Untitled 2026 02 13T213714.986

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ماحولیاتی تحفظ کیلئے متحد ہونے اور اقدامات کی اپیل

اسلام آباد: ارتھ آور 2026 کے موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملک بھر کے شہریوں، اداروں اور قانونی برادری سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق گزشتہ تین برس 2023 سے 2025 تک دنیا کے گرم ترین سال قرار پائے، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کی واضح علامت ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل پر ماحول کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
climate change 1
چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا قانونی طور پر لازمی ہے، عدالت نے ماحول کے تحفظ کے لیے خصوصی گرین بینچ قائم کر رکھا ہے جو نباتات اور حیوانات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل اسلام آباد میں مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے تاریخی فیصلے دیے، جن میں شیلا ضیاء کیس اور مونال ریسٹورنٹ کیس نمایاں ہیں، اسی طرح مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے تحفظ کے لیے غیر قانونی کان کنی، جنگلات کی کٹائی اور تجاوزات کے خلاف سخت احکامات جاری کیے گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فضائی آلودگی میں کمی، ویسٹ مینجمنٹ کی بہتری اور صنعتی آلودگی کے خاتمے کے لیے عدالت نے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نےعوام سے اپیل ہے کہ وہ فضلہ کم کریں، درخت لگائیں، پانی محفوظ بنائیں اور پائیدار طرزِ زندگی اپنائیں۔
WhatsApp Image 2026 03 28 at 08.39.59
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارتھ آور 2026ء مہم کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 28 مارچ 2026ء کو رات 8:30 سے 9:30 بجے تک عدالت کی عمارت کی روشنیاں بند رکھی جائیں گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماحول کا تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہر چھوٹا قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، آئیں مل کر صاف، سرسبز اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں