WhatsApp Image 2026 03 29 at 11.13.15

پنجاب پولیس میں بڑا کریک ڈاؤن، خاتون سمیت 15 پولیس افسران کی موجودہ رینک سے تنزلی

لاہور: پنجاب پولیس میں احتساب کے عمل کو تیز کرتے ہوئے مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ایک درجہ تنزلی کی سخت سزا سنا دی گئی.

پولیس زرائع کے مطابق ناقص کارکردگی پر زیرو ٹالرنس پر اعلیٰ حکام کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، جبکہ اشتہاری ملزمان نہیں پکڑنے پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی عمل میں‌لائی گئی ہے.
WhatsApp Image 2026 03 29 at 11.13.53
اس ضمن میں‌جاری احکامات کے مطابق انسپکٹر ایم یونس (ایس ایچ او گوالمنڈی) کی تنزلی،انسپکٹر اختر حسین (ایس ایچ او نیو انارکلی) کا رینک کم، عثمان یونس (ایس ایچ او ڈیٹا دربار) بھی سزا کی زد میں، شکیل کاشف یوسف (ایس ایچ او اکی گیٹ) کی تنزلی، علی زبیر مقبول (ایس ایچ او موچی گیٹ) کی تنزلی، آصف ذوالفقار (ایس ایچ او راوی روڈ) بھی ایکشن کی زد میں، تمام 6 انسپکٹر وں‌ کو سب انسپکٹر کر دیا گیا.

اس طرح‌ سب انسپکٹرسید نبیل محسن (ایس ایچ او لوئر مال)، توصیف احمد (ایس ایچ او بھاٹی گیٹ)، فرح مشتاق (ایس ایچ او رنگ محل)، سبحان الیاس (ایس ایچ او شاد باغ) کی کارکردگی ناقص قرار کے رینک کم کر کے، سب انسپکٹر سے اے ایس آئی بنا دیا گیا.

اس کے علاوہ زاہد حسین (ایس ایچ او شاہدرہ)، طاہر مسعود (انچارج اپرکاں پارک)، زہیر احمد (انچارج پولیس پوسٹ میو ہسپتال)، ایم اعظم (انچارج جوزف کالونی)، فیصل بھٹی (انچارج سبزی منڈی) بھی کارروائی سے نہ بچ سکے، مذکورہ تمام سب انسپکٹروں کے بھی رینک کم کر کے اے ایس آئی بنا دیا گیا.

خیال رہے کہ چند روز قبل پنجاب کانسٹیبلری ملتان میں فرائض سرانجام دینے والے ڈی ایس پی زبیر خان بنگیش کے خلاف محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد انہیں عہدے سے تنزلی دے کر انسپکٹر بنا دیا گیا تھا۔

اس ضمن میں‌محکمہ پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ احتسابی پالیسی کے تحت کسی بھی افسر کو قانون اور ضابطے سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر سخت کارروائی جاری رہے گی۔

پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ محکمہ میں شفافیت اور نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں