ملتان: ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ کر سپریم کورٹ کے مقدمات کی جنوبی پنجاب میںسماعت کے لیے ویڈیو لنک سہولت کا مطالبہ کر دیا.
ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان نے چیف جسٹس آف پاکستان، مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک باضابطہ یاددہانی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں ملتان میں سپریم کورٹ کے مقدمات کی سماعت کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر چوہدری عمر حیات، جنرل سیکرٹری فیاض حسین خان لغاری، اور کوآرڈینیٹر سید ریاض الحسن گیلانی کے دستخط سے بھجوائے گئے خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جنوبی پنجاب تقریباً 3 کروڑ 89 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے، جہاں عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
بار ایسوسی ایشن کے مطابق جنوبی پنجاب کے عوام کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں ہیں کہ وہ اسلام آباد جا کر سپریم کورٹ میں اپنے مقدمات کی پیروی کر سکیں اور بھاری سفری اخراجات برداشت کریں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جدید دور میں ملتان میں یہ سہولت فراہم کرنا انتہائی سادہ اور آسان ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف ایک کمرے اور دو سٹاف ممبران کی ضرورت ہے۔ہائیکورٹ بار ملتان نے اس مقصد کے لیے اپنے دو بڑے ہالز وقف کرنے کی بھی پیشکش کی ہے اور اس حوالے سے ہالز کی تصاویر بھی چیف جسٹس کو ارسال کی گئی ہیں۔
اس خط پر وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ اس سہولت سے جنوبی پنجاب کے غریب سائلین کو دہلیز پر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
خیال رہے کہ ہائیکورٹبار ایسوسی ایشن ملتان کے سابق صدر سید ریاض الحسن گیلانی کی جانب سے جنوبی پنجاب کےوکلاء اور عوام کو ان کا جائز حق دلانے کے لئے چند سال قبل جدوجہد شروع کی گئی اور کئی خط لکھنے کے ساتھ سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹمیںاحتجاجی دھرنا دینے کے ساتھ ہائیکورٹ ملتان بینچ اور ضلع کچہری میںکئی بار احتجاج کیا.

