ڈیرہ اسماعیل خان:نواحی علاقہ میں یکطرفہ پنچائیتی نظام سے تنگ آ کر 6 بیٹیوں کی باپ نے بے بسی محسوس کرتے ہوئے انصاف کیلئے آڈیو پیغام ریکارڈ کرکے خودکشی کرلی۔

ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان کے مطابق واقعہ میںملوث تین ملزموں کو گرفتار کر لیا گیاہے جبکہ ایک پنچایتی کی تلاش جاری ہے ۔
پولیس کے مطابق چند دن قبل بگوانی شمالی کے عادل نامی حجام کی بڑی بیٹی کی شادی میں ملزم فرید کی بیٹی کو عادل حجام کے بھانجے سے گفتگو کرتے دیکھا گیا، جس پر ملزم فرید نے اسے اپنی عزت خراب ہونے کا مسلئہ بنا کر عادل حجام کو پنچایت میں بلا لیا، پنچایت نے ملزم فرید کی بیٹی سے گفتگو کرنے کی پاداش میں عادل حجام کے بھانجے کو 7 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا.
جرمانہ وصول کرنے کے باوجود چند دن بعد ملزم فرید نے پھر اس مسلئہ کو پنچایت میں اٹھا کر عزت کے بدلے عزت مانگی تو پنچایت نے عادل حجام کی 12 سالہ بیٹی کو زبردستی ونی قرار دیکر ملزم فرید کے بیٹے سے نکاح میں دینے کا فیصلہ سنا دیا۔
پنچائیت کے سرکردہ افراد نے سٹامپ پیپر پر بچی کے والد سے زبردستی انگوٹھے ثبت کرا لئے، جس پر متوفی عادل نے خود کو بے بس پایا اور خودکشی کر لی۔
بچی کو ونی چڑھانے اور بچی کے باپ کی خودکشی کی خبر سامنے آنے پر پولیس حرکت میں آ گئی، ڈی پی او کے احکامات پر پہاڑپور پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے۔ڈی پی اور سجاد احمد صاحبزادہ کے مطابق پنچایت کے اراکین اور دیگر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، ابتدائی طور پر تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

https://www.facebook.com/share/1FVVvQ3ggw/
متوفی کی آڈیو، ویڈیو اس لنک پر بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے.