سعدیہ شکیل
” آسمان کسی غریب کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آج پہلا دن تھا کہ آسمان کے چھید رفوہوتے محسوس ہوتے ہیں .۔۔
” تب خزاں اپنا جشن منا رہی تھی ہریالی سے محروم ہوتے ،بھورے عنابی ،خاکی اور زرد پتے یہاں سے وہاں سر پٹختے بین کررہے تھے ۔ان پتوں پر بکھرے نقوش ۔۔۔۔۔
” پت جھڑ کے ستم رسیدہ درختوں کی شاخیں آسمان کی جانب دست بہ دعا ہوگئیں …
برسوں بعد ایسے جملے پڑھ کر ذہن کی دریچے کھلے تو ہم اپنی بالی عمر کو جا پہنچےجب ہم ڈائجسٹوں اور ان میں چھپنے والی سلسلہ وار کہانیوں کے دیوانےہواکرتے اور ڈائجسٹ پڑھتے ہوئے اسطرح کے اچھوتے جملے نوٹ کر لیا کرتے تھے پتہ نہیں کیوں یہ جملے نہ صرف دل کو بہت بھاتے بلکہ ذہن کی زمین پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آباد ہو جایا کرتے تھے، جنہیں ہم اپنی ڈائری میں من پسند نظموں غزلوں کے درمیاں سینت سینت کر رکھ لیا کرتے تھے،مجھے اچھی طرح یاد ہے میری شادی کے بعد اماں نے ردی والے کو میرے 300 ڈائجسٹ دیے تو میں یوں تڑپ کر روئی تھی جیسے گھر سے کسی بہت پیارے کا جنازہ اٹھایا گیا ہو،مجھے اپنی وہ تڑپ اور سسکیاں آج تک نہیں بھولتی ،روز اول کی طرح دل میں وہ درد آج بھی آباد ہے۔
پھر زمانہ ہوا ہم نے ڈائجسٹ پڑھنا چھوڑ دیا کیونکہ کہا یہ گیا کہ اب گھرداری سنبھالو بی بی ۔۔۔
یہ ڈائجسٹ پڑھنا تو لڑکیوں کے کام ہوتے ہیں،سو ہم نے اپنی سبھی شوخیاں و شوق لپیٹ کر کہیں رکھ چھوڑے ۔۔ برسوں بعد پھر وہی جملے پھر وہی دل کو چھوتی تحریریں پڑھ کر کر دل شاد ہوا،من کا نگر پھر سےآباد ہوا ذہن کی زمین تر و تازہ ہوئی…
یہ وہ چند لائنیں ہیں جو شہناز شورو کے دلِ گداز کی ترجمان ہیں۔
جی ہاں دلربا چہرے خوبصورت آنکھوں والی بہت پیاری سی مشہورو معروف رائٹر سندھ دھرتی کی نامور بیٹی افسانہ نگار ڈاکٹر شہناز شوروکی افسانوی تصنیف کوئی کہکشاں نہیں ہے” سے ماخوز یہ چند ستریں ہیں
جن کی تحریریں(افسانے)ان کی شخصیت کی طرح منفرد ہیں۔
افسانہ لکھتے ہوئے شہناز نے کسی اختصار سے کام نہیں لیا میرے خیال میں انہوں نے بہت پہلے ہی دوجہاں دیکھ رکھے ہیں جس کی گھتیاں سلجھانے کے لیے قلم رواں ہوا چاہتا ہے،اب خدارا مجھ پر فتوی لگانے سے پہلے دوجہاں سے مراد ۔۔۔۔۔۔۔ دو الگ نظام دو الگ دنیائیں اورجس میں بستی وہ مخلوق جسے ہم بڑی حسرت ویاس سے دیکھتے ہیں.
اونچی عمارتوں تیز رفتار زندگی اور اک منظم نظام کی اس دنیا کو شہناز نے( قدرت کے بچے)لکھ کر اس منظم نظام میں چھپی بے رحمی سے پردہ سرکایا ہے.
کاش میں تمہیں۔۔۔میرا بچپن دکھا سکتا ۔۔وہ ذلتیں وہ درد دِکھا سکتا، جنہوں نے میرا بچپن ،میرے لئے اک نہ ختم ہونے والا نائٹ میئر بنادیا ہے ۔۔۔۔.
شاید خونی رشتے مجبوری کے رشتے ہوتے ہیں جن سے منسلک رہنا معاشرتی مجبوری بنادیا گیا ہے،مگر ان کی حیثیت بائیلاجکل رشتوں سے زیادہ نہیں ہے.
شہناز کے افسانوں میں معاشرتی حقیقت نگاری کی گئی ہے کہانی کی متھ میں ہمیشہ اک گہرائی اتم موجود ہے بیک وقت دو مختلف ملکوں اور مختلف تہذیبوں کے مشترکہ اور متضاد عناصر کو یکجا کرنے کی سعی کرتی تحریریں۔
وہ پریس میں اپنا دیس نہیں بھولی…
شہناز نے اپنے دھرتی زادی ہونے کا حق ادا کیا انہوں نے واضح کردیا کہ ہجر عشق کو دوام بخشا کرتے ہیں۔اپنی شناخت اپنے وطن اپنی دھرتی کا عشق پردیسوں کے من میں خدا کی طرح بستا ہے.
شہناز کی تحریر میں زمانے کا شعور پوری آب و تاب سے موجود ہے،جس طرح ورجینا وولف نے وقت کے ایک ایک لمحے کو وقعت اور تکمیل بخشی اور کہا جاتا ہے ورجینا وولف کا اسلوب اک ایسا شفاف ادبی آلہ ہے، جو ہلکی سے ہلکی ارتعاش بھی پکڑ سکتا ہے،ایسا ہی قرہ العین حیدر کے بارے میں سننے کو ملا کہ قرہ العین حیدر کا طرز گو مغربی ادب سے مستعار تھا ،لیکن اردو ادب کے لئے نیا تھا اور اس نئے انداز میں ایک شگفتگی اور جاذبیت تھی وہیں شہناز شورو کے افسانے کا دائرہ ہر لحاظ سے وسیع ہے، تیکنیک،رجھان،موضوع و مواد ہر عتبار سے خاص طور پر دنیا کے مختلف ملکوں اور بڑی قدیم تہذیبوں،مذہبوں کے مشترکہ اور متضاد عناصر کو یکجا کرنے کی سعی جس میں وہ سربلند رہیں،اپنے افسانوں میں نپی تلی زبان اور حقیقی منظرکشی کے ذریعے شہناز دلوں کو زیر کرنے کا ہنر جانتی ہیں.
جدید دور میں جہاں انسان مادی ترقی کی انتہاپر ہے،وہیں انسان روحانی اور جزباتی طور پر خالی محسوس کرتا ہے،اس خالی پن کو افسانے کے کرداروں کے رویے ، بلا کسی تردد کے بیاں کئے،،،
کوئی کہکشاں نہیں ہے "میں شہناز نے جس طرح معاشرے کےعمومی رویوں ،طبقاتی تضاد اور انسانی رشتوں کے چہروں سے پردے ہٹائے ہیں وہیں عورت کی ذہنی اور جذباتی کیفیت اس کی آزادی اور سماج میں اس کے مقام کی کشمکش کو اجاگر کیا عورت کے حقوق ان کی سماجی حیثیت کے ساتھ اندرونی کیفیت کو کمال خوبصورتی سے بیان کرتی ہیں جو اکثر روایتی سماج میں کہیں دب کر رہ جاتے ہیں،اگر میں یہ کہوں کہ ڈاکٹر شہناز شورو کی کہانیاں اک آئینہ ہیں جس میں ہمارا معاشرہ اپنی حقیقی شکل میں نظر آتا ہے تو غلط نہٰیں ہوگا.
"اب احساس ہوتا ہے کہ اسے خفگی یا پشیمانی کا حق تھا ہی نہیں اس کی نسل کے مقدر میں یہ حق درج ہی نہیں تھا، کہ شکایت کرسکیں مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ دادی ،دادی نہیں کمی تھی،کمین تھی ہمارے خاندان کی اطاعت کرنا اس کی جنم کنڈلی میں لکھ دیا گیا تھا،سو وہ اس سے منحرف نہیں ہوسکی. ۔. بخت آور ”
;کیا مشرقی عورت کی بغاوت صرف خود سے انتقام ہے
اپنی ہی بربادی کا نام ہے۔۔ اپنی ہی زات،جسم اور روح کو روندنے کا نام ؟
۔۔۔۔ کیا کچرا تھی زندگی یوں flushکردیا جیسے کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔کچھ معنویت ہی نہ ہو زندگی جیسی انمول چیز ۔۔ یوں بے رحمی سے گنوا دی. "من کی ملکہ
یونیورسٹی آف سندھ سے پہلے انگریزی ادب اور پھر اردو ادب میں ایم اے کیا،یونیورسٹی آف ٹاٹینگم برطانیہ سے انگریزی زبان اور ٹیچنگ میں ایم اے اور یونیورسٹی آف یارک کے وومن سٹڈیز ڈپارٹمنٹ سے غیرت کے نام پر قتل،۔عورتوں اور مردوں کے مختلف مؤقف،کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے تدروتدریس سے وابستہ میر پور خاص میں جنم لینے والی پروفیسر ڈاکٹر شہناز شورو کے خمیر میں سندھ دھرتی کی مٹی ہی نہیں اس کی خوشبو اس کی لافانی محبت بھی شامل ہے، یہی محبت ان کے کے افسانوں میں بطور خاص نظر آتی ہے،وہیں گہری نگاہ اور شعور بولتا نظر آتا ہے.
"اس مہرباں انگریز بوڑھے کے لئے لفظ بابا ”کا مفہوم کیا تھا۔شاید بلکل الگ بلکل جدا۔ مگر وادی سندھ کے اسیر ان لفظوں سے ایسے تعلق جوڑ لیتے ہیں،جن کے اسباب معلوم نہیں لاشعور کی کن گہرائیوں میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور بلاوجہ اک عمر دل میں درد جگائے رکھتے ہیں
موہن جودڑو اور لندن میں بہت فاصلہ ہے۔زمانی اور مکانی کے علاوہ زبانی ورمانی بھی تو زہنی اور روحانی بھی۔پرائی زبان سیکھنے اور بولنے کی معاشرتی مجبوریاں اپنی جگہ ،زبان۔کے سیاق وسباق کی عمیق گہرایوں تک پہنچنے کے لئے کئی نسلوں کو اپنی ہڈیاں گلانی پڑتی ہیں،تب کہیں جاکر کسی زبان کی معنویت ومذاق کے چیدہ و چنیندہ کنارے انساں پناہ پاتا ہے۔تہذیبی رکھ رکھاؤ اور بولیوں کی ان دیکھی دوریوں کے باوجود کیسے کوئی ایک لفظ اتنے ڈھیر سارے فاصلوں کو محض اپنی لفظی وصوتی،تخلیقی وتصوراتی توانائی سے مات دے دیتا ہے۔ ۔
لوگ لفظ اور انا۔زوال دکھ ،نظر نظر کی بات۔برگ ِسبز یا قرطاس سیاہ۔
سوزوسازِ لطیف
the real stories behind. hornour kiling
Horonurkiling second Desaide of the 21 century
جیسے جوہر شہناز نے اپنے رواں قلم سے سینچے ہیں خاص طور پر اپنے سرتاج اکبر لغاری صاحب جو کہ سابق سیکرٹری تعلیم اور نامور ادیب ، تنقید نگار کئی کتابوں مصنف ہیں،ان کی تنقیدی تصنیف کا "ادبی تنقید کی تاریخ ؛کے نام سندھی سے اردو میں ترجمہ بھی شامل ہے۔
کوئی کہکشاں نہیں ہے،شہناز شورو کی تیسری افسانوی تخلیق ہے،جو جدید ادب کی نہ صرف نمائندگی کرتی ہے بلکہ کیپٹلزم کے دور سے جنم لینے والی سبھی کٹھنایوں سے روشناس کراتے ہوئے یہ صدا بھی لگاتی ہیں۔۔۔
انہی پتھروں پہ چل کہ اگر آسکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
جنرل سیکرٹری سرائیکی عوامی تریمت تحریک کی وال سے شکریہ کے ساتھ
