سید خالد جاوید بخاری
جنوبی پنجاب کی ایک اہم مگر نظرانداز شدہ تاریخی شخصیت بدرو ملتانی کی زندگی، کردار اور سماجی اثرات کے کئی روپ ایسے ہیں، جو انسانی زندگی کے محیر العقل ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ بدرو ریاستِ بہاولپور کی سرکاری طائفہ، ملتان کے ساداتِ بخاری سے روحانی طور پر وابستہ ایک صوفی مزاج فنکارہ، اور مظفرگڑھ کے علاقے سناواں میں لاوارث بچوں کی کفالت کے ذریعے ایک عملی سماجی مصلح تھیں۔ بدرو کا کردار زبانی تاریخ (oral history)، مقامی روایات، شہری جغرافیہ اور ریاستی ثقافتی ڈھانچے کی روشنی میں بدرو کی شخصیت کو ایک مکمل تاریخی کردار کے طور پر پیش کرتی ہے۔
برصغیر کی تاریخ میں درباری خواتین فنکاراؤں کو اکثر یا تو نظرانداز کیا گیا یا محض تفریحی کردار تک محدود رکھا گیا۔بدرو ملتانی اس عمومی تصور سے ہٹ کر ایک ایسی شخصیت ہیں ،جن کی زندگی میں فن، روحانیت اور سماجی خدمت تینوں عناصر بیک وقت موجود تھے۔ بدرو کا تعلق ریاستِ بہاولپور کی درباری ثقافت، ملتان کے اندرونِ شہر کی صوفی روایت اور مظفرگڑھ کے دیہی سماج سے رہا، جو انہیں ایک کثیر الجہتی تاریخی کردار بناتا ہے۔
بدرو ملتانی کی زبانی تاریخ (Oral History) جنوبی پنجاب کے بہاولپور، ملتان اور مظفر گڑھ کے مختلف علاقوں بستی پریڑاں، لوہاری گیٹ ملتان، سناواں، چاہ کنجری والہ (مظفرگڑھ) کے بزرگوں کی روایات، مقامی شہری و سماجی جغرافیہ محلہ محمدی، بستی پریڑاں اور سناواں کا موضع کئی کہانیاںپیش کرتا ہے. یہ مقالہ دعویٰ نہیں کرتا کہ تمام معلومات آرکائیول دستاویزات سے ثابت ہیں، بلکہ جہاں تحریری ثبوت نہیں وہاں مستند مقامی روایت کو بطور تاریخی ماخذ برتا گیا ہے، جو سماجی تاریخ میں ایک تسلیم شدہ طریقہ ہے۔
بدرو کا خاندانی و نسلی پس منظر دیکھیںتو معلوم ہوتا ہے کہ بدرو کے آباء و اجداد صدیوں پہلے جھنگ سے ہجرت کر کے ملتان میں آباد ہوئے۔یہ ہجرت معاشی سے زیادہ روحانی مراکز کے قرب کے لیے تھی۔بدرو تین بہنیں تھیں، ان کا کوئی بھائی نہ تھا۔یہ حقیقت ان کی زندگی میں عورتوں پر مشتمل خاندانی ڈھانچے کی بنیاد بنتی ہے، جو بعد میں ان کے سماجی فیصلوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔بدرو نے اپنی پوری زندگی بستی پریڑاں، لوہاری گیٹ ملتان میں گزاری اور وفات بھی یہیں پائی۔یہ علاقہ صدیوں سے سادات اور صوفی بزرگوں کا مسکن رہا ہے۔بدرو کا خاص روحانی تعلق سید امام شاہ بخاری المعروف پیڑے شاہ سے تھا۔اقتباس (زبانی روایت) میںکہا جاتا ہے کہ "بدرو پیڑے شاہ کے در سے جڑی ہوئی تھی، گانا بھی عبادت سمجھتی تھی”۔یہ روایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بدرو کے لیے موسیقی محض پیشہ نہیں بلکہ روحانی عمل تھا، جو صوفی روایت میں “سماع” کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔
بدرو ریاستِ بہاولپور کی سرکاری طائفہ میں شامل تھیں۔نواب صادق محمد خان ان سے صوفیانہ کافیاں سنا کرتے تھے۔اقتباس (ریاستی ثقافت پر عمومی ماخذ) کے مطابق "The court of Bahawalpur patronized musicians, singers and performers as part of its cultural identity”. یعنی "ریاستِ بہاولپور کا دربار موسیقاروں اور گلوکاراؤں کی سرپرستی کو اپنی ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھتا تھا”۔یہ اقتباس بدرو کے درباری مقام کو محض تفریحی نہیں بلکہ ثقافتی سطح پر اہم ثابت کرتا ہے۔
نواب صادق محمد خان کی ایک حویلی محلہ محمدی ملتان میں واقع تھی۔سید امام شاہ بخاری کے انتقال کے بعد یہ حویلی بدرو کو دے دی گئی۔یہ عمل بدرو کے دربار میں غیر معمولی اعتماد اور عزت کا ثبوت ہے، کیونکہ کسی طائفہ کو مستقل رہائشی جائیداد دینا عام روایت نہیں تھی۔بدرو نے شادی نہیں کی۔ان کی بہن زہراں مائی کی ایک بیٹی عباسی خاندان میں بیاہی گئی، جس کے نام پر حویلی کردی مشہور ہوئی۔بدرو نے حیاتیاتی ماں بننے کے بجائے سماجی ماں کا کردار ادا کیا، جو جنوبی پنجاب کے سماجی تناظر میں ایک انقلابی عمل تھا۔نواب نے بدرو کو چاہ کنجری والہ، سناواں (ضلع مظفرگڑھ) میں زمین عطا کی۔بدرو نے اس زمین پر لاوارث بچوں کی پرورش کی، شادیاں کروائیں، مستقل خاندان بسائے، اور آج بھی وہ موضع موجود ہے اور وہ خاندان آباد ہیں۔اقتباس (زبانی روایت) کے مطابق "بدرو نے بچوں کو صرف پالا نہیں، خاندان بنا دیے”۔یہ جملہ بدرو کے سماجی کردار کو خیرات سے آگے لے جا کر سماجی تعمیر (social construction) کی سطح پر لے آتا ہے۔
بدرو کی شخصیت تین سطحوں پر نمایاں ہوتی ہے، جس میںثقافتی سطح – درباری فنکارہ، روحانی سطح – صوفی مزاج، سادات سے وابستگی اور سماجی سطح – لاوارث بچوں کی کفالت، زمین کا سماجی استعمال ہے. یہ تینوں سطحیں مل کر بدرو کو محض ایک فرد نہیں بلکہ ادارہ جاتی کردار بناتی ہیں۔بدرو ملتانی جنوبی پنجاب کی تاریخ کی ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نےطاقت کے بغیر اثر پیدا کیا، شادی کے بغیر خاندان بسائے، اور فن کو روحانیت و خدمت سے جوڑا.ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ صرف حکمرانوں سے نہیں، خاموش خدمت گزار عورتوں سے بھی بنتی ہے۔
حوالہ جات و ریفرنسز (References):
زبانی تاریخ (Primary Oral Sources):
بزرگ، بستی پریڑاں، لوہاری گیٹ، ملتان، مقامی خاندان، چاہ کنجری والہ، سناواں، مظفرگڑھ
ثانوی ماخذ (Secondary Sources):
Talbot, Ian. Punjab and the Raj.
Eaton, Richard M. Sufis of Bijapur (صوفی روایت کے تقابلی مطالعہ کے لیے)
Government of Punjab. History of Bahawalpur State.
Metcalf, Barbara. Islamic Revival in British India
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف تحقیقی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔


