Untitled 2025 08 05T204522.672

ملتان میں ہندو تھیٹر کے سماجی و ثقافتی اثرات

سید خالد جاوید بخاری

ملتان، جو برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، مختلف مذاہب، ثقافتوں اور فنونِ لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہندو مت، بدھ مت، جین مت، اسلام، اور سکھ مت کے پیروکاروں نے صدیوں تک بود و باش کی۔ اس تہذیبی تنوع نے نہ صرف مذہبی مقامات بلکہ فنون جیسے موسیقی، رقص اور تھیٹر کو بھی پروان چڑھایا۔ اس تحقیقی مقالے کا مقصد موجودہ ملتان (اور گردونواح) میں ہندو تھیٹر کی ابتداء، اس کے ارتقاء، مقاصد، اداکاروں، ناظرین، اور اس پر حکومت وقت کے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

برطانوی قبضے کے بعد (1849ء) جب ملتان پنجاب کا حصہ بن کر براہِ راست برطانوی راج میں آیا تو یہاں کے سماجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ خصوصاً تعلیمی اداروں اور پریس کے قیام کے ساتھ ڈرامہ اور تھیٹر کو ابھار ملا۔ہندو سماج کے اندر "کیشو چندر سین”، "راجا رام موہن رائے” اور "ایشور چندر ودیاساگر” جیسے اصلاح پسندوں کے اثر سے ادبی اور ثقافتی تحریکیں بھی اُبھرنے لگیں، جن کا عکس ملتان میں بھی نظر آیا۔
Untitled 2025 08 05T203414.541
ملتان میں ہندو تھیٹر کی پہلی جھلک 1870ء کی دہائی میں دکھائی دیتی ہے جب پہلا چلتا پھرتا تھیٹر "رام چندر بھاٹیہ” نامی ایک کاروباری شخصیت نے شروع کیا۔یہ تھیٹر مختلف ہندو تہواروں (جیسے رام نومی، دیوالی، جنم اشٹمی) کے موقع پر رام لیلا، بھکت پرہلاد اور ہنومان نٹک جیسے مذہبی ڈرامے پیش کرتاتھا۔

اس دور میں تھیٹر اب محض مذہبی رسومات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں سماجی اصلاحات اور برطانوی راج کے خلاف نرم مزاحمت کے پہلو بھی شامل ہونے لگے۔اس وقت کے مشہور ڈرامو ں اور موضوعات میں رام لیلا (رامائن پر مبنی)، سیتا ہرن، ہرش چندر نٹک، بھکت پرہلاد اور سود گر (ایک سماجی اصلاحی ڈرامہ) شامل ہے، تھیٹر عام طور پر ہندو دھرم شالاؤں، پراآکاش آشرم، بالمیقی مندر یا بازار حسین آگاہی میں لگایا جاتا۔بعض ڈرامے اوپن ایئر تھیٹر کی صورت میں قریبی دیہات میں بھی پیش کیے جاتے۔

ابتدائی دور میں زیادہ تر اداکار دلت، برہمن اور ویش برادری کے نوجوان ہوتے، جبکہ عورتوں کے کردار مرد اداکار ہی نبھاتے کیونکہ اس وقت خواتین کا تھیٹر میں آنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔اس طرح‌ ناظرین میں ہندو، سکھ، بعض مسلمان، اور انگریز مشنری حضرات بھی شامل ہوتے۔یہ تھیٹر نہ صرف تفریح بلکہ تعلیم، مذہبی رواداری، اور اخلاقی درس کا ذریعہ تھا۔

اس تھیٹر کے مقاصد میں‌ہندو مذہبی تعلیمات کی ترویج، ذات پات کی اصلاح، برطانوی نظام کی نرمی سے تنقید اور سماجی بیداری (مثلاً بیواؤں کی شادی، جہیز، تعلیم نسواں) شامل تھا.
Untitled 2025 08 05T203919.078
1920ء – 1947ء: تھیٹر کے عروج اور سیاسی رنگ کے طور پر اس دور میں حکومت برطانوی راج کا آخری مرحلہ تھا۔
تحریک آزادی زوروں پر تھی اور گاندھی جی، نہرو، اور ٹیگور جیسے رہنما ثقافت کو بھی آزادی کی جدوجہد کا حصہ بنا چکے تھے۔ رام لیلا کے علاوہ بھارتی قوم پرستی پر مبنی ڈرامے بھی ہونے لگے۔ڈراموں میں برطانوی افسران کی کرپشن یا ہندوستانی عوام کے مصائب پر روشنی ڈالی جاتی۔سٹیج پر سنہالی، برج بھاشا اور اردو میں مکالمے شامل ہوتے۔

ملتان میں ہندو تھیٹر نے محض تفریح کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک روحانی، تعلیمی اور اصلاحی تحریک کا روپ دھارا۔ برطانوی دور میں تھیٹر کو ایک مہذب اور باشعور طبقے کی نمائندگی ملی، جس نے نہ صرف مذہبی شعور کو بیدار کیا بلکہ عوام کو سماجی اصلاحات اور قومی بیداری کی طرف بھی راغب کیا۔ یہ ثقافتی ورثہ آج بھی تحقیقی مطالعہ اور ورثے کی حفاظت کے لیے قابل توجہ ہے۔

اہم حوالہ جات:…..
"Bhakti Movement in India” by Dasgupta (1947, Calcutta University)
"Cultural History of India” – A.L. Basham
Punjab District Gazetteer (Multan) – 1911, 1921 editions
"Indian Theatre” – Faubion Bowers, Oxford Press
"Colonialism and its Forms of Knowledge” – Bernard Cohn
ملتان شہر کا گزٹ، 1935ء (اردو ایڈیشن)
شری ہنومان مندر اور پراآکاش آشرم کے ہینڈ بلز (موجودہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے ریکارڈ میں)

Untitled 2025 06 04T010448.935
خالد جاوید بخاری
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں