اسلام آباد:تونسہ اور اسلام آباد سمیت ملک کےدیگرعلاقوں میں ایچ آئی وی کےبڑھتےکیسزکا معاملہ پارلیمنٹ پہنچ گیا۔
سینیٹر سرمدعلی نےایچ آئی وی کیسزمیں تشویشناک اضافےپر توجہ دلاؤ نوٹس سینیٹ میں جمع کروا دیا، سینیٹ میں جمع توجہ دلاؤ نوٹس میں اسلام آباد کی صورتحال نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وفاقی دارالحکومت سے صحتِ عامہ کے انتظام میں اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کی توقع ہے،تونسہ اوردیگر متعدد علاقوں میں کیسز کے سامنے آنے سے ظاہر ہوتا ہے یہ مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع چیلنج ہے۔
اس ضمن میںتجویزکیاگیاہےکہ نگرانی کانظام مضبوط اورمحفوظ خون کی منتقلی کا طریقہ کاریقینی بنایاجائے،عوامی آگاہی مہمات کووسعت اور ٹیسٹنگ وعلاج کی سہولیات تک رسائی بہتربنانےکوترجیح دی جائے،ایڈزکا پھیلاؤ روکنےاورصحتِ عامہ کےتحفظ کےلیےاصلاحی اقدامات کیےجائیں،عوام کے ساتھ شفافیت اوربروقت رابطہ بھی خوف کے خاتمے اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیےنہایت اہم ہوگا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نےملک میں ایچ آئی وی کیسز کی وبا پھیلنے کی خبروں کی تردید کر دی۔اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نےبتایاکہ ملک میں ایچ آئی وی کی اسکریننگ کی تعدادمیں نمایاں اضافہ کیاجس کےبعد 80 ہزارسےزائد مثبت ایچ آئی وی کیسزسامنے آئےمگرکوئی بھی وبائی صورتحال نہیں۔
اسلام آباد،تونسہ اورکراچی کے بچوں میں ایچ آئی وی کامرض سرنج کےدوبارہ استعمال کی وجہ سے ہوا تھا، اسی وجہ سے اب چھوٹی سرنجوں کے دوبارہ استعمال پر بھی پابندی کا قانون بنادیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نےکہا قوم کو امراض سےمتعلق حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں،2020 میں 49 سینٹرتھے، 37 ہزار944 کی اسکریننگ ہوئی،2020 میں 6 ہزار 910 افراد میں ایچ آئی وی مثبت نکلا تھا،2025 میں 97 سینٹر کر دیئے،3 لاکھ 74 ہزار126 اسکریننگ ہوئیں،2025 میں ایچ آئی وی کے 14 ہزار 182 کیسز سامنےآئے۔
وزیرصحت نےکہا رجسٹرڈ مریضوں میں سے61 ہزارمریضوں کا علاج جاری ہے،ایچ آئی اوی لاعلاج مرض نہیں ہے،یہ قابل علاج ہے،مریض دوا لے رہا ہو تو ایچ آئی وی مرض مزید نہیں پھیلتا۔

