لاہور: پنجاب میں ترقیاتی پروگرام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے متعلق اجلاس ہوا.
جس میں صوبے میں سڑکیں اور مکانات کی تعمیر ومرمت اور دیکھ بھال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت کرنے اور صوبائی ترقیاتی پروگرام میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کم ازکم 30 فیصد منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب کی سڑکوں کےعلاوہ صوبےمیں زرعی، صنعتی اور شہری اہمیت کی24 راہداریوں کےمنصوبوں کی منظوری بھی دے دی گئی جبکہ پرانے واٹر انفرا اسٹرکچر کی بحالی، صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم میں بہتری کا ہدف بھی دیا گیا۔
اجلاس میں مریم اورنگزیب نے ہر شعبے میں سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری سے منصوبوں کے آغاز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹول وصول کرنے کا جدید طریقہ کار رائج کیا جائے گا، مسافروں کو سفر کے دوران بہترین سڑک اور سہولیات فراہم ہوں گی، جدید نظام سے سفر کی حفاظت یقینی بنانے کے علاوہ عوامی اخراجات میں بھی کمی لائی جائے گی۔
اس کے علاوہ نجی شعبے کے تعاون سے 100 کلومیٹر چراغ آباد، جھنگ، شورکوٹ روڈ کو دو رویہ بنانے اور چکوال اور قصور میں آبی منصوبوں کیلئے ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔
