WhatsApp Image 2026 09 24 at 09.41.51

ا یچ آر سی پی کامحنت کشوں اور ثقافتی تحریکوں کے درمیان نئے اتحاد کا مطالبہ

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے زیرِ اہتمام ‘ثقافتی آزادیوں اور محنت کشوں کے حقوق کی بحالی’ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک کنونشن میں شرکاء نے محنت کشوں اور ثقافتی تحریکوں کے درمیان ایک نئے اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔
WhatsApp Image 2026 09 24 at 09.22.49
انسانی حقوق کے کارکن ذیشان نوئل کی نظامت میں شروع ہونے والے اس کنونشن کا افتتاح اداکار خالد انعم نے میاں محمد بخش اور سچل سرمستکا کلام پیش کر کے کیا۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے کہا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا تحفظ محنت کشوں کی ایک مضبوط تحریک سے مشروط ہے۔

‘یکجہتی کی آوازیں’ کے عنوان سے پہلے سیشن میں ماہی گیروں کے حقوق کے کارکن طالب کچھی اور آرٹسٹ عمران اللہ ہُنزائی کے ویڈیو پیغامات شامل تھے، جبکہ نذیر قیصر اور اصغر ندیم سید نے اپنی شاعری پیش کی۔

محنت کشوں کے حقوق کے کارکن بوٹا امتیاز مسیح نے سینیٹیشن ورکرز کے لیے یونین بنانے کا مطالبہ کیا، جبکہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے فاروق طارق نے کہا کہ یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اداکارہ سمیعہ ممتاز نے فنکاروں کے ساتھ معاشرے کے رویے کا موازنہ ان طبقاتی نظام ہائے کار سے کیا جو دستی مشقت کی تحقیر کرتے ہیں۔WhatsApp Image 2026 09 24 at 09.27.04

حقوق کی فعال کارکن تنویر جہاں کی زیرِ نظامت پینل میں مؤرخ ڈاکٹر علی رضا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم عصر ‘ہائپر پولیٹکس’ میں ان اداروں اور یونینز کی کمی ہے جو کبھی ترقی پسند روایت کو زندہ رکھتی تھیں۔ صحافی شہزادہ ذوالفقار نے میڈیا کارکنان کی کم اجرتوں کی طرف توجہ مبذول کرائی، جبکہ نیشنل لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری عمر حیات نے بلوچستان میں مزدور یونینز کے کمزور ہونے کا ذکر کیا۔ اسکرپٹ رائٹر بی گل نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیلی ویژن نے انہیں مجبور کر دیا ہے کہ وہ سنجیدہ موضوعات کو غیر سیاسی کہانیوں کے پردے میں چھپا کر پیش کریں۔ صحافی وجاہت مسعود نے دلیل دی کہ محنت کش اور فنکار ایسے مزاحمتی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اجوکا تھیٹر کے شاہد محمود ندیم نے کہا کہ سماجی موضوعات پر مبنی ڈرامے کے لیے محنت کشوں کی ایک متوازی تحریک کی ضرورت ہے، جبکہ ایچ آر سی پی کی کونسل ممبر سلیمہ ہاشمی نے ایک ایسی حکمت عملی پر زور دیا جو نئی نسل کو اپنا راستہ خود تلاش کرنے کا موقع دے۔

تیسرے سیشن میں رقاصہ شیما کرمانی، موسیقار ہارون باچا اور اداکار مصطفیٰ قریشی اور ندیم بیگ کے ویڈیو پیغامات پیش کیے گئے، جبکہ اداکارہ و ہدایت کار صبا حمید نے یکجہتی کا اظہار کیا۔ آل پاکستان ورکرز فیڈریشن کے صدر گوہر تاج نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی مؤثر کم از کم اجرت کا نظام موجود نہیں ہے۔ مصنف شریف اعوان نے کلاسیکی موسیقی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ وژوئل آرٹسٹ معصومہ سید نے کہا کہ فنکارانہ مزاحمت اکثر بقا کی قیمت پر ہوتی ہے۔ اداکارہ عائشہ طور نے سرمایہ دارانہ نظام میں فنکارانہ آزادی کے لیے آواز اٹھانے سے متعلق مشکلات بیان کیں۔ ایچ آر سی پی کے خزانچی حسین نقی نے کہا کہ شاعر مایوسی کے لمحات میں حوصلے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

کنونشن کے اختتام پر ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے شرکاء کی جانب سے منظور کیا گیا ایک چارٹر پیش کیا، جس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ باوقار روزگار کا حق اور آزادانہ تخلیق کا حق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایچ آر سی پی پنجاب کے وائس چیئر راجہ اشرف اور ڈائریکٹر فرح ضیاء کے مطابق چارٹر میں غیر رسمی محنت کشوں سمیت تمام مزدوروں کے لیے باوقار اجرت، محفوظ کام کی جگہوں، سماجی تحفظ، یونین بنانے اور اجتماعی سودا کاری کے حق، مساوی حقوق اور اجرت، امتیازی سلوک اور تشدد سے تحفظ، ثقافتی کام کو محنت کے طور پر تسلیم کرنے، لیبر پالیسی میں محنت کشوں کی شمولیت، اور محنت کش طبقات کے لیے ثقافتی پلیٹ فارمز تک منصفانہ رسائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں