اکرام بکائنوی
پاکستان کی معیشت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ہر معاشی فیصلہ عوامی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بظاہر ایک مالیاتی پالیسی کا حصہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا ہمہ گیر عمل ہے جو نہ صرف معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیتا ہے۔ یہ مسئلہ محض قیمتوں کے تعین تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات مہنگائی، بے روزگاری، صنعتی زوال اور سماجی بے چینی تک پھیلے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں توانائی کا شعبہ پہلے ہی مسائل کا شکار ہے۔ ملک کا بڑا انحصار درآمدی تیل پر ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر قومی معیشت پر پڑتا ہے۔ جب عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں: یا تو سبسڈی دے کر عوام کو ریلیف فراہم کرے یا قیمتوں میں اضافہ کر کے مالی خسارہ کم کرے۔ بدقسمتی سے اکثر دوسرا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہو جاتا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے پہلا اثر ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑتا ہے۔ پاکستان میں مال برداری کا زیادہ تر انحصار سڑکوں پر ہے، اس لیے جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ اضافہ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یوں آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔یہ مہنگائی محض عارضی نہیں ہوتی بلکہ ایک تسلسل اختیار کر لیتی ہے۔ معاشی ماہرین اسے "کاسٹ پش انفلیشن” قرار دیتے ہیں، یعنی جب پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں قیمتوں کا نظام مکمل طور پر ریگولیٹڈ نہیں، وہاں یہ اثرات زیادہ شدت سے ظاہر ہوتے ہیں۔ تاجر حضرات اکثر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کر دیتے ہیں، جس سے مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے۔صنعتی شعبہ بھی اس اضافے سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ صنعتوں کے لیے توانائی ایک بنیادی ضرورت ہے، اور جب اس کی قیمت بڑھتی ہے تو پیداواری لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یا تو مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں یا پیداوار کم کر دی جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ مہنگی مصنوعات کی وجہ سے طلب کم ہو جاتی ہے، جبکہ پیداوار میں کمی بے روزگاری کو جنم دیتی ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جب صنعتیں سکڑتی ہیں تو روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ نوجوان طبقہ جو پہلے ہی روزگار کی تلاش میں مشکلات کا شکار ہے، مزید مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس طرح پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ایک ایسا سلسلہ وار ردعمل پیدا کرتا ہے جو معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔عوامی سطح پر اس کے اثرات نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ان کی آمدنی محدود ہوتی ہے جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لیے یہ صورتحال انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
ایک اہم پہلو مہنگائی کا نفسیاتی اثر بھی ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو مارکیٹ میں ایک عمومی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ اس تاثر کے تحت تاجر حضرات قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں، چاہے ان کی لاگت میں کوئی خاص اضافہ نہ بھی ہوا ہو۔ یوں مہنگائی کا ایک مصنوعی طوفان برپا ہو جاتا ہے جو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
حکومتیں اکثر عالمی منڈی کا حوالہ دے کر قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دیتی ہیں۔ یہ دلیل اپنی جگہ درست ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو اس بوجھ سے بچانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات کیے گئے؟ ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں ایسے مواقع پر سبسڈی دیتی ہیں، ٹیکس کم کرتی ہیں، یا عوام کو براہِ راست مالی امداد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں اس طرح کے اقدامات محدود اور غیر مؤثر نظر آتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں توانائی کے متبادل ذرائع کو خاطر خواہ فروغ نہیں دیا گیا۔ اگر ملک میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کو ترقی دی جاتی تو پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کیا جا سکتا تھا۔ مگر اس شعبے میں پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر زرعی شعبے پر بھی پڑتا ہے۔ کسانوں کے لیے ٹریکٹر، ٹیوب ویل، اور دیگر زرعی مشینری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار کی لاگت بڑھتی ہے، جو بالآخر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ یوں مہنگائی کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔
یہ صورتحال معاشرتی سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو معاشرتی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جرائم کی شرح بڑھتی ہے، اور عوام کا ریاست پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو کسی بھی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔معاشی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو تو اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔ اس میں قیمتوں کے مؤثر کنٹرول، منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات، اور عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے منصوبے شامل ہونے چاہئیں۔ ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام اس حوالے سے ایک مؤثر حل ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے صرف مستحق افراد کو ریلیف دیا جائے۔
پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور مزید اضافہ ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔حکومت کے لیے یہ ایک مشکل چیلنج ہے کہ وہ مالی خسارے کو بھی کنٹرول کرے اور عوام کو بھی ریلیف فراہم کرے۔ مگر ایک ذمہ دار ریاست کا تقاضا یہی ہے کہ وہ کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرے۔ اگر پالیسیوں کا بوجھ صرف عوام پر ڈال دیا جائے تو یہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اثرات فوری بھی ہوتے ہیں اور دیرپا بھی۔ اگر اس کو بغیر منصوبہ بندی کے نافذ کیا جائے تو یہ معیشت کو کمزور اور عوام کو مایوسی کا شکار کر دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایک ایسی پالیسی ترتیب دی جائے جو معیشت کو مستحکم اور عوام کو ریلیف فراہم کر سکے۔یہی وہ آواز ہے جو آج کا عام شہری سننا چاہتا ہےایک ایسی آواز جو اس کے مسائل کو سمجھے، اس کے دکھ کو محسوس کرے، اور اس کے لیے عملی حل پیش کرے۔ ایک مضبوط معیشت وہی ہوتی ہے جس میں عوام خوشحال ہوں، نہ کہ وہ جس میں اعداد و شمار تو بہتر ہوں مگر عوام مشکلات کا شکار ہوں۔



