anmol pinki

ماڈل سے ڈرگ ڈیلر بننے تک کا سفر ، کوکین کوئین کے دوران تفتیش اہم انکشافات کر دئیے

کراچی: گرفتا ر منشیات فروش انمول عرف پنکی نے دوران تفتیش ماڈل سے ڈرگ ڈیلر بننے تک کے سفر کی کہانی بیان کرتے ہوئے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنکی 14 سال کی عمر میں ماڈل بننے نکلی،وہیں سے پارٹیوں میں جانا شروع کیا،ایک وکیل سے شادی ہوئی جو انٹرنیشنل کوکین کا کام کرتا تھا،شادی کے بعد کوکین کا کام شوہر کے ساتھ شروع کیا،انمول پنکی نے شوہر سے طلاق کے بعد پولیس افسر سے شادی کر لی۔

پنکی نے اپنے 3 بھائیوں کی مدد سے کوکین کا نیٹ ورک قائم کیا اور ڈیلر بن گئی،انٹرنیٹ سے کوکین بنانا سیکھا،شروع میں کوکین ٹھیک نہ بناسکی اور نقصان اٹھایا،ملزمہ کچھ عرصے تک مسلسل بناتے بناتے کوکین بنانے لگ گئی،پنکی نے اپنے کوکین کا برانڈ بنا لیا جو مشہور ہو گیا۔

پنکی کو5سال قبل مبینہ طور پر پنجاب پولیس نے گرفتار کیاا ور مبینہ طور پر 7 کروڑ رشوت لیکر چھوڑ دیا،لاہور سے 2 خواتین کے ذریعے ٹرین سے کوکین کے 5 پیکٹ کراچی بھیجتی تھی،اسٹیشن سے بائیک رائیڈر زپیکٹ الگ الگ لیکر ڈیلرز کو پہنچاتے تھے،ڈیلرز کی مدد سے کوکین شہریوں کو پہنچتی تھی۔

پیسے اکاؤنٹ کے ذریعے ٹرانسفر کیے جاتے تھے،پنکی کا نیٹ ورک ایسےکام کرتا تھاجس میں کوئی کسی دوسرے سے نہیں ملتا تھا،ملزمہ انمول عرف پنکی نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنایا ہے،پنکی کے گروپ میں اس کے بھائی ناصرکی گرل فرینڈبھی شامل ہے۔

بھائی کی گرل فرینڈ کی مدد سے کراچی کی پارٹیوں میں کوکین سپلائی کی جاتی،پنکی کے 2 بھائیوں کو ماضی میں کراچی پولیس گرفتار کر چکی ہے، پنکی نے کوکین کے کام سے ماہانہ کروڑوں روپے کمائے۔
433895 9151172 updates
قبل ازیں‌منشیات برآمدگی اور غیر قانونی اسلحہ کے کیس میں پولیس نے گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیش کردیا، عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار نے منشیات کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کوپروٹوکول دینےکا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعےکی شفاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے سوال کیا کہ ملزمہ کو پروٹوکول کیسے دیا گیا؟ ذمہ دار اہلکار وضاحت پیش کریں، انہوں نے ملزمہ کو پروٹوکول فراہم کرنے والے اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا بھی حکم دیدیا۔ضیاءلنجار نے کہا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ متاثر کرنے والوں کےخلاف ایکشن لیا جائے گا، عدالتوں میں ملزمان کو غیر ضروری پروٹوکول دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، سندھ حکومت قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

ادھر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی ملزمہ پنکی کی پیشی کے دوران ایس اوپی اور قوائد کی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لےلیا۔ترجمان پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی کو واقعےکی مفصل ابتدائی رپورٹ پیش کرنےکی ہدایت کردی۔ غفلت،کوتاہی کےمرتکب تفتیشی افسر، عملے کو فوری معطل کرنے کا حکم دیدیا۔ واقعےکی شفاف تحقیقات کےلیے سنیئر افسر تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ایڈشنل آئی جی خود اس واقعے کی تحقیقات کی نگرانی کریں گے، ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی ہوگی، کمیٹی جلد از جلد ذمہ داروں کا تعین یقینی بنائےگی۔

کراچی پولیس چیف نے بھی ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنےکا نوٹس لیتے ہوئے واقعےکی انکوائری کی ہدایت کردی۔کراچی پولیس چیف آزاد خان نے واضح کیاکہ قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، پولیس کے تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔

دوسری جانب منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ کی گرفتاری سے قبل پولیس کو چیلنج کرنےکی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی، جس میں‌ملزمہ گرفتاری سے خوف نہیں ہونے اور گرفتار کرنے کا چیلنج دے رہی ہے جبکہ منشیات کی کھلے عام فروخت کے میسجز بھی سامنے آ گئے ہیں.

یاد رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نےکامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں۔پولیس کے مطابق انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی۔ ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں