WhatsApp Image 2026 05 28 at 23.59.16

معاشی خلاء اور گورننس اصلاحات: پاکستان کے لیے متوازن ٹیکنوکریٹک فریم ورک

ساجد محمود

پاکستان میں کارپوریٹ سیکٹر کی محدود ترقی اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی فرق کے تناظر میں سوشل میڈیا پر ایک اہم معاشی بحث تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں ڈاکٹر ندیم الحق، ماہرِ معاشیات، کے حوالے سے اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں بڑی اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی کمپنیوں کی تعداد نہایت کم ہے، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں کارپوریٹ ادارے معاشی طاقت اور پیداواری صلاحیت کا بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ ریاستی وزارتوں اور کارپوریٹ اداروں کا براہِ راست تقابل ایک ہی نوعیت کے ڈھانچوں کے طور پر نہیں کیا جا سکتا، تاہم گورننس، کارکردگی اور فیصلہ سازی کے اصولوں کے حوالے سے ان کے درمیان مفید تقابلی فریم ورک ضرور قائم کیا جا سکتا ہے، جس سے پالیسی سازی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
economy 1
اسی پس منظر میں پاکستان کے فیصلہ سازوں کو مختلف حلقوں کی جانب سے یہ تجویز دی جانی چاہئے کہ ایک متوازن اصلاحی ماڈل کے تحت سات کلیدی وزارتیں، جن میں خزانہ، توانائی، تجارت، زراعت، منصوبہ بندی و ترقی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، اور سائنس و ٹیکنالوجی شامل ہیں، تجربہ کار ٹیکنوکریٹس کے حوالے کی جائیں تاکہ قومی فیصلہ سازی میں میرٹ، ٹھوس اعداد و شمار، تحقیق اور معاشی مفاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہو سکے۔ اس نقطہ نظر کا مقصد ریاستی نظام کو کارپوریٹ گورننس کے اُن اصولوں سے ہم آہنگ کرنا ہے جن میں کارکردگی، جوابدہی اور نتائج کی بنیاد پر فیصلہ سازی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

عالمی تجربات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ جب پالیسی سازی میں مہارت اور تسلسل کو فوقیت دی گئی تو ریاستوں نے غیر معمولی ترقی حاصل کی۔ سنگاپور نے لی کوان یو کی قیادت میں سیاسی استحکام کے ساتھ میرٹ پر مبنی ٹیکنوکریٹک نظام کو فروغ دے کر چند دہائیوں میں پسماندگی سے ترقی یافتہ معیشت کا سفر طے کیا۔ اسی طرح چین نے اپنی اقتصادی اور صنعتی ترقی کے لیے کلیدی وزارتوں اور اداروں میں تجربہ کار ٹیکنوکریٹس کو فیصلہ سازی کا بنیادی کردار دے کر طویل المدتی ترقی کا تسلسل قائم رکھا۔ بھارت نے بھی 1991 کے مالیاتی بحران کے دوران سیاسی سرپرستی برقرار رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری ایک ماہر معیشت ڈاکٹر منموہن سنگھ کے سپرد کی، جس کے نتیجے میں معیشت کو ایک نئی سمت ملی اور اصلاحات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

اسی تناظر میں یہ ایک اہم حقیقت بھی ہے کہ بیوروکریسی کے تاخیری فیصلے اور پیچیدہ طریقہ کار اکثر معاشی منصوبوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ فائلوں کی غیر ضروری گردش، منظوری کے طویل مراحل اور بعض اوقات ‘انتظار کی حکمت عملی’ جیسے حربوں کے باعث منصوبے بروقت مکمل نہیں ہو پاتے۔ اس تاخیر کا براہِ راست نقصان یہ ہوتا ہے کہ منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، ابتدائی تخمینے غیر مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ قومی وسائل بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً ترقیاتی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور معیشت کو وہ فوری فائدہ نہیں مل پاتا جس کی توقع کی جاتی ہے۔
Untitled 2025 11 13T080841.327
اس مجوزہ ماڈل میں سیاسی قیادت کا کردار ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ ان وزارتوں کی اعلیٰ سطحی نگرانی کرے گی، یعنی پالیسی کی سمت اور قومی ترجیحات کا تعین سیاسی قیادت کے ذمہ ہوگا جبکہ مجموعی احتساب اور جوابدہی کا نظام بھی اسی کے تحت قائم رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے تکنیکی اور انتظامی فیصلے ماہرین کے سپرد ہوں گے تاکہ بیوروکریٹک تاخیر اور غیر ضروری سیاسی مداخلت کا تدارک کیا جا سکے۔

ترقی کے تسلسل کو یقینی بنانے اور ہر شعبے کو واضح اہداف کے تحت آگے بڑھانے کے لیے اس نظام میں صوبائی کوٹہ کی منصفانہ نمائندگی، مضبوط احتسابی نظام اور پانچ سالہ قومی معاشی منصوبہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ بنیادی طور پر سیاست، مہارت اور معاشی حکمت عملی کا یہ متوازن امتزاج ریاستی ڈھانچے کی کمزوریوں کو کم کرے گا اور پاکستان کو خطے کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں معاشی خلا کو بتدریج اور پائیدار بنیادوں پر کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

Untitled 2025 08 14T181027.710
ساجد محمود
ملتان سے تعلق رکھنے والے کالم نگار ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

نوٹ: ادارہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں‌ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں