Prisons Act, 1894 — ttps://www.indiacode.nic.in/bitstream/123456789/2325/1/AA1894___09.pdf
4. Ahmad, I. (2005). District Multan (1849–1901). Punjab University Journal of History, 51(1). https://pu.edu.pk/images/journal/history/PDF-FILES/10v51_No_14.pdf
5. Local Traditions and Oral History, Multan Heritage Society
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔



