938870 15287464

خاتون کو آسانی کے لئے رہائش گاہ کے قریب فیملی کیس دائر کرنے کی اجازت، لاہور ہائیکورٹ

لاہور:ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد نے فیملی کیسز کی سماعت اور منتقلی سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ خاتون جہاں رہائش پذیر ہو اسی ضلع کی فیملی کورٹ میں خلع اور حق مہر کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے خاتون عائشہ ناصر کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا.Untitled 2026 03 05T102205.630

فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کی رہائش گاہ کے قریب مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دینا اس کے لیے قانونی کارروائی میں آسانیاں پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار عائشہ ناصر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا فیملی کیس جڑانوالہ کی فیملی کورٹ سے منتقل کرکے لاہور منتقل کیا جائے.

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے شوہر عون عباس نے فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ کی فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق بچے کے خرچ کا ایک الگ کیس پہلے ہی لاہور کی فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی وجہ سے انہیں دو مختلف شہروں میں پیش ہونا پڑتا ہے جو ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس لاہور منتقل کرنے کی اجازت دے دی، درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں صاحبزادہ مظفر ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں