WhatsApp Image 2026 10 14 at 07.18.26

پاکستان کی موجودہ صورتحال اور عوامی مستقبل سے جڑے مسائل

اکرام بکائنوی

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف معاشی استحکام کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف عوام کی زندگی میں مہنگائی، بے روزگاری، غربت، سیاسی کشیدگی اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل مسلسل موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس زرخیز زمینیں، قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت، جغرافیائی اہمیت، قابلِ ذکر صنعتی صلاحیت اور باصلاحیت ذہنوں کی کمی نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان تمام امکانات کے باوجود عام پاکستانی کی زندگی میں وہ آسودگی کیوں نہیں آ سکی جس کا خواب آزادی کے وقت دیکھا گیا تھا؟ کیا ہمارا مسئلہ وسائل کی کمی ہے، یا ان وسائل کو درست انداز میں استعمال کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے اور قومی ترجیحات کا تعین کرنے میں ناکامی؟

پاکستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جذباتی نعروں اور سیاسی وابستگیوں سے بلند ہو کر حقائق کا جائزہ لیں۔ کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارے کو تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دینا آسان ضرور ہے، مگر کسی قومی بحران کی مکمل تشخیص کے لیے تاریخ، معیشت، حکمرانی، معاشرت اور عوامی رویوں کا غیر جانب دارانہ مطالعہ ضروری ہے۔
WhatsApp Image 2026 09 17 at 10.16.57
پاکستان کا سب سے نمایاں مسئلہ معیشت اور عام شہری کی قوتِ خرید ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر 2026 میں ماہانہ صارف قیمت اشاریے میں سالانہ بنیاد پر 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال 2025-26 میں مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی۔ بظاہر یہ اعدادوشمار معاشی سرگرمی میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن کسی بھی ملک کی معاشی کامیابی کا فیصلہ صرف مجموعی پیداوار یا مہنگائی کی شرح سے نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بہتری کا فائدہ کتنے گھرانوں تک پہنچا، روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے اور عام آدمی کی حقیقی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا؟

یہاں ایک بنیادی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب اشیا کی قیمتوں میں لازماً کمی نہیں ہوتا۔ اگر آٹا، بجلی، گیس، کرایہ، علاج اور تعلیم پہلے ہی مہنگے ہو چکے ہوں تو قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہونے کے باوجود عوام کو سابقہ مالی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ کم آمدنی والے خاندان کے لیے چند ہزار روپے کا اضافی خرچ بھی گھریلو بجٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔ جب تنخواہ محدود ہو، بچوں کی تعلیمی ضروریات بڑھ رہی ہوں اور علاج معالجے کے اخراجات برداشت سے باہر ہوں تو معاشی اعدادوشمار کی بہتری کا حقیقی فائدہ اسی وقت محسوس ہوگا جب اس کے اثرات عام شہری کی زندگی میں نظر آئیں گے۔

ورلڈ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی حقیقی معاشی نمو 3.7 فیصد رہی، تاہم روزگار پیدا کرنے کی رفتار بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ادارے کے مطابق ہر سال تقریباً 35 لاکھ افراد روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ 2024-25 میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ دیا گیا۔ یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ معاشی استحکام اور عوامی خوش حالی دو الگ مگر باہم مربوط اہداف ہیں۔ اگر معیشت کی رفتار بڑھ رہی ہو لیکن روزگار، اجرت اور بنیادی سہولتوں میں متناسب بہتری نہ آئے تو معاشی ترقی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچتے۔
WhatsApp Image 2026 05 04 at 23.00.09
بے روزگاری بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور دینی مدارس سے تعلیم مکمل کرنے والے ہزاروں نوجوان ملازمت کی تلاش میں دربدر ہوتے ہیں۔ بعض افراد ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود اپنی تعلیمی قابلیت سے کم درجے کے کام کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ بہت سے نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بیرونِ ملک کام کرنا بذاتِ خود کوئی منفی بات نہیں، کیونکہ ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن جب ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد بہتر مواقع کی عدم دستیابی کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور محسوس کریں تو یہ پالیسی سازوں کے لیے غوروفکر کا معاملہ بن جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف سرکاری ملازمتوں میں اضافہ نہیں۔ پاکستان کو ایسی معیشت درکار ہے جس میں چھوٹی صنعتوں، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنی تعلیم، برآمدات اور مقامی کاروبار کو فروغ ملے۔ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر سکھائے جائیں، چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرضے اور شفاف سہولتیں فراہم کی جائیں اور سرمایہ کاروں کو پالیسیوں کے تسلسل کی ضمانت دی جائے۔ روزگار کی پائیدار بنیاد اسی وقت قائم ہوگی جب حکومت، نجی شعبہ اور تعلیمی ادارے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں گے۔

پاکستان کی معاشی مشکلات کا ایک اہم پہلو قرضوں اور سرکاری اخراجات کا انتظام بھی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے مالی معاونت بعض حالات میں فوری ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور معاشی اعتماد بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن بیرونی قرضوں پر مسلسل انحصار مستقل حل نہیں۔ اکتوبر 2026 میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹنگ میں مالیاتی اصلاحات، ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور سرکاری اداروں کی نجکاری کو اہم موضوعات قرار دیا گیا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ معاشی اصلاحات کا بوجھ کس طرح تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر ٹیکس کا نظام زیادہ تر ایسے شہریوں اور کاروباروں پر دباؤ ڈالے جو پہلے ہی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ضروریات پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ بااثر اور زیادہ آمدنی رکھنے والے طبقات مؤثر ٹیکس سے بچ نکلیں، تو معاشی انصاف کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ٹیکس نیٹ کو منصفانہ طور پر وسیع کیا جائے، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم ہوں، خسارے میں چلنے والے اداروں کی اصلاح کی جائے اور سرکاری آمدنی کو تعلیم، صحت، پانی اور روزگار پر خرچ کیا جائے تو معاشی پالیسی عوامی اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔

نجکاری بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ سرکاری اداروں کی نجکاری بذاتِ خود نہ مکمل کامیابی کی ضمانت ہے اور نہ لازماً ناکامی کی۔ اس کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ عمل کتنا شفاف ہے، قیمت کا تعین کیسے کیا گیا، ملازمین کے حقوق کا تحفظ کس حد تک ہوا اور صارفین کو بہتر خدمات ملیں یا نہیں۔ قومی اثاثوں کے بارے میں فیصلے کرتے وقت محض فوری مالی فائدے کے بجائے طویل مدتی عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت دینا ضروری ہے۔
Untitled 2026 02 11T201921.992
معیشت کے ساتھ پاکستان کا سیاسی ماحول بھی قومی ترقی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے، احتجاج، تنقید اور حکومت کی جواب دہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب سیاسی اختلاف مستقل محاذ آرائی میں بدل جائے، اداروں کے درمیان اعتماد کم ہو اور قومی مسائل سیاسی مقابلے کے پیچھے چلے جائیں تو پالیسیوں کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی حالات سے محتاط ہوتے ہیں، انتظامی توجہ منتشر ہوتی ہے اور عوامی مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔

اکتوبر 2026 میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی معطلی اور ہنگامی انتظامات سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹنگ نے وفاقی اور صوبائی تعلقات، سیاسی اختلاف اور آئینی طریقۂ کار کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف کے مؤقف مختلف ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ واقعات کا جائزہ مستند شواہد، آئینی تقاضوں اور قانونی کارروائی کی روشنی میں لیا جائے۔ کسی بھی سیاسی بحران میں قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ اختیارات کے استعمال کی قانونی بنیاد واضح ہو، شہری حقوق محفوظ رہیں اور اختلافات کا حل آئینی اور پُرامن ذرائع سے نکالا جائے۔

جمہوریت کی مضبوطی کا تعلق صرف انتخابات کے انعقاد سے نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، شفاف احتساب، آزادانہ اظہارِ رائے، منصفانہ عدالتی کارروائی اور عوامی نمائندوں کی جواب دہی سے بھی ہے۔ حکومت ہو یا حزبِ اختلاف، سرکاری ادارہ ہو یا نجی تنظیم، کسی کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ احتساب اگر بلاامتیاز اور شفاف ہو تو اعتماد پیدا کرتا ہے، لیکن اگر اس کے طریقۂ کار پر جانبداری کے سوالات اٹھیں تو اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انصاف کے تقاضے ہر شخص کے لیے یکساں ہوں۔

امن و امان اور قومی سلامتی بھی پاکستان کے مستقبل کے بنیادی موضوعات ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ تعلیم، سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے مواقع کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ قومی سلامتی کے لیے مؤثر قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس تعاون اور سرحدی تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کا اعتماد، تعلیم، معاشی مواقع اور قانون کی منصفانہ عمل داری بھی اہم ہیں۔ کسی علاقے کے عوام کو مجموعی طور پر مشتبہ سمجھنے کے بجائے مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی توازن اور دوراندیشی کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب، چین، خلیجی ممالک، امریکہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعلقات معاشی اور دفاعی اعتبار سے اہم ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی بین الاقوامی تعلق کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب وہ ملکی مفادات، علاقائی امن اور معاشی خودمختاری سے ہم آہنگ ہو۔ خارجہ تعلقات کو محض سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی اور سرمایہ کاری کے عملی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
literacy rate
تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال بھی قومی مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2024-25 کے گھریلو سماجی و معاشی اعدادوشمار میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کی نشاندہی کی گئی، جبکہ دس سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 63 فیصد درج کی گئی۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ترقی کے دعووں کو حقیقی بنانے کے لیے تعلیم تک رسائی اور اس کے معیار کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔

تعلیم صرف عمارتیں تعمیر کرنے یا امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کا نام نہیں۔ ایک مؤثر تعلیمی نظام بچے میں سوچنے، سوال کرنے، مسئلہ حل کرنے اور عملی زندگی میں اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی استعداد پیدا کرتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری، بنیادی سہولتوں، معیاری تدریس اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ اسی طرح دینی اور عصری تعلیم کے درمیان مفید ربط، فنی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔

صحت کا شعبہ بھی فوری توجہ چاہتا ہے۔ غریب خاندان کے لیے بیماری اکثر صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ مالی بحران بھی بن جاتی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز کی موجودگی، بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت اور علاج کے اخراجات میں کمی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ بیماری سے بچاؤ، صاف پانی، نکاسیٔ آب، غذائیت اور ماں و بچے کی صحت پر سرمایہ کاری ایسے اقدامات ہیں جو طویل مدت میں معاشرے اور معیشت دونوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

زراعت پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے، مگر کسان کو پانی کی غیر یقینی فراہمی، مہنگی کھاد، بیج، بجلی، موسمیاتی تبدیلی اور منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید آبپاشی، تحقیق، معیاری بیج، ذخیرہ کرنے کی سہولتوں، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ اور کسان کو مناسب منڈی تک رسائی دینا ضروری ہے۔ محض پیداوار بڑھانا کافی نہیں؛ کسان کو اس کی محنت کا منصفانہ معاوضہ ملنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
climate change
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرات کو بھی اپنی قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت اور غیر متوقع بارشیں زراعت، گھروں، سڑکوں اور انسانی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ آفات کے بعد امداد فراہم کرنا ضروری ہے، لیکن مستقل حل کے لیے نکاسیٔ آب، آبی ذخائر کے مؤثر انتظام، شجرکاری، خطرے سے دوچار علاقوں کی منصوبہ بندی اور بروقت انتباہی نظام میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

آخر میں یہ سوال اہم ہے کہ پاکستان کو اس صورتحال سے نکالنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا جواب کسی ایک نعرے، ایک شخصیت یا ایک مختصر مدت کی پالیسی میں نہیں۔ ملک کو ایسی قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود تعلیم، صحت، روزگار، برآمدات، توانائی، زراعت اور ادارہ جاتی اصلاحات کا تسلسل برقرار رہے۔ ٹیکس نظام منصفانہ ہو، سرکاری اخراجات شفاف ہوں، کاروبار کے لیے قواعد واضح ہوں، عدالتوں تک رسائی آسان ہو اور سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی جواب دہی یقینی بنائی جائے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو محض بہتر مستقبل کے وعدے نہ دے بلکہ قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرے اور ان کی پیش رفت عوام کے سامنے رکھے۔ حزبِ اختلاف کا کردار بھی صرف تنقید تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ اسے قابلِ عمل متبادل پالیسیاں پیش کرنی چاہییں۔ پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ، ذرائع ابلاغ، تعلیمی اداروں، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ شہریوں کی سطح پر قانون کی پابندی، ٹیکس کی ادائیگی، ووٹ کا ذمہ دارانہ استعمال، اختلافِ رائے کا احترام اور اجتماعی وسائل کی حفاظت بھی قومی اصلاح کا حصہ ہیں۔
WhatsApp Image 2026 10 14 at 07.32.58
پاکستان کے مسائل حقیقی ہیں، لیکن انہیں ناقابلِ حل سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ قومی وسائل، انسانی صلاحیت اور جغرافیائی امکانات اب بھی موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی مفادات سے بلند ہو کر عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے، فیصلے جذبات کے بجائے شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں اور ترقی کے ثمرات چند طبقات تک محدود رکھنے کے بجائے عام شہری تک پہنچائے جائیں۔

کسی ملک کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کے بلند و بالا منصوبے، معاشی اعدادوشمار یا عالمی سطح پر کیے جانے والے دعوے نہیں، بلکہ اس کے شہری کی زندگی ہوتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کا خرچ عزت کے ساتھ برداشت کر سکے، ایک نوجوان کو روزگار کے لیے سفارش کی ضرورت نہ پڑے، ایک کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، ایک مریض کو علاج کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے اور ایک عام شہری کو قانون سے انصاف ملنے کا یقین ہو، تب کہا جا سکے گا کہ ترقی کا سفر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کا مستقبل صرف حکمرانوں کے فیصلوں سے نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی، معاشرتی رویوں، عوامی شعور اور قومی ترجیحات کے مجموعے سے تشکیل پائے گا۔ آج ضرورت مایوسی پھیلانے کی نہیں، بلکہ حقائق تسلیم کرنے، غلطیوں سے سیکھنے اور قابلِ عمل اصلاحات پر اتفاق کرنے کی ہے۔ اگر ہم نے اختلاف کو دشمنی، اقتدار کو ذاتی مفاد اور معیشت کو محض اعدادوشمار سمجھنے کے بجائے قانون، خدمت اور عوامی فلاح کو اپنی قومی سیاست کا مرکز بنا لیا تو پاکستان کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر آزادی کا حقیقی مفہوم عام آدمی کی زندگی میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

WhatsApp Image 2026 10 12 at 02.15.57
اکرام بکائنوی نوجوان کالم نگار ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں