Untitled 2025 08 04T234606.850

ملتان میں ہندو بھجن کی ابتدائی گراموفون ریکارڈنگ کا تحقیقی و تاریخی جائزہ

سید خالد جاوید بخاری

برصغیر پاک و ہند میں موسیقی، مذہبی گیت، اور صوفیانہ کلام کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ ان میں ہندو بھجن ایک اہم روحانی صنف ہے جو دیوی دیوتاؤں کی مدح سرائی اور بھگتی پر مبنی ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب برصغیر میں گراموفون ٹیکنالوجی متعارف ہوئی، تو اس نے موسیقی کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔راقم الحروف نے ملتان شہر میں ہندو بھجنوں کی ابتدائی گراموفون ریکارڈنگ کی تاریخ، شخصیات، ادارے، اور سماجی اثرات کا تحقیقی و تاریخی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

گراموفون ایک مکینیکل آلہ تھا جو آواز کو ریکارڈ کرنے اور سنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کو برصغیر میں پہلی مرتبہ 1902 میں گراموفون اینڈ ٹائپ رائٹر کمپنی (Gramophone & Typewriter Company) کے توسط سے کلکتہ میں متعارف کروایا گیا۔ ابتدائی ریکارڈنگز میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی فنکاروں نے مذہبی و کلاسیکی گیت گائے۔

ملتان برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ہے اور اسے صوفیاء، پنڈتوں، اور صوفی سنتوں کی سرزمین مانا جاتا ہے۔ یہاں ہندو آبادی کی خاصی تعداد موجود تھی، جن میں بنیا، کاٹھیا، برہمن، مارواڑی اور سندھی خاندان شامل تھے۔ ان خاندانوں کے گھروں میں بھجن گانے، کتھا سنانے اور کیرتن کی روایت عام تھی۔
Untitled 2025 08 04T234558.518
1920 کی دہائی کے بعد جب لاہور، دہلی اور بمبئی میں گراموفون ریکارڈنگ کا عمل مستحکم ہوا، تو ملتان جیسے اہم شہروں میں بھی گراموفون کمپنیاں دلچسپی لینے لگیں۔ سب سے پہلے His Master’s Voice (HMV)، Columbia Records اور The Twin Company نے یہاں کے مقامی گلوکاروں کو ریکارڈنگ کی دعوت دی۔

ابتدائی ریکارڈ شدہ ہندو بھجن گلوکار میں‌ملتان سےہنس راج ملتانی (Hans Raj Multani) کو ملتان کا پہلا ہندو گلوکار تصور کیا جاتا ہے، جس نے گراموفون پر بھجن ریکارڈ کروائے۔ ان کے بھجنوں میں "رادھے رادھے جپو چلے آئیں” اور "سیتا رام نام لِے لے” جیسے بھگتی گیت شامل تھے۔ یہ ریکارڈ HMV کی 78 RPM سیریز میں 1931 میں جاری ہوا۔

کیشو رام شرما ملتان کے کاشتکار خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن بھجن گائیکی میں خاص شہرت حاصل کی۔ ان کے بھجن "رام سمرن کر لو بندو” اور "ہر ہر مہادیو” خاص مقبول ہوئے۔ ان کے ریکارڈز کو کولمبیا کمپنی نے لاہور اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا۔

لکشمن داس وج (Laxman Das Vij) بنیادی طور پر کتھا اور کیرتن سنانے والے گلوکارتھے، جن کے بھجنوں میں ویدانت اور اُپنشدی فلسفے کی جھلک ملتی ہے۔ ان کے بھجن سنسکرت و اردو کے آمیزے میں ہوتے تھے اور ان کی آواز میں مذہبی رچاؤ موجود تھا۔
Untitled 2025 08 04T235415.075
ریکارڈنگ کمپنیوں میں His Master’s Voice (HMV)، نے برصغیر میں سب سے زیادہ گراموفون ریکارڈ HMV نے شائع کیے۔ ملتان کے گلوکاروں کے لیے لاہور اور دہلی میں ریکارڈنگ کی سہولت فراہم کی گئی۔ HMV کی 1930–40 کی دہائی کی کیٹلاگ میں "Bhajans by Multani Singers” کے عنوان سے سیکشن شامل تھا۔

کولمبیا ریکارڈز نے ہندوستان کے مقامی گیتوں کو ریکارڈ کرنے میں زیادہ دلچسپی لی۔ ملتان کے کئی فنکاروں کو لاہور میں بلوایا گیا، جہاں بھجنوں کی ریکارڈنگ ہوئی۔اس طرح Twin Records، ایک چھوٹی مگر فعال کمپنی تھی جو علاقائی زبانوں اور لہجوں میں ریکارڈنگ کرتی تھی۔ ان کے ریکارڈز میں ملتانی، پنجابی اور سندھی بھجن شامل تھے۔

بھجنوں کے مشہور موضوعات میں‌رام اور کرشن بھگتی، دیوی کی استوتی، مہا بھارت اور رامائن کے کرداروں کی تعریف اور سنسکرت شلوک اور ویدانت پر مبنی نغمے شامل تھے.

ریکارڈنگز کی شناخت اور اثرات کے حوالے سے گراموفون پر ریکارڈ ہونے والے بھجن بعد میں ریڈیو پاکستان لاہور و ملتان کے آرکائیو کا حصہ بنے۔ ان ریکارڈز نے ملتانی موسیقی کو برصغیر میں شناخت دی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ہندو بھجنوں کو سننے والوں میں مسلمان، سکھ اور عیسائی بھی شامل تھے۔ موسیقی کی اس ہم آہنگ روایت نے ملتان میں بین المذاہب رواداری کو فروغ دیا۔

ملتان میں ہندو بھجنوں کی گراموفون ریکارڈنگ نہ صرف ایک ثقافتی سنگ میل تھی بلکہ اس نے مذہب، موسیقی، اور ٹیکنالوجی کے اشتراک سے ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ ان ابتدائی گلوکاروں نے نہ صرف ملتانی ورثے کو محفوظ کیا بلکہ برصغیر میں ہندو مذہبی گیتوں کو عالمی سامعین تک پہنچایا۔ ان کی کاوشوں کی بدولت آج بھی ان کی آوازیں محفوظ ہیں اور ان کا اثر ثقافتی ورثے میں زندہ ہے۔

تحقیقی ذرائع و مراجع …..
The Gramophone Company’s First Indian Recordings (1902–1910) – Michael Kinnear
HMV India Catalogue 1930–1940 – National Sound Archive, UK
ریڈیو پاکستان لاہور آرکائیوز
لوک ورثہ اسلام آباد – "برصغیر کی گائیکی کی تاریخ”
پنجاب آرکائیوز، لاہور – "ملتان میں گراموفون دور کا آغاز”

Untitled 2025 06 04T010448.935
خالد جاوید بخاری
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں