Untitled 2025 12 21T043802.478

ڈی آر سی کو زبردستی بے دخلی کا اختیار نہیں، ٹربیونل ہی مجاز اتھارٹی قرار — ہائیکورٹ

ملتان: لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے ایک اہم آئینی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح قرار دیا ہے کہ پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے تحت قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (DRC) کو کسی بھی شہری کو زبردستی بے دخل کرنے، قبضہ چھڑوانے یا قبضہ بحال کرانے کا کوئی اختیار حاصل نہیں، چاہے وہ عبوری بنیادوں پر ہی کیوں نہ ہو۔ عدالت کے مطابق یہ اختیارات صرف اور صرف مجاز ٹربیونل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

یہ فیصلہ غلام جیلانی آفتاب بنام حکومت پنجاب و دیگر کیس میں سنایا گیا، جس کی سماعت جسٹس احمد ندیم ارشد نے کی۔
Untitled 2025 12 21T043949.535
درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ملتان نے زبانی طور پر جائیداد خالی کرنے اور زبردستی بے دخلی کی دھمکی دی، جو کہ آرڈیننس 2025 کی روح اور قانونی طریقہ کار کے منافی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب متعلقہ بے دخلی کی درخواست پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ آرڈیننس 2025 کے سیکشن 7، 8 اور 10 کے تحت ڈی آر سی کا کردار تحقیقی، سہولت کاری اور مصالحتی نوعیت کا ہے، نہ کہ فیصلہ کن یا نفاذ کرنے والا۔ ڈی آر سی شکایت وصول کر سکتی ہے، ریکارڈ کا جائزہ لے سکتی ہے، فریقین کو سن سکتی ہے اور معاملہ ٹربیونل کو اپنی سفارشات کے ساتھ بھیج سکتی ہے، تاہم بے دخلی یا قبضے سے متعلق کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار اسے حاصل نہیں۔

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ آرڈیننس کے سیکشن 16 اور 17 کے تحت غیر منقولہ جائیداد کے قبضے کو منظم کرنے، عبوری احکامات جاری کرنے، قبضہ بحال کرانے اور حتیٰ کہ سرکاری مشینری کے ذریعے عملدرآمد کرانے کا مکمل اختیار ٹربیونل کو دیا گیا ہے۔ ڈی آر سی اگر ان اختیارات میں مداخلت کرے تو یہ قانون کے مناسب عمل (Due Process) کی خلاف ورزی ہوگی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکشن 9 کے تحت ڈی آر سی کو جو احتیاطی اختیارات دیے گئے ہیں وہ نہایت محدود، عارضی اور غیر تعزیری نوعیت کے ہیں، جن میں صرف ضمانت لینے یا جائیداد کو سیل کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں، وہ بھی تحریری اور وجوہات پر مبنی حکم کے ذریعے۔ کسی بھی قسم کی زبانی ہدایات یا من مانی کارروائی غیر قانونی تصور ہوگی۔

عدالت نے اس آئینی درخواست کو نمٹاتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈی آر سی، بشمول ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)، اپنے اختیارات کی حدود میں رہتے ہوئے درخواست پر کارروائی کرے، تمام فریقین کو سنے، ریکارڈ کا جائزہ لے اور منصفانہ، شفاف اور غیر جبری طریقہ اختیار کرے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی بھی جبری اقدام صرف مجاز ٹربیونل کے قانونی حکم کے تحت ہی ممکن ہوگا۔

یہ فیصلہ صوبہ پنجاب میں جائیداد کے تنازعات، ڈی آر سی کے اختیارات اور شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں