Untitled 2026 01 02T013847.092

قید، بیماری اور خاموش چیخیں: جیلوں میں پھیلتا ایچ آئی وی

ویب نیوز: قیدی اپنی سزائیں کاٹتے ہوئے اس دن کے منتظر رہتے ہیں جب بالآخروہ قید و بند کی زندگی سے آزاد ہوں گے۔ تاہم، ایسے میں جب ملک بھر کی جیلوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کی وبا سرایت کر رہی ہے، تو بیماری کی کال کوٹھڑیوں میں بند بہت سے قیدیوں کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ آیا وہ آزادی کی روشنی دیکھ بھی پائیں گے یا نہیں؟۔

بدقسمتی سے ملک بھر کی جیلوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کی وبا داخل ہو رہی ہے، صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ یواین ایڈز کے ایک اندازے کے مطابق 2023 تک پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 97 ہزار 52 ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں شرحِ پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے جہاں ہر ایک لاکھ آبادی میں 20 کیسز رپورٹ ہوئے، اس کے بعد سندھ میں 6، پنجاب میں 5 اور بلوچستان میں 3 کیسز رپورٹ ہوئے۔
Untitled 2026 01 02T015149.566
ذرائع کے مطابق پنجاب کی مختلف جیلوں میں سکریننگ کے دوران اب تک 645 قیدیوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کی تشخیص ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ تعداد مجموعی قیدی آبادی کے مقابلے میں کم دکھائی دیتی ہے، تاہم جیلوں کے محدود وسائل اور ناکافی طبی سہولیات کے تناظر میں یہ ایک نہایت تشویشناک حقیقت ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 148 مریض رجسٹرڈ ہیں۔ لاہور کیمپ جیل میں 83، فیصل آباد سنٹرل جیل میں 37، کوٹ لکھپت لاہور میں 27 اور گوجرانوالہ سنٹرل جیل میں بھی 27 قیدی ایچ آئی وی سے متاثر پائے گئے ہیں۔ اس وقت 18 ایچ آئی وی سے متاثرہ منشیات کے عادی افراد مرکز میں زیرِ علاج ہیں۔

پنجاب، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جیلوں کے ایک وسیع نیٹ ورک پر مشتمل ہے جہاں قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے میں اس وقت 43 جیلیں ہیں جن میں 61 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں، جبکہ ان جیلوں کی مجموعی گنجائش صرف تقریباً 37 ہزار ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کا مسئلہ مستقل نوعیت کا ہے، جو نہ صرف خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے بلکہ ایچ آئی وی کی وبا کی صورت میں سہولیات پر اضافی بوجھ بھی ڈالتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کی مختلف جیلوں میں سکریننگ کے دوران اب تک 645 قیدیوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کی تشخیص ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ تعداد مجموعی قیدی آبادی کے مقابلے میں کم ہے، تاہم محدود وسائل اور ناکافی طبی سہولیات کے پیش نظر یہ نہایت تشویشناک ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں 148 مریض رجسٹرڈ ہیں۔ لاہور کیمپ جیل میں 83، فیصل آباد سنٹرل جیل میں 37، کوٹ لکھپت لاہور میں 27 اور گوجرانوالہ سنٹرل جیل میں 27 قیدی ایچ آئی وی سے متاثر پائے گئے ہیں۔
Untitled 2026 01 02T015510.049
جہاں سندھ کے حکام نے جیلوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کیا، وہیں پشاور سنٹرل جیل کے ڈی آر سی کے انچارج نواز گل نے بتایا کہ اس وقت 18 منشیات کے عادی افراد ایچ آئی وی کے ساتھ مرکز میں زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم صوبائی ایڈز پروگرام، مختلف ڈونرز اور این جی اوز کو رپورٹ کرتے ہیں۔ سنٹرل جیل پشاور میں کل 3 ہزار قیدی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 38 جیلیں ہیں جن میں مجموعی طور پر 13 ہزار قیدی ہیں۔ بڑی جیلوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض قیدیوں کی کسی حد تک نگرانی اور علاج کیا جا رہا ہے”۔

یو این ایڈز سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے اہم ذرائع یہ ہیں: 52.55 فیصد کیسز خون کی آلودگی کے باعث، 23 فیصد منشیات استعمال کرنے والوں میں سرنج کے مشترکہ استعمال سے، 18 فیصد مردوں میں ہم جنس تعلقات کے باعث، 3 فیصد ٹرانسجینڈر سیکس ورکرز کی سرگرمیوں سے جبکہ 1 فیصد کیسز خواتین سیکس ورکرز سے تعلقات کے نتیجے میں سامنے آئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سے قیدی جیل آنے سے پہلے ہی وائرس کے حامل ہوتے ہیں، تاہم کچھ قیدی قید کے دوران بھی متاثر ہو جاتے ہیں، جس کی وجوہات میں منشیات کی سرنجوں کا مشترکہ استعمال، استرا بلیڈ کا اجتماعی استعمال، طبی آلات کا غیر جراثیم شدہ استعمال اور حتیٰ کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات بھی شامل ہیں۔نشے اور انفیکشن کا عنصر بھی نظر انداز نہیں‌کیا جا سکتا ہے. جرم کرنے پر جیل جانا پڑتا ہے، لیکن کچھ جرائم ایسے بھی ہیں جو قید کے ساتھ ایک مہلک بیماری کو بھی ہمراہ لے آتے ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ نوجوان منشیات کی لت کا شکار ہیں، جن کے لیے ایچ آئی وی/ایڈز اکثر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک خاموش ساتھی بن جاتا ہے، جہاں نشے اور انفیکشن کی یہ مہلک جوڑی پنپتی ہے۔
Untitled 2026 01 02T013853.814
پشاور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ فرمان اللہ، جو کباڑ چننے کا کام کرتے تھے، چار سال قبل کوڑے کے ڈھیر میں منشیات ملنے کے بعد مختلف نشوں کے عادی ہو گئے۔ فارمن نے سنٹرل جیل پشاور کے منشیات بحالی مرکز میں نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، "ابتداء میں میرے دوست مشترکہ سرنجوں کے ذریعے منشیات لیتے تھے، پھر ایک دن میں نے بھی آزما لیا۔ نشے کی لت لگنے کے بعد میں نے آئس سمیت مختلف منشیات استعمال کرنا شروع کر دیں۔ ایک دن مہنگی منشیات چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا اور پولیس نے گرفتار کر لیا”۔بدقسمتی سے، خون کے ٹیسٹ کے بعد فارمن میں ایچ آئی وی/ایڈز کی تشخیص ہوئی، جس کے باعث اب ان کا علاج صرف منشیات بحالی تک محدود نہیں بلکہ ایڈز کے علاج پر بھی مشتمل ہے۔ فارمن کا کہنا ہے، "افسوس کی بات یہ ہے کہ جیلوں میں ایچ آئی وی کے مریض قیدیوں کے لیے مناسب سہولیات موجود نہیں، تاہم لاعلمی کے باوجود فارمن نے امید ظاہر کی کہ وہ ایک دن جیل سے رہائی پا کر صحت مند اور باعزت شہری کی حیثیت سے معاشرے میں واپس آئیں گے”۔

سندھ میں ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ پر مقامی و بین الاقوامی این جی اوز کے ساتھ کام کرنے والے کارکن محمد علی سرنگ نے تصدیق کی کہ صوبے میں بیماری کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ خون کی آلودگی ہے۔ جیلوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جیلوں میں رکھے گئے منشیات کے عادی افراد خفیہ سپلائی نیٹ ورکس کے باعث اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں، جس سے سرنجوں کے مشترکہ استعمال کے ذریعے وائرس دوسرے قیدیوں میں منتقل ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ نیٹ ورکس اکثر مقامی پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے چلتے ہیں، جس کے باعث انہیں پکڑنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ تاہم بعض مخصوص کیسز جیلوں کے اندر ہونے والی قابلِ مذمت سرگرمیوں کی جھلک دکھاتے ہیں۔ 2023 میں ایک کیس سامنے آیا جب کیمپ جیل لاہور میں سرکاری ملازمین قیدیوں کو منشیات فراہم کرتے ہوئے پکڑے گئے۔

سابق ڈی آئی جی جیل خانہ جات محمد حسن سیٹھو نے تصدیق کی کہ کراچی کی جیلوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کے زیادہ تر مریض درحقیقت منشیات کے عادی تھے۔ جب ایکسپریس ٹریبیون نے ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے سپرنٹنڈنٹ شہاب الدین صدیقی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی جیل میں اس وقت 203 منشیات کے عادی قیدی ہیں، جن میں سے 114 ایچ آئی وی/ایڈز کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "عام طور پر نئے قیدیوں کی ایچ آئی وی اسکریننگ اور ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ایچ آئی وی کے مریضوں کو الگ رکھا جاتا ہے تاکہ دیگر قیدی محفوظ رہیں”۔

جنس کی بنیاد پر تشدد کو معاشرے میں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، خصوصاً جب یہ بند سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ ریاستی ڈھانچوں میں بھی یہی رویہ پایا جاتا ہے، جہاں جیلوں کے اندر جنسی تشدد ایک سنگین مگر کم تسلیم شدہ حقیقت ہے، جو خواتین اور ٹرانسجینڈر قیدیوں کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈالتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین قیدی مرد جیل اہلکاروں کی جانب سے جنسی تشدد کے شدید خطرے سے دوچار ہوتی ہیں، جو اکثر خوراک یا سہولتوں کے بدلے جنسی تعلقات پر مجبور کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اسلام آباد کے ایک وکیل کے حوالے سے بتایا گیا کہ سیکس ورکرز خاص طور پر زیادہ کمزور طبقہ ہیں۔

مثال کے طور پر، ایچ آر ڈبلیو رپورٹ میں شامل 24 سالہ رقاصہ کرن نے ساہیوال میں "ڈانس کی ترغیب” کے الزام میں گرفتاری کے بعد جیل اہلکاروں کے رویے کا دل دہلا دینے والا تجربہ بیان کیا۔ کرن کا کہنا تھا، "گارڈز کے لیے میں کھلا نشانہ تھی۔ وہ فحش جملے کستے اور نامناسب طریقے سے چھوتے تھے۔ خواتین قیدیوں کے ساتھ اکثر ایسا سلوک کیا جاتا ہے کیونکہ انہیں ‘ڈھیلے کردار’ کی حامل سمجھا جاتا ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں قصائی کی دکان میں لٹکا گوشت ہوں”۔

اگرچہ جیلوں کے اندر جنسی تشدد کے اصل واقعات شاید کبھی میڈیا تک نہ پہنچ سکیں، تاہم اس معاملے سے واقف گمنام ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ رضامندی سے یا جبر کے نتیجے میں ہونے والے غیر محفوظ جنسی تعلقات بھی جیلوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ ہیں۔

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر برائے جینڈر سٹڈیز ڈاکٹر عظمیٰ عاشق خان کے مطابق جیلوں میں سیکس ورکرز اور ٹرانسجینڈر قیدیوں جیسے کمزور طبقات کے خلاف جنسی تشدد کی رپورٹس جیل عملے میں صنفی حساسیت اور احتساب کی کمی کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔ڈاکٹر خان نے کہا، "کمزور طبقات کے ساتھ بدسلوکی یا زیادتی کی جڑیں معاشرتی تعصب اور صنفی حساس تعلیم کی کمی میں پیوست ہیں۔سکولوں میں بچوں کو ہر فرد کے ساتھ باعزت رویہ سکھانا چاہیے کیونکہ یہی بچے مستقبل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے، اس لیے جیلوں کو محفوظ ماحول ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے اکثر ایسا نہیں ہوتا”۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی پاکستان میں ایچ آئی وی جینڈر اسسمنٹ رپورٹ کے مطابق خواتین و مرد سیکس ورکرز اور ٹرانسجینڈر افراد پولیس کی جانب سے جنسی تشدد اور جبر کے خاص خطرے سے دوچار ہیں۔ ایک ٹرانسجینڈر فرد نے بتایا کہ اسے متعدد پولیس اہلکاروں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے مزاحمت کی تو اس پر منشیات رکھنے کا جھوٹا مقدمہ بنا دیا جائے گا۔ ایسے پوشیدہ جرائم جیلوں میں بیماری کے پھیلاؤ کی جزوی وضاحت کرتے ہیں۔

قومی اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2024 تک پاکستان میں رجسٹرڈ ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی تعداد 72 ہزار 515 ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایڈز پاکستان میں ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

سندھ حکومت کے ایچ آئی وی پروگرام سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کی جیلوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی بحالی کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ متعدی امراض کنٹرول کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر کنول مصطفیٰ نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں سندھ کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی ایچ آئی وی اسکریننگ کی ہے، تاہم نتائج کو خفیہ قرار دیتے ہوئے فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب آئی جی پنجاب فاروق نذیر کا کہنا ہے کہ تمام قیدیوں کی جیل میں داخلے کے وقت اسکریننگ کی جاتی ہے اور انہیں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، "رہائی کے بعد مریض کی معلومات محکمہ صحت کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔ یہ اقدام پنجاب کی تمام جیلوں میں پہلی بار کیا گیا ہے اور مریضوں کو جیل میں الگ رکھا جاتا ہے”۔
Untitled 2026 01 02T015240.499
اطلاعات کے مطابق پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر جیلوں میں باقاعدہ سکریننگ کا نظام وضع کیا ہے۔ ہر چھ ماہ بعد خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ نئے کیسز کی نشاندہی ہو سکے۔ اس کے علاوہ صوبے کے مختلف شہروں میں قائم ایڈز ٹریٹمنٹ سینٹرز (اے آر ٹی سینٹرز) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر پندرہ دن بعد جیلوں کا دورہ کریں، مریضوں کو رجسٹر کریں اور تین ماہ کے لیے اینٹی ریٹرو وائرل ادویات فراہم کریں۔

خیبرپختونخوا کے ایچ آئی وی کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق حیات نے بتایا کہ صوبے بھر میں 13 علاج مراکز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "جیلوں کی صحت سہولیات مریضوں کو متعلقہ علاج مراکز میں ریفر کرتی ہیں جہاں اسکریننگ، مشاورت اور مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز، طبی عملہ اور جیل انتظامیہ مریضوں کی حالت کے مطابق انہیں ہمارے پاس بھیجتی ہے”۔

اگرچہ ریاستی حکام ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کو بروقت علاج کی یقین دہانی کراتے ہیں، ماہرین کا خیال ہے کہ صحت کی سہولیات کی مؤثر فراہمی کے لیے جیلوں میں بھیڑ کم کرنا ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں میں ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ غیر محفوظ سرگرمیوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ مزید یہ کہ جیلوں کے اندر منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے بحالی مراکز قائم کیے جانے چاہئیں۔

By Aihtesham Khan/Muhammad Ilyas/Razzak Abro/Mahnoor Tahir Ali
With Additional Reporting by Mahnoor Tahir
All facts and information are the sole responsibility of the writers
PUBLISHED December 21, 2025
https://tribune.com.pk/story/2583261/locked-up-with-hiv

اپنا تبصرہ لکھیں