Untitled 2025 11 29T072440.330

انسانی حقوق کا عالمی دن: پاکستان میں بحران، امید اور جدوجہد کا نیا منظرنامہ

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور مکالمے منعقد کیےجا رہے ہیں، جن میں انسانی حقوق کی موجودہ عالمی و قومی صورتحال، چیلنجز اور مستقبل کی ترجیحات پر گفتگو تو کی گئی لیکن یہ امر اہم ہے کہ انسانی حقوق کاغذوں کا نہیں، انسانوں کی زندگیاں بہتر بنانے کا نام ہے۔یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کو 75 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر دنیا آج بھی ان وعدوں سے کہیں پیچھے ہے جن میں وقار، برابری، آزادی اور تحفظ شامل تھے۔
405750 8135780 updates
عالمی سطح پر انسانی حقوق کی صورتحال کے اعدادوشمار خطرے کی گھنٹی ہیں‌، مختلف بین الاقوامی اداروں—اقوام متحدہ، آئی ایل او، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل—کی رپورٹس کے مطابق عالمی صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ دنیا میں اس وقت 11 کروڑ سے زائد افراد جبری نقل مکانی کا شکار ہیں، جو تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ہر سال 7 لاکھ سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں استحصال اور انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوتی ہیں۔ڈیجیٹل سپیس میں 90 فیصد ڈیپ فیک جنسی مواد خواتین کے خلاف استعمال ہو رہا ہےاور دنیا کے 40 فیصد ممالک میں اظہارِ رائے اور صحافت پر رکاوٹیں موجود ہیں۔
ٹیکنالوجی کے تیز رفتار استعمال نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکل بدل دی ہے جبکہ انصاف کی رفتار ابھی تک اس تبدیلی کا ساتھ نہیں دے سکی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی پیچیدہ تصویر ہی ہر جانب نظر آتی ہے کہ مختلف اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں متعدد انسانی حقوق کے مسائل بدستور برقرار ہیں کہ سالانہ 20 ہزار سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں، جب کہ رپورٹ ہونے والے کیسز اصل تعداد کا محض ایک فیصد ہیں۔73 فیصد خواتین صحافی آن لائن تشدد یا ہراسگی کا سامنا کرتی ہیں۔2022 کے سیلاب کے اثرات اب بھی برقرار ہیں اور لاکھوں خاندان بحالی کے منتظر ہیں۔ایک جانب جبری گمشدگیوں کے سیکڑوں کیسز تاحال حل طلب ہیں تو دوسری جانب افغان مہاجرین کی زبردستی واپسی کے فیصلے نے انسانی حقوق کے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں خواتین، بچے، اقلیتیں، پناہ گزین، مزدور اور ڈیجیٹل سپیس استعمال کرنے والی نوجوان لڑکیاں شامل ہیں۔
403154 772279 updates
جنوبی پنجاب میں وسائل کی کمی اورمسائل کی زیادتی ہے، جہاں انسانی حقوق کے بحران زیادہ شدید ہیں کہ سیلاب اور ماحولیاتی تباہی کے تناظر میں 2025 کے سیلاب میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔علی پور، کوٹ مٹھن، روجھان اور جلال پور کے کئی علاقے اب تک بحالی سے محروم ہیں۔خواتین اور بچیوں میں غذائی قلت، صحت اور ماہواری کی ضروریات کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی اور غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں خواتین کی پولیس تک رسائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان میں آن لائن ہراسگی، بلیک میلنگ اور نجی تصاویر کے غلط استعمال کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی محدود صلاحیت ایک بڑا چیلنج قرار دی جا رہی ہیں، تو وہیں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی، عبادت گاہوں کے تنازعات اور مقدس مقامات پر حملوں کے واقعات نے تشویش پیدا کر دی ہے۔
Untitled 2025 06 12T172656.684
اس وقت انسانی حقوق کے تناظر میں‌اہم ضرورت یہ ہے کہ سائبر کرائم، خواتین کے تحفظ اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے سخت اور مؤثر قانون سازی کی جائے. وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹرز، کرائسز سیلز اور قانونی امدادی مراکز کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ماحولیاتی انصاف کو بنیادی انسانی حق تسلیم کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے لیے خصوصی ترقیاتی منصوبے اور ایمرجنسی سپورٹ پیکج فراہم کیا جائے.

یہ امر مسلمہ ہے کہ "جب تک ایک بھی شہری عزت، تحفظ، صحت، انصاف یا آواز سے محروم ہے—ہماری جدوجہد مکمل نہیں ہو سکتی”۔اس لئے انسانی حقوق کا تحفظ صرف ایک دن کا مطالبہ نہیں، بلکہ ہر روز کی ذمہ داری ہے۔
کیونکہ محفوظ انسان—ہی مضبوط پاکستان ہے۔

Yousf Abid
یوسف عابد

اپنا تبصرہ لکھیں