WhatsApp Image 2026 05 19 at 17.58.49

ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ملزم کو سزائے موت، 20 سال قید، 20 لاکھ جرمانہ

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو جرم کا ذمہ دار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔

ملزم کو ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 سال قید، گھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت 10 سال قید اور مجموعی طور پر 20 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا.
Untitled 15
ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد کچھ دیر محفوظ رہنے والا یہ اہم فیصلہ سنایا۔

دورانِ سماعت عدالت میں مقتولہ اور ملزم کے درمیان ہونے والی کالز کا ریکارڈ اور چیٹ کے سکرین شاٹس بطور ثبوت پیش کیے گئے۔ مدعی کے وکیل نے جرم کی سنگینی کو برقرار رکھتے ہوئے مجرم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔

دوسری جانب، ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل عمر حیات نے سٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے دو درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں اب بھی زیرِ التوا ہیں، لہٰذا پہلے سے ذہن بنا کر سزائے موت سنانا زیادتی ہوگی۔

واضح رہے کہ ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے صاف انکار کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے ثنا کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا انکشاف نہیں کیا اور نہ ہی اس کا مقتولہ سے کوئی رابطہ تھا۔اس پر معزز جج نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش ثنا یوسف کے فون سے ‘کاکا’ کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، جو موبائل فارنزک کے بعد آپ کا ہی نکلا، اس پر آپ کیا کہیں گے؟ تاہم ملزم عمر حیات اس کا کوئی ٹھوس جواب نہ دے سکا اور کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر اس پر بات نہیں کر سکتا۔
Untitled 2025 06 21T234033.423
سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کو 2 جون 2025ء کو ان کے گھر میں بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔ واقعے کے اگلے ہی روز یعنی 3 جون کو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ قاتل عمر حیات کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا، جو وہیں کا رہائشی ہے۔

بعدازاں 13 جون کو ہونے والی شناخت پریڈ کے دوران مقدمے کے چشم دید گواہان نے ملزم کو شناخت کر لیا۔ مقتولہ کی حقیقی والدہ اور پھوپھی اس کیس میں مرکزی چشم دید گواہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس حساس کیس کی پیروی کے لیے راجہ نوید حسین کیانی کو اسپیشل پراسکیوٹر تعینات کیا گیا تھا۔ اس ہائی پروفائل مقدمے میں مجموعی طور پر 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ پولیس چالان میں کل 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی تھی، جس میں سے بعد میں پراسکیوشن نے 4 گواہان کو ترک کر دیا اور مجموعی طور پر 27 گواہان نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔

ملزم پر فردِ جرم 20 ستمبر کو عائد کی گئی تھی جبکہ استغاثہ کے پہلے گواہ کا بیان 25 ستمبر کو قلمبند ہوا۔ ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ٹرائل کا عمل 2 ہفتے سے زائد وقت کے لیے رکا بھی رہا تھا، تاہم اب سیشن کورٹ نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کی بنیاد پر ملزم کو سزا سنا دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں