لاہور: بسنت کی تیاریاں عروج پر،چار روز میں ایک ارب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت ہوگئی.
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کےمطابق چوتھےروزبھی پتنگوں اور پنوں کی خریدو فروخت عروج پر ہے، مارکیٹس میں 10 لاکھ سے زائدگڈے پتنگیں فروخت ہوچکےہیں،چوتھے روز مارکیٹس میں 20 ہزار سے زائد پنے فروخت ہوئے۔
ترجمان کےمطابق ڈیڑھ تاوا گڈا 700روپے،ایک تاوا 400 روپے اور پونا تاوا 300 روپےمیں فروخت ہورہا ہے، جبکہ 2 پیس کاپنا 12 سے 15ہزار کا فروخت ہو رہا ہے، چوتھے روز پتنگوں کے ریٹ میں اضافہ کیساتھ دستیابی بھی رہی۔
لاہور میں بسنت کے موقع پر کھانوں کے آرڈر بُک ہونے لگے ، ہوٹلوں میں بُکنگ بڑھنے لگی ، بیرونِ ملک سے لوگ بسنت منانے لاہور پہنچنے لگے۔لاہور کے مشہور ذائقوں کا مزہ چھکنے کے لیے پکوان سینٹرز کو ڈھیروں آرڈرز مل چکے ہيں ۔ کنا، ہریسہ، مرغ چنا، کڑاہی، نہاری، پائے، حلیم اور حلوہ پوری ، ہر پکوان سینٹر کا روزگار چمک اٹھا۔ماہرین کے مطابق بسنت کے 3 دنوں میں فوڈ انڈسٹری اور ہوٹل انڈسٹری میں اربوں روپے کا کاروبار متوقع ہے۔
اس کے علاوہ بسنت پر لاہور میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے،جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں،10 ہزار پولیس اہلکار،25 سو ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے،چیف ٹریفک آفیسر نے پورے پاکستان کو لاہور میں بسنت منانے دعوت دیدی۔شہر کےداخلی راستوں کے علاؤہ ریڈ زون میں سیف سٹی کیمروں سے براہ راست مانیٹرنگ کی جائے گی ۔ ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی۔
چیف ٹریفک آفیسر اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ زید زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کرکے آپریشنل کیے جائیں گے،براہ راست مانیٹرنگ ہوگی۔ ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ریسکیو اور پولیس سمیت 15 محکموں کی مشترکہ ٹیمیں متحرک رہیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول کو مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔
دوسری جانب سال 2025 تک پاکستان کی تقریباً 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے (یومیہ 4.20 ڈالر)، جو کہ ورلڈ بینک کے نظرثانی شدہ معیار، بلند مہنگائی اور معاشی تناؤ کے باعث نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس 2024 کے مطابق پاکستان 194 ممالک میں 164ویں نمبر پر ہے، جبکہ ملک ان پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں کثیرالجہتی غربت سب سے زیادہ ہے، جس سے 38.3 فیصد آبادی متاثر ہے۔

