سید خالد جاوید بخاری
2025 میں عالمی کاروباری دنیا تین بڑے چیلنجوں سے گزر رہی ہے، جس میںتیز رفتار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، امریکہ۔چین کشیدگی اور سپلائی چین کے بکھراؤ کا خطرہ اور سخت ماحولیاتی قوانین، خاص طور پر یورپ کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ (CBAM) نظام سر فہرست ہیں.یہ جانچنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح کامیاب کمپنیاں ڈیجیٹل تبدیلی، سپلائی چین کی تقسیم اور ماحول دوست اقدامات اپنا کر نہ صرف زندہ ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہی ہیں ۔ پاکستان میں بھی کاروباری کامیابی کے لئے وقت کے ساتھ اس تبدیلی کو ساتھ لے کر چلنے اور اپنا نے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی کاروبار کا ماڈل انتہائی تیزی سے بدل گیا ہے۔پہلے کمپنیاں زیادہ تر سستا مال بنانے اور اسے پوری دنیا میں بھیجنے پر توجہ دیتی تھیں۔2025 کے معاشی حالات اس ماڈل کو بدل چکے ہیں۔ اب کسی بھی کمپنی کی کامیابی صرف کم قیمت یا زیادہ پیداوار پر نہیں بلکہ ان عوامل پر بھی منحصر ہے، جن میں ملک کی سیاسی اور جغرافیائی استحکام، ڈیجیٹل نظام اور آٹومیشن کی رفتار،ماحولیاتی قوانین کی پابندی اور سپلائی چین کا محفوظ اور متنوع ہونا ضروری ہے.
2025 کے تین بڑے عالمی رجحانات میںسب سے پہلے ڈیجیٹل تبدیلی کا دور شامل ہے، کیونکہ آج کمپنیوں کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی صرف سہولت نہیں بلکہ بقاء کی شرط ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب کمپنیاں موبائل یا کمپیوٹر کے ذریعے فیکٹریوں کی ریئل ٹائم نگرانی کرتی ہیں۔مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ سیلز، مارکیٹنگ، اور پیداوار کا درست اندازہ لگاتی ہیں۔آن لائن پلیٹ فارم (ایمیزون، علی بابا، شاپی) چھوٹی دکانوں کو بھی عالمی مارکیٹ سے جوڑتے ہیں۔جس طرحسام سنگ اپنی ویتنام کی فیکٹریوں کو یورپ سے ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے۔ایمیزون نے لاجسٹکس، ڈیٹا، ڈرون ڈلیوری اور خودکار گوداموں کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں انقلاب برپا کیا ہے۔علی بابا نے لاکھوں ایشیائی چھوٹے کاروباروں کو بین الاقوامی تجارت سے جوڑ دیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی نے لاگت کم کی، رفتار بڑھائی اور عالمی مقابلے کو مزید سخت بنا دیا۔
اس طرح چین سے منتقلی (China Plus One) بھی اہم عالمی رجحان ہے . جس میںامریکہ۔چین کشیدگی، تجارتی جنگوں اور کرونا کے بعد سپلائی چین کے رُک جانے نے عالمی صنعتوں کو نئے فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔اس رجحان کی وجہ سے کمپنیاں مکمل طور پر چین پر انحصار نہیں کرنا چاہتیں، اس لیے وہ نئی جگہیں تلاش کر رہی ہیں جیسےویتنام،بھارت،میکسیکو،انڈونیشیا،مراکش،ملائیشیا شامل ہیں.جس کی بنیادی وجوہات میں سیاسی خطرات، ٹیکنالوجی کے کنٹرول کا تنازعہ،ممکنہ جنگی حالات،بار بار لاک ڈاؤن اور لاجسٹکس مسائل شامل ہیں. اس کے نتائج دیکھیںتو پتہ چلتا ہے کہ ویتنام کی برآمدات 5 سال میں دوگنی ہو گئیں، بھارت کو دنیا کی "نئی فیکٹری” کہا جانے لگا اور یورپ اور امریکہ اپنی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے دوست ممالک ("فرینڈشورنگ”) کا انتخاب کر رہے ہیں۔
اس طرحعالمی رجحانات میںماحول دوست کاروبار (Green Business) بھی اہم جزو ہے، کیونکہ دنیا اب ماحولیاتی ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کرتی ۔ جس کا اہم عنصر یورپ کا نیا قانون CBAM – 2025 ہے، جس کے مطابق اگر کسی ملک کا سامان زیادہ کاربن خارج کرتا ہے تو اس پر اضافی ٹیکس لگے گا۔اس وجہ سے کمپنیوں کی جانب سے مختلف اقدامات عمل میںلائے جا رہے ہیں، جیسا کہ توانائی کے لیے سولر، ونڈ اور صاف بجلی کا استعمال، پلاسٹک میں کمی، ماحول دوست پیکنگ، فضلے کی مقدار کم کرنا،کاربن فٹ پرنٹ کی رپورٹنگ شامل ہے. ان اقدامات کے تحت یونی لیور, نیسلے, آڈی, ٹویوٹا نے اعلان کیا ہے کہ 2030–2040 تک وہ "نیٹ زیرو” کمپنی بن جائیں گی۔اس لئے جو کمپنیاں ماحول دوست نہیں ہوں گی وہ مستقبل میں عالمی بازار سے باہر ہو جائیں گی۔
پاکستان کے لیے ان عوامل کے تحت تبدیلیوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 2025 میں عالمی قوانین، خاص طور پر یورپ کا CBAM، پاکستان کی برآمدات پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔جس سے خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر پاکستان کا کپڑا اور چاول اگر صاف توانائی سے نہ بنے تو یورپ میں ان پر بھاری ٹیکس لگے گا، جس سے ہماری برآمدات کم ہو سکتی ہیں۔
اس جدت اور گرین تبدیلی کے ساتھ چلنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میںبھی ان تبدیلیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے گرین انرجی کا فوری استعمال کرنا چاہیئے، صنعتی علاقوں میں سولر پینل لازمی بنائیں، نئی "گرین انڈسٹریل زونز” قائم کریں، ٹیکسٹائل ملوں میں کاربن مانیٹرنگ سسٹم لازمی قرار دیں. اس طرح ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ایمیزون، ای بے، علی ایکسپریس اور ڈروپ شپنگ کی تربیت دی جائے،جبکہ ٹیکسٹائل اور سرجیکل آلات کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ سینٹر بنائے جائیں. سپلائی چین میں شراکت داری کرتے ہوئے پاکستان خود کو کمپنیوں کے China Plus One ماڈل میں متبادل ملک کے طور پر پیش کرے، لیکن شرط یہ ہے کہ بجلی سستی ہو، کاروباری قوانین آسان ہوں اور ڈیجیٹل ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس جدید ہو.اس طرح علم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے AI، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس میں جامعہ سطح پر پروگرام بڑھائے جائیں اور انڈسٹری–یونیورسٹی اشتراک کو لازمی بنایا جائے.
2025 میں جو کمپنیاں کامیاب ہیں وہ تین خصوصیات رکھتی ہیں، جن میں ڈیجیٹل سسٹم پر مکمل مہارت، سپلائی چین کو ایک ملک تک محدود نہ رکھنا، اور ماحول دوست اور کم کاربن پیداوارشامل ہے. یہ تینوں رجحانات صرف بڑی کمپنیوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر ملک اور ہر صنعت کے لیے مستقبل کا راستہ ہیں۔اگر پاکستان نے تیزی سے ڈیجیٹل، گرین اور محفوظ سپلائی چین ماڈل نہ اپنایا تو ہماری برآمدات کم ہوں گی اور عالمی مقابلہ سخت ہوتا جائے گا۔
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔



