ملتان:خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا ہے کہ کام کی جگہوں پر ہراسمنٹ کے خاتمے اور خواتین کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے صوبائی محتسب آفس بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محتسب آفس کو رپورٹ ہونے والے 1400 ہراسمنٹ کیسز میں سے 1300 سے زائد کیسز میں قانون کے مطابق سزائیں دی جا چکی ہیں۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا کہ ورک پلیس پر ہراسمنٹ کی روک تھام صوبائی محتسب پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف محکموں میں انکوائری کمیٹیوں کو فعال بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ شکایات کے ازالے اور اصلاحات کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 9 اضلاع میں صوبائی محتسب کے ریجنل دفاتر قائم کیے گئے ہیں جہاں خواتین کو ڈویژنل سطح پر جائیداد اور وراثتی معاملات میں بھی انصاف فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 5 ہزار سے زائد کیسز میں خواتین کو ان کی جائیداد دلوانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص جھوٹی شکایت درج کروائے گا یا کسی پر بے بنیاد الزام عائد کرے گا تو ایسے شکایت کنندہ کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ورک پلیس پر ہراسمنٹ کا شکار خواتین کو مفت انصاف فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ جائیداد سے محروم خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں انصاف کی فراہمی کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔