نمائندگان:مری میں برفانی طوفان کی پیشگوئی کے تحت ڈی پی او نے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی۔
ڈی پی او ڈاکٹر رضا تنویر سپرا کے مطابق آج شام سےکل شام تک مری میں شدید برفباری کا امکان ہے، سیاح اور شہری رات کے وقت مری کا سفر کرنے سے مکمل گریز کریں، مری میں درجہ حرارت گرنے سے سڑکوں پربرف کی شیشےجیسی سخت تہہ بن سکتی ہے۔
ڈی پی او نے کہا کہ برف والی سڑک پرگاڑی کے بریک کام نہیں کرتے، رات کا سفرخطرناک ہوسکتا ہے، اندھیرےاور دھند میں برف ہٹانے والی مشینری کاکام کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے، ٹائروں پر’اسنوچین’ کے بغیر کسی گاڑی کو مری میں داخلے کی اجازت نہیں ملےگی۔ڈی پی او کا کہنا تھا کہ مری روانگی سے قبل گاڑی کا فیول ٹینک فل رکھیں، مکینیکل فٹنس چیک کرلیں، بریک، وائپرز، ہیٹر اور ڈی فوگر کا درست ہونا یقینی بنائیں، برف والی سڑکوں پر رفتار کم اوراگلی گاڑی سے 50 میٹر دور رہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گاڑی میں ہیٹر چلےتو شیشےکھلے رکھیں، آکسیجن کی کمی جانی نقصان کرسکتی ہے، دھند اور برفباری میں فوگ لائٹس اور ہیزرڈ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں، شاہراؤں یا ڈھلوانوں پر گاڑی پارک نہ کریں تاکہ برف ہٹانے میں رکاوٹ نہ ہو۔
ڈی پی او نےکہا کہ چیک پوسٹوں پرتعینات پولیس کی ہدایات پرسختی سےعمل کریں، ہنگامی صورتحال یاحادثے پر فوری پولیس ہیلپ لائن 15پر کال کریں۔
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔وادی لیپا آزاد کشمیر کا رابطہ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا سے منقطع ہوگیا، زمینی رابطہ منقطع ہونے پر پاک فوج نے بروقت کامیاب ہیلی ریسکیو آپریشن کیا۔طبی پیچیدگی کا شکار مریضہ کو فوری اور محفوظ انداز میں راولپنڈی ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اس کے علاوہ استور ویلی روڈ 4 روز سے بند ہے، پاراچنار میں بھی خون جما دینے والی سردی ہے جس سے رابطہ سڑکیں بند ہیں اور بجلی معطل ہے۔شدید برف باری کے باعث وادی تیرہ میں حالات زندگی شدید متاثر ہیں، اور پاک فوج کی ریلیف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
خیبر پختوانخواہ کے مختلف علاقوں میں حالیہ شدید برفباری کے دوران ریسکیو اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے برف میں پھنسے 3010 افراد کو بحفاظت نکال لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ 3 روز میں برف میں پھنسی 942 گاڑیوں کو نکال کر ٹریفک بحال کردیا ہے جب کہ وہاں سیکڑوں متاثرہ افراد کو موقع پر فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 60 اہم سڑکیں اور شاہرائیں ہیوی مشینری کے ذریعے کلیئر کی گئیں اور اس ریسکیو آپریشن میں 535 اہلکاروں اور 190 گاڑیوں نے حصہ لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق برفباری سے متاثرہ اضلاع میں 32 عارضی ریسکیو پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔

