صفورا امجد
” ڈنکی لگانا ” ایک ایسا شارٹ کٹ ہے جو حقیقت میں سب سے مہنگا اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ڈنکی کا سفر کبھی بھی محفوظ نہیں ہوتا۔ جان کا خطرہ، انسانی اسمگلنگ ، مالی نقصان ،گرفتاری اور ڈیپورٹیشن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. اس طریقے میں مختلف لوگ خصوصاً ایجنٹس اور اسمگلرز خفیہ اور خطرناک راستوں سے سفر کرتے ہیں. ڈنکی لگانے کا رجحان مسلسل بڑھتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور بہتر مستقبل کی خواہش ہے.
ڈنکی لگانے والوں کا مشکلات بھرا سفر صرف بیرون ملک پہنچنے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ قانونی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو آسانی سے رہائش اختیار کر پاتے ہیں اور نہ باقاعدہ نوکری حاصل کر سکتے ہیں اس طرح خوف کی زندگی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔ ڈنکی لگانے کے دوران سب سے بڑی مشکل ہر قدم پر گرفتاری کا خطرہ ہے۔ ایجنٹس مکمل حفاظت اور سہولیات کا وعدہ تو کرتے ہیں لیکن اکثر اوقات مسافروں کو بیچ راستے میں چھوڑ دیا جاتا ہے یا مزید پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ بارڈر فورسز غیر قانونی داخلے پر سخت کاروائی کرتی ہیں جس کی وجہ سے گرفتاریوں،جرمانے اور ڈیپورٹیشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
ڈنکی لگانا چونکہ ایک غیر قانونی عمل ہے اس لیے اس کا باقاعدہ سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے لیکن مختلف رپورٹس یہ واضح کرتی ہیں کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں میں سب سے زیادہ حصہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ہوتا ہے۔کچھ رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 4 سالوں کے دوران ڈنکی لگا کر یورپ جانے کی کوشش میں سمندری اور کشتی حادثات کے دوران کم از کم 335 پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں.
ڈنکی لگانے والوں کا خود کا سفر تو مشکلات سے بھر پور ہوتا ہی ہے۔ ساتھ ہی گھر اور خاندان بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں ۔ گھر والے ہر وقت اس کی خیریت کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہےکہ گھر والوں کو اپنے پیاروں کی لاش یا گمشدگی کی خبر ملتی ہے۔ جس سے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوشش کریں. لوگوں میں آگاہی بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ لوگ اس طرح کے دھوکے اور ہتھکنڈوں سے بچ سکیں. ڈنکی لگانا وقتی طور پر بہتر مستقبل کا راستہ نظر آتا ہے لیکن اس کے نتائج خطرناک اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔


