fe99b940 53c5 415b a477 a62e769b5aa4

مقدمات کے لئے بائیومیٹرک ختم نہیں‌کرنے پر عدالتی تالہ بندی، پتلے جلانے کا اعلان

ملتان:عدالتوں میں مقدمات کی دائری کیلئے سائلین کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق کے خلاف وکلاءنے عدالت عالیہ ملتان بینچ کے احاطہ میں عدالتوں کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا بھی دیا، جس کی قیادت ہائیکورٹ بار ملتان کے سابق صدر سید ریاض الحسن گیلانی نے کی.

وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں سائلین کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کا نظام غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہا ہے اور انصاف کے حصول کے عمل کو سست بنا رہا ہے.موجودہ عدالتی پالیسیوں نے انصاف کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے.ان کا کہنا تھا کہ پہلے جی آر سی (GRC) کے ذریعے ایک نئی رکاوٹ پیدا کی گئی اور اب بائیومیٹرک تصدیق کی شرط عائد کر دی گئی ہے.
WhatsApp Image 2026 05 06 at 19.33.07
ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے سابق صدر ریاض گیلانی نے کہا کہ جہاں ملک بھر میں سپریم کورٹ کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے شروع ہو چکی ہے، وہاں پنجاب میں اس سہولت کو تاحال نافذ نہیں کیا گیا، جو سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے بایئومیٹرک ویریفکیشن پر عائد 200 روپے فیس کو "انصاف پر ٹیکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سے 60 روپے وکلاء اور 20 روپے عدالتی عملے کو دینے کی بات کی جا رہی ہے، جسے وکلاء مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وکلاء یہ رقم لینے کے لیے تیار نہیں اور مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات ختم کئے جائیں، جو عوام کی انصاف تک رسائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں، ان کے مطابق کسی بھی شہری کی شناخت کے لیے شناختی کارڈ اور وکیل کی تصدیق کافی ہوتی ہے، بائیومیٹرک سسٹم غیر ضروری بوجھ ہے.

انہوں نے اعلان کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ شرط ختم نہیں کی جاتی، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 13 مئی تک مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو آئندہ بدھ کو ضلع کچہری میں سیشن جج کی عدالت کے سامنے دوبارہ احتجاج کیا جائے گا، جس میں عدالتوں کی تالہ بندی اور ممکنہ طور پر اعلیٰ شخصیت کا پتلا نذر آتش کیا جائے گا.
b0f808a2 dfc5 4a4a bcee 124011e421e3
انہوں نے مزید کہا کہ آج پولیس کی جانب سے احتجاج روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وکلاء نے واضح پیغام دیا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے، انہوں نے کہا کہ جب کالا کوٹ پہن لیتے ہیں تو ہم ڈرتے نہیں،انہوں نے کہا کہ اگر گرفتاری یا جیل بھیجنے کی نوبت آئی تو وکلاء اس کے لئے بھی تیار ہیں اور ہر قسم کا ریاستی دباؤ برداشت کریں گے، مگر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وکلاء برادری نے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے، نہ کہ اس میں مزید رکاوٹیں پیدا کی جائیں۔اس موقع پر وکلاء نے نعرے بازی بھی کی.

مظاہرے و دھرنے میں سابق صدور ہائیکورٹ بار سید اطہر حسن بخاری،عرفان وائیں اور چوہدری طاہر محمود،سابق صدور ڈسٹرکٹ بار وسیم ممتاز، ملک محبوب علی سندیلہ،محمدیوسف زبیر، وکلاء سید ذاکر حسین نقوی،سید اقبال مہدی زیدی،خالد فاروق خان ،سجاد حسین ٹانگرہ ،رانا عمردراز خان ، عابدبودلہ ،چوہدری اشرف ، بابر محمود افضل ،کوثر پروین،میمونہ نقوی، اعتزاز لطیف کھوکھر ،منورثاقب،شیخ ارشد ، چوہدری عرفان سندھو، ثمینہ چغتائی،شمیم ہنجرا،ثوبیہ اسلم، ثوبیہ چوہان،کنول اشرف، طوبیٰ حمید ، شہزاد چغتائی،محمد اسلم راؤ، رانا خلیق، اورنگزیب خان،نعیم اللہ خان ڈومرا، سرفرازخان ملیزئی سمیت ملتان بار کے ممبران کی بڑی تعداد نےشرکت کی.

اپنا تبصرہ لکھیں