اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نےماں اوربچےکی صحت کیلئےبچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ناگزیرقراردےدیا ہے۔
اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل اور پاپولیشن کونسل کے اشتراک وسائل و آبادی میں توازن کے موضوع پر مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل اور پاپولیشن کونسل کے حکام نے شرکت کی۔
پاپولیشن کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 11 ہزار خواتین بوجہ حمل و زچگی موت کا شکار ہو جاتی ہیں، پاکستان میں حاملہ خواتین کی شرح اموات دیگراسلامی ممالک میں سب سے زیادہ ہے، پاکستان میں 1000 میں سے 62 بچے ایک سال کی عمر سے پہلے ہی موت کا شکار ہو جاتےہیں۔
کونسل کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سےکم عمر 40 فیصد بچوں کا قد عمر کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے،18 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار اور 29 فیصد بچے وزن کی کمی کا شکار ہیں، پاکستان میں ہر تیسرا بچہ اسکول سے باہر ہے، علمائےکرام قران و سنت کی روشنی میں درس دیں کہ دو سال تک ماں بچےکو دودھ پلائے۔
پاپولیشن کونسل کا کہنا تھا کہ بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ ماں اور بچے کے لیے مفید ہے، وقفے سےماؤں اور نومولود بچوں کی شرح اموات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ ماہرین صحت کی جانب سے پاکستان میںخواتین کی صحت اور بچوںکی قبل از پیدائش اموات یا خواتین کی دوران زچگی اموات روکنے کے لئے بچوں کی پیدائش میںوقفہ ناگزیر قرار دیتےہیں.
عالمی ادارے بھی پاکستان میںبڑھتی ہوئی آبادی، کم وسائل کے ساتھ ماں اور بچے کی صحت کے معاملات پر فنڈنگ کرنے کے ساتھ تشویش کا اظہار بھی کر چکے ہیں.
اس طرح پاکستان میںمحکمہ بہبود آبادی کی جانب سے بھی کئی دہائیوںسے پاکستان میںآبادی میںاضافے اور ماںو بچے کی صحت کے لئے مہم چلانے کے ساتھ اربوںروپے بھی خرچ کر چکے ہیں.