سید خالد جاوید بخاری
ملتان جنوبی ایشیا کی ان چند تہذیبی بستیوں میں شامل ہے جن کی مذہبی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ یہاں ہندو مندروں، سکھ گردواروں اور جین عبادت گاہوں نے صدیوں تک مذہبی رواداری، علمی روایت اور تہذیبی تسلسل کو جنم دیا۔اس تلخ حقیقت کا جائزہ لینے کی کوشش تو انکشاف ہوا ہے کہ 1990ء سے سال 2025ء کے دوران ملتان میں غیر مسلم عبادت گاہوں کو جس منظم انداز میں غیر فعال، کمرشلائز، یا مذہبی تشخص سے محروم کیا گیا، اس میں ہندو اوقاف / Evacuee Trust Property Board (ETPB) کا کردار محض انتظامی نہیں بلکہ آئینی اور تاریخی سطح پر تباہ کن رہا ہے۔یہ عمل نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات اور ٹرسٹ لا کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ملتان — تہذیب، مذہب اور قدامت کی سرزمین ہونے کے ساتھ ملتان کو بجا طور پر “شہرِ اولیاء” کہا جاتا ہے، مگر یہ شناخت صرف اسلامی دور تک محدود نہیں۔ اسلام سے صدیوں قبل ملتان-ہندو مت، جین مت، بدھ مت اور بعد ازاں سکھ مت کا ایک بڑا مذہبی مرکز رہا۔یہ عبادت گاہیں صرف مذہبی عمارتیں نہیں بلکہ تہذیبی دستاویزات تھیں۔ ان کی تباہی دراصل تاریخ کے تسلسل کو توڑنے کے مترادف ہے۔
ان غیر مسلم عبادت گاہوں کی موجودہ حالت دیکھ کر ایک سوال زہن میںآتا ہے کہ کیا ہندو اوقاف / ETPB نے ملتان کی غیر مسلم عبادت گاہوں کو ٹرسٹ کے بجائے ریاستی و کمرشل اثاثہ سمجھ کر ہزاروں سالہ مذہبی تاریخ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا؟
آئین پاکستان کا آرٹیکل 20 کہتا ہے کہ” Every citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion”.
جس کا اردو ترجمہ ہے کہ "ہر شہری کو اپنے مذہب پر ایمان رکھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے”۔ جس کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہےکہ عبادت گاہ پر رسائی کے بغیر مذہب پر عمل محض ایک نظری حق رہ جاتا ہے۔ اس طرح ملتان میں مندروں اور گردواروں کو بند کرنا آرٹیکل 20 کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔
آرٹیکل 36 — اقلیتوں کا تحفظ کرتاہے کہ "The State shall safeguard the legitimate rights and interests of minorities”. جس کااردو ترجمہ یہ ہے کہ "ریاست اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گی”۔اس کی تشریح کے مطابق یہ محض اخلاقی وعدہ نہیں بلکہ آئینی حکم ہے۔اس ضمن میں ہندو اوقاف کی خاموشی یا غلط پالیسی ریاستی ذمہ داری کی نفی ہے۔
1 Evacuee Trust Property Act, 1975 کے قانون کے تحت تمام غیر مسلم عبادت گاہیں Trust Property ہیں، اور ETPB محض امین (Trustee) ہے، مالک نہیں جبکہ ٹرسٹ لاء کے بنیادی اصول کا جائزہ لیںتو اس ضمن میںایک عالتی اقتباس کہتا ہے کہ
"A trustee is bound to administer the trust property strictly in accordance with the purpose of the trust”. جس کا اردو ترجمہ ہے کہ "ٹرسٹی اس بات کا پابند ہے کہ وہ ٹرسٹ جائیداد کو صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کرے جس کے لیے ٹرسٹ قائم کیا گیا ہو”۔ اس کے مطابق ملتان میں مندروں کو مارکیٹ، دفاتر یا گودام بنانا Breach of Trust ہی نہیں بلکہ تاریخی جرم ہے۔اس طرح اعلیٰ عدالتی نظائر بھی ریاستی غفلت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ — SMC No.1 of 2014 (PLD 2014 SC 699) کے مطابق:
"It is the duty of the State to protect the places of worship of minorities and ensure their unhindered access”. یعنی "ریاست کا فرض ہے کہ وہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ کرے اور ان تک بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائے”۔یہ فیصلہ Binding Law ہے۔ ملتان میں اس کی عدم تعمیل براہِ راست توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔اس ضمن میں سپریم کورٹ (2009) — از خود نوٹس میںکہا گیا ہے کہ”State inaction itself constitutes a violation of fundamental rights”. یعنی "ریاست کی بے عملی بذاتِ خود بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے”اور ہندو اوقاف کا "غیر جانبدار” رہنا درحقیقت آئینی جرم ہے۔
ملتان میں واقع غیر مسلم عبادت گاہوں کی عملی صورتِ حال یہ ہےکہ عملی طور پر بڑی نمائندہ عبادت گاہوں میں پرہلاد پوری مندر تک محدود رسائی ہے، اندرونی طور پر طویل عرصہ بعد تزئین و آرائش کی گئی لیکن باہر سے بظاہر کھنڈر نظر آتی ہے.اس طرح کالی ماتا مندر مکمل طور پر غیر فعال ہے. اندرون شہر قدیم شِوالا پر کمرشل قبضہ ہے، تو گردوارہ گرو نانک کنٹونمنٹ کنٹرول میں ہے اور جین دراسر بھی مکمل طور پر متروک ہے.
ان عبادت گاہوں کی صورتحال افسوس ناک ہونے کے ساتھ اس خطے کا ایک مشترکہ سانحہ ہے، کہ جس کی وجہ سے مذہبی تشخص کی تبدیلی، اصل کمیونٹی کی بے دخلی، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی جیسے اقدامات،یہ سب ملتان کی قدامت پرستی پر کاری ضرب ہیں۔ تاریخی اور تہذیبی تباہی کا آئینی پہلو دیکھیںتو جب عبادت گاہ ختم ہوتی ہے تو، عبادت ختم نہیں ہوتی، بلکہ یادداشت، شناخت اور تاریخ ختم ہوتی ہے. یہ عمل Cultural Genocide کے زمرے میں آتا ہے، جسے آئینِ پاکستان قطعاً برداشت نہیں کرتا۔
اس تناظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہندو اوقاف نے امانت کے بجائے ملکیت کا رویہ اپنایا، ملتان کی غیر مسلم مذہبی تاریخ کو منظم انداز میں مٹایا گیا اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہیں ہوا، دوسری جانب ریاستی خاموشی نے تباہی کو دوام دیا.اس لئے صرف ملتان کے لیے جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے اور تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت کی بحالی کی جائے.اس کے ساتھ ہندو اوقاف / ETPB کا عدالتی آڈٹ کیا جائے اور مذہبی کمیونٹی کو انتظامی طور پر تمام تر اختیارات دیتے ہوئے آئندہ ان مذہبی مقامات کی کمرشلائزیشن پر مکمل پابندی عائد کی جائے.
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ملتان میں غیر مسلم عبادت گاہوں کی تباہی محض انتظامی بدانتظامی نہیں بلکہ آئینی، تاریخی اور تہذیبی جرم ہے۔ ہندو اوقاف کا کردار اس تباہی میں مرکزی رہا، جسے عدالتی مداخلت کے بغیر روکا نہیں جا سکتا۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو آنے والی نسلوں کو ملتان کی ہزاروں سالہ مذہبی تاریخ صرف کتابوں میں ملے گی — زمین پر نہیں۔
حوالہ جات (References):
1. Constitution of Islamic Republic of Pakistan, 1973
2. Evacuee Trust Property Act, 1975
3. PLD 2014 Supreme Court 699 (SMC No.1 of 2014)
4. PLD 2009 Supreme Court (Suo Motu Jurisdiction)
5. SCMR — Minority Rights Jurisprudence
6. Principles of Trust Law (Religious & Charitable Trusts)
7. Lahore High Court Judgments on Temples & Gurdwaras
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔



