WhatsApp Image 2026 10 11 at 09.36.49

شی ڈرائیو: خواجہ سراء خواتین کے لیے روزگار اور محفوظ سفر کی نئی مثال

زریں راجپوت

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خواجہ سراء افراد کے لیے تعلیم، روزگار اور محفوظ نقل و حرکت کے مواقع اب بھی محدود ہیں، وہیں لاہور کی سڑکوں پر ایک خواجہ سراء خاتون فریح اپنی محنت سے ایک مختلف مثال قائم کر رہی ہیں۔ فریح گزشتہ ڈیڑھ سال سے SheDrives کے ذریعے آن لائن رائیڈ سروس فراہم کر رہی ہیں اور خود کو روزگار دینے کے ساتھ ساتھ خواتین اور خواجہ سراء افراد کے لیے سفر کا ایک نسبتاً محفوظ اور آرام دہ ذریعہ بھی فراہم کر رہی ہیں۔

SheDrives لاہور میں خواتین اور خواجہ سراء افراد کے لیے رائیڈ سروس کے طور پر شروع کی گئی تھی۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس سروس کا مقصد خواتین اور خواجہ سراء افراد کو محفوظ سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ڈرائیونگ کے ذریعے باعزت روزگار کے مواقع دینا بھی ہے۔
WhatsApp Image 2026 10 11 at 09.36.50
فریح کہتی ہیں کہ ان کی زیادہ تر مسافر خواتین اور خواجہ سراء افراد ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین اس بات کو ترجیح دیتی ہیں کہ وہ سفر کے دوران کسی ایسی ڈرائیور کے ساتھ ہوں جس کے ساتھ انہیں زیادہ اطمینان اور تحفظ محسوس ہو۔ خاص طور پر رات کے اوقات میں خواتین کے لیے اجنبی مرد ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنا بعض اوقات پریشانی اور خوف کا باعث بنتا ہے، ایسے میں کسی خاتون یا خواجہ سراء ڈرائیور کے ساتھ سفر انہیں زیادہ پُرسکون محسوس ہوتا ہے۔

فریح کے مطابق، “خواتین بہت اچھا محسوس کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ ایک خواجہ سراءڈرائیور ہے۔” ان کے لیے یہ کام صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی شناخت اور محنت کے ذریعے معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کا ایک راستہ بھی ہے، جبکہ گھر والوں نے بھی روزگار کے اس انتخاب کی حوصلہ افزائی کی ہے. فریح اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے گھر والوں نے بھی ان کے اس کام کو قبول کیا۔ ان کے مطابق خاندان نے انہیں یہ احساس دلایا کہ مانگنے یا کسی ایسے کام پر انحصار کرنے کے بجائے جس سے معاشرے میں منفی تاثر پیدا ہو، بہتر ہے کہ وہ کوئی باعزت روزگار اختیار کریں، اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں اور اپنے ساتھ اپنے خاندان کا نام بھی روشن کریں۔

فریح کا یہ سفر اس تصور کو بھی چیلنج کرتا ہے کہ خواجہ سراء افراد کے لیے روزگار کے مخصوص اور محدود راستے ہی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو خواجہ سراء افراد ڈرائیونگ سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکتے ہیں۔تاہم فریح کے لیے یہ سفر ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ وہ بتاتی ہیں کہ سڑک پر بعض مرد انہیں دیکھ کر آوازیں کستے یا نامناسب اور طنزیہ سوالات کرتے ہیں۔ فریح کا کہنا ہے کہ وہ ایسے رویوں کا جواب غصے یا لڑائی سے دینے کے بجائے اکثر دعا دے کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ان کے لیے سڑک پر موجود ہر مشکل ایک نئے سوال کی طرح ہے: کیا خواجہ سراءفرد صرف معاشرے کے بنائے ہوئے چند مخصوص کرداروں تک محدود ہے، یا وہ بھی ایک عام شہری کی طرح محنت کرکے عزت سے روزگار کما سکتا ہے؟
WhatsApp Image 2026 10 11 at 10.30.09
پاکستان میں خواجہ سراء افراد کے حقوق کے حوالے سے Transgender Persons (Protection of Rights) Act, 2018 میں روزگار کا حق واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔ قانون کے سیکشن 9 کے مطابق حکومت کو خواجہ سراء افراد کے قانونی پیشے، کاروبار یا روزگار کے حق کو یقینی بنانا چاہیے، جبکہ کسی ادارے کو بھرتی، ملازمت، ترقی، تبادلے یا ملازمت سے متعلق دیگر معاملات میں جنس، صنفی شناخت یا صنفی اظہار کی بنیاد پر امتیاز سے روکا گیا ہے، لیکن قانون میں حق کا موجود ہونا اور اس حق کا عملی طور پر دستیاب ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ مختلف مطالعات اور انسانی حقوق کی رپورٹس میں خواجہ سراء افراد کو تعلیم، رہائش اور روزگار سمیت مختلف شعبوں میں سماجی اور معاشی رکاوٹوں کا سامنا ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اسی وجہ سے فریح جیسے افراد کی کہانیاں اہم ہیں، کیونکہ یہ صرف ایک فرد کی کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ اس سوال کو بھی سامنے لاتی ہیں کہ اگر خواجہ سراء افراد کو مناسب مواقع، تربیت اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تو وہ معاشی طور پر خودمختار زندگی کیوں نہیں گزار سکتے؟

پاکستان میں خواجہ سراء برادری کے معاشی حالات پر ہونے والی مختلف تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ کئی افراد آمدنی کے محدود ذرائع پر انحصار کرتے رہے ہیں، جن میں بھیک مانگنا، شادی بیاہ کی تقریبات میں رقص اور بعض صورتوں میں جنسی کام شامل ہیں۔ ایک تحقیقی مطالعے میں بھی رقص، جنسی کام اور بھیک مانگنے کو جواب دہندگان کے اہم ذرائع آمدن میں شمار کیا گیا، جبکہ دوسرے مطالعات میں بھی روزگار کے محدود مواقع اور کم آمدنی کی نشاندہی ہوئی ہے۔
WhatsApp Image 2026 10 11 at 10.31.26
ان اعداد و شمار کو پوری پاکستانی خواجہ سراء برادری پر موجودہ اور قطعی تناسب کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مختلف مطالعات کے نمونے، علاقے اور ادوار مختلف ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر یہ تحقیق ضرور ظاہر کرتی ہے کہ باقاعدہ اور محفوظ روزگار تک رسائی ایک اہم مسئلہ ہے۔

ایسے ماحول میں فریح کا آن لائن رائیڈ ڈرائیور کے طور پر کام کرنا ایک مختلف راستہ سامنے لاتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی آمدنی کا ذریعہ خود پیدا کر رہی ہیں بلکہ یہ بھی دکھا رہی ہیں کہ خواجہ سراء افراد ڈرائیونگ، ٹیکنالوجی اور آن لائن پلیٹ فارمز جیسے شعبوں میں بھی اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔SheDrives کے قیام کا بنیادی تصور بھی خواتین اور خواجہ سراء افراد کے لیے محفوظ سفری سہولت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ 2024 میں اس سروس کے لاہور میں آغاز کے وقت اسے خواتین اور خواجہ سراء افراد کے لیے مخصوص رائیڈ سروس کے طور پر رپورٹ کیا گیا تھا۔

فریح اسی نظام کا حصہ بن کر روزانہ لاہور کی سڑکوں پر نکلتی ہیں۔ ان کے لیے ہر رائیڈ صرف ایک منزل سے دوسری منزل تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ خواجہ سرا افراد کو بھی محنت، روزگار، خودمختاری اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔فریح کی کہانی اس سوال کے ساتھ ختم نہیں ہوتی کہ ایک خواجہ سراء خاتون ڈرائیونگ کیوں کر رہی ہے؛ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے خواجہ سراء افراد کے لیے روزگار کے کتنے دروازے کھولے ہیں؟

اگر ایک خواجہ سراء خاتون لاہور کی مصروف سڑکوں پر گاڑی چلا کر اپنے لیے روزگار پیدا کر سکتی ہے، خواتین کو سفری سہولت فراہم کر سکتی ہے اور اپنے خاندان کا سہارا بن سکتی ہے تو معاشرے کے لیے یہ سوچنے کا وقت بھی ہے کہ ایسے مزید کتنے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔فریح نے اپنے سفر سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خواجہ سراء افراد صرف مدد کے محتاج نہیں؛ انہیں مواقع دیے جائیں تو وہ خود بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں، اپنے خاندان کا سہارا بن سکتے ہیں اور معاشرے میں اپنی ایک باعزت شناخت قائم کر سکتے ہیں ۔

WhatsApp Image 2026 10 11 at 10.38.32
زریں راجپوت بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ میڈیا سٹڈیز کی طالبہ ہیں اور خواجہ سراء برادری کے حقوق کے لئے سرگرم رہتی ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں