اکرام بکائنوی
پاکستان کا پاسپورٹ آج صرف ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ قومی شناخت، ریاستی وقار، عالمی اعتماد اور بین الاقوامی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر ملک کا پاسپورٹ اس کے نظام، معیشت، سیاسی استحکام، قانون کی بالادستی، سفارتی تعلقات اور عالمی اعتماد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ملک کے پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی سامنے آتی ہے تو دراصل اس ملک کی مجموعی قوت، ساکھ اور بین الاقوامی مقام پر بھی گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔
آج کے دور میں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ممالک کے درمیان تعلقات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ تجارت، تعلیم، سیاحت، سرمایہ کاری اور عالمی تعاون نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی طاقت اس بات سے دیکھی جاتی ہے کہ اس ملک کے شہری دنیا کے کتنے ممالک میں آسانی کے ساتھ سفر کرسکتے ہیں۔ جس ملک کے شہریوں کو زیادہ سفری آزادی حاصل ہو، اس ملک کا پاسپورٹ اتنا ہی طاقتور تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کی موجودہ عالمی حیثیت پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسے دنیا کے نسبتاً کمزور پاسپورٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ مختلف عالمی ادارے ہر سال پاسپورٹ کی درجہ بندی جاری کرتے ہیں جن میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی ملک کے شہری کتنے ممالک میں بغیر پیشگی اجازت یا آسان شرائط کے ساتھ داخل ہوسکتے ہیں۔ ان عالمی درجہ بندیوں میں پاکستانی پاسپورٹ اکثر نچلے درجوں میں دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی سطح پر تشویش اور سوالات جنم لیتے ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ آخر پاسپورٹ کی کمزور حیثیت کے اسباب کیا ہیں؟ کیا صرف ویزا کی پابندیاں ہی اس کی وجہ ہیں یا اس کے پیچھے کئی بڑے عوامل موجود ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت محض ایک سفری سہولت کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پورے ملک کے نظام سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔پاکستانی پاسپورٹ کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ عالمی اعتماد کی کمی ہے۔ دنیا کے ممالک جب کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو آسان سفری سہولت دیتے ہیں تو وہ صرف دستاویز نہیں دیکھتے بلکہ اس ملک کے حالات، قوانین، امن و امان، معیشت اور بین الاقوامی رویے کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، بدعنوانی یا سلامتی کے مسائل زیادہ ہوں تو اس کے شہریوں کے لئے ویزا قوانین سخت کردیئے جاتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان نے دہشت گردی، معاشی دباؤ، سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی حالات کا سامنا کیا۔ ان عوامل نے عالمی سطح پر ملک کے تشخص کو متاثر کیا۔ اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دیں اور امن کے لئے بڑی جدوجہد کی، مگر عالمی ذرائع ابلاغ میں اکثر منفی پہلو زیادہ نمایاں ہوتے رہے، جس کا اثر پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت پر بھی پڑا۔
دوسرا اہم مسئلہ غیر قانونی ہجرت ہے۔ مختلف ممالک میں بعض پاکستانی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی قیام، جعلی کاغذات کے استعمال اور ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے واقعات نے بھی دنیا کے کئی ممالک کو محتاط بنادیا۔ جب کسی ملک کے شہری بڑی تعداد میں غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوشش کریں تو متعلقہ ممالک سخت پالیسیاں نافذ کردیتے ہیں۔ اس کا نقصان پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو اکثر طویل ویزا مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بیرون ملک سفر کے لئے مالی ثبوت، بینک دستاویزات، انٹرویو، رہائش کی تفصیلات اور مختلف قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ویزا درخواست مسترد بھی کردی جاتی ہے، جس سے شہریوں کو مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ ان کے پاسپورٹ کی عالمی حیثیت کمزور ہوچکی ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی بہت اہم ہے۔ اگرچہ پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی کمزور ہے، مگر پاکستانی قوم کی صلاحیت، محنت اور قابلیت دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، تاجر، سائنس دان اور ہنرمند افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ Saudi Arabia، United Arab Emirates، United Kingdom، Canada اور دیگر ممالک میں پاکستانی برادری نے نہ صرف معاشی ترقی میں کردار ادا کیا بلکہ اپنے اچھے کردار سے ملک کا مثبت تشخص بھی اجاگر کیا۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ پاسپورٹ کی طاقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتی۔ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے چند ہی برسوں میں اپنی عالمی حیثیت بدل ڈالی۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ ایک وقت میں عام درجہ بندی میں شمار ہوتا تھا، مگر مضبوط معیشت، مؤثر سفارت کاری، عالمی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعلقات کی وجہ سے آج اس کا شمار دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں ہوتا ہے۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملک درست سمت میں مسلسل پیش رفت کرے تو اس کے پاسپورٹ کی عالمی قدر بھی بڑھ سکتی ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کی بہتری کے لئے سب سے پہلے داخلی استحکام ناگزیر ہے۔ دنیا ہمیشہ ان ممالک پر زیادہ اعتماد کرتی ہے جہاں قانون کی حکمرانی مضبوط ہو، ادارے مستحکم ہوں اور سیاسی کشیدگی کم ہو۔ جب کسی ملک میں بار بار بحران پیدا ہوں تو عالمی دنیا وہاں کے شہریوں کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرتی ہے۔دوسری اہم چیز معاشی مضبوطی ہے۔ معاشی طور پر مستحکم ممالک کے شہریوں کو دنیا زیادہ اعتماد کے ساتھ قبول کرتی ہے کیونکہ انہیں غیر قانونی ہجرت یا غیر قانونی مزدوری کے خدشات کم ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنی معیشت کو مضبوط بنائے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور صنعتی ترقی کو فروغ دے تو عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔سفارتی میدان بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا میں وہی ممالک زیادہ عزت پاتے ہیں جن کی سفارت کاری فعال، مثبت اور متوازن ہو۔ پاکستان کو مختلف ممالک کے ساتھ ثقافتی، تعلیمی، تجارتی اور سیاحتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ دو طرفہ معاہدے، عوامی روابط اور بین الاقوامی تعاون پاسپورٹ کی قدر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی، تاریخی مقامات، مذہبی ورثہ اور ثقافتی تنوع دنیا کے لئے کشش رکھتے ہیں۔ اگر ملک میں امن، سہولیات اور عالمی معیار کے انتظامات بہتر بنائے جائیں تو دنیا بھر کے سیاح پاکستان کا رخ کرسکتے ہیں ۔جب دنیا کسی ملک کو محفوظ اور پرکشش سمجھنے لگے تو اس ملک کے شہریوں کے بارے میں بھی مثبت رائے قائم ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پاسپورٹ نظام بھی ضروری ہے۔ محفوظ اور جدید سفری دستاویزات دنیا کا اعتماد بڑھاتی ہیں۔ بائیومیٹرک نظام، ڈیجیٹل نگرانی اور جعلی دستاویزات کی روک تھام جیسے اقدامات پاکستان کے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔تعلیم بھی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ قومیں دنیا میں عزت اور اعتماد حاصل کرتی ہیں۔ جب کسی ملک کے نوجوان علم، تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے ہیں تو دنیا انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پاکستانی نوجوان آج معلوماتی ٹیکنالوجی، آزاد پیشہ خدمات اور جدید علوم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔ یہ مثبت تبدیلی مستقبل میں پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بناسکتی ہے۔
اوورسیز پاکستانی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نہ صرف زرمبادلہ بھیجتے ہیں بلکہ اپنی محنت اور کردار سے دنیا میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ اگر بیرون ملک پاکستانی قوانین کی پابندی کریں، اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں اور مثبت کردار ادا کریں تو یہ بھی پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاسپورٹ کی اصل طاقت صرف ویزا فری ممالک کی تعداد میں نہیں ہوتی بلکہ دنیا کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب دنیا کسی قوم کو ذمہ دار، تعلیم یافتہ، باوقار اور پرامن سمجھنے لگے تو اس قوم کے لئے سرحدیں نرم پڑنے لگتی ہیں۔ لیکن جب کسی ملک کی تصویر عالمی سطح پر منفی بن جائے تو اس کے شہریوں کے لئے سفر کے دروازے محدود ہوجاتے ہیں۔
آج پاکستانی عوام کے لئے سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ قومی ساکھ صرف حکومتیں نہیں بناتیں بلکہ قومیں بھی بناتی ہیں۔ ہر پاکستانی اپنے کردار، ایمانداری، قانون کی پابندی اور مثبت رویے کے ذریعے دنیا میں ملک کا نمائندہ ہے۔ اگر پاکستانی دنیا بھر میں اپنی اچھی پہچان مضبوط کریں تو اس کا اثر یقیناً قومی وقار پر پڑے گا۔پاکستانی پاسپورٹ کی موجودہ کمزور حیثیت یقیناً ایک چیلنج ہے، مگر یہ ناامیدی کی علامت نہیں۔ قومیں محنت، اتحاد، تعلیم، مضبوط معیشت اور بہتر حکمت عملی سے اپنی تقدیر بدلتی ہیں۔ اگر پاکستان داخلی استحکام، عالمی اعتماد، معاشی ترقی اور مثبت سفارت کاری پر توجہ دے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستانی پاسپورٹ بھی دنیا میں عزت، وقار اور مضبوط حیثیت کی علامت بن جائے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاسپورٹ دراصل کسی ملک کی عالمی عزت کا عکس ہوتا ہے۔ جب ریاست مضبوط، معیشت مستحکم، قوم باکردار اور نظام شفاف ہو تو دنیا خود بخود اس ملک کے شہریوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہے۔ پاکستانی قوم میں صلاحیت کی کمی نہیں، ضرورت صرف درست سمت، قومی اتحاد اور مسلسل بہتری کی ہے۔ اگر یہ سفر جاری رہا تو مستقبل میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت بھی یقیناً بہتر ہوگی اور دنیا پاکستان کو ایک مضبوط، باوقار اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر دیکھے گی۔



