Untitled 2025 11 08T070145.900

مفت سم کارڈز کا منظم فراڈ

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

مملکت خداداد پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رسائی نے عوام کی زندگی میں آسانیاں تو پیدا کی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ مختلف سائبر جرائم اور فراڈ کے نئے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ 2009 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر قانونی سم کارڈز کے استعمال کو روکنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کا نظام متعارف کرایا۔ اس اقدام سے دہشت گردی اور مالی جرائم میں استعمال ہونے والی سموں پر کافی حد تک قابو پایا گیا مگر اب اسی نظام کو فراڈی گروہ نئے انداز میں غلط استعمال کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پی ٹی اے نے ایک خطرناک اسکام کے خلاف وارننگ جاری کی ہے جس میں دھوکہ دہی کرنے والے افراد شہریوں کو مفت سم کارڈز یا مالی امداد کی جعلی اسکیموں کی آڑ میں بائیو میٹرک ڈیٹا فراہم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ یہ فراڈ عام طور پر خواتین یا کم تعلیم یافتہ افراد کو نشانہ بناتا ہے۔ بعد ازاں ان کے انگوٹھوں کے نشانات اور فنگر پرنٹس سے جعلی سمیں جاری کی جاتی ہیں جو مالی دھوکہ دہی، شناخت کی چوری اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
Untitled 2025 11 08T070523.986
اس اسکام کا بنیادی مقصد شہریوں کی حساس معلومات چوری کرکے انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کرنا ہے۔ فراڈی گروہ “مفت” یا “مدد” کے نام پر عوامی ہمدردی حاصل کرتے ہیں، لیکن دراصل وہ قومی سلامتی اور ذاتی رازداری کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے جرائم سے نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔یہ معاملہ نہ صرف ایک انتظامی مسئلہ ہے بلکہ سماجی شعور کی کمی کا بھی مظہر ہے۔ پی ٹی اے کی جاری کردہ وارننگ ایک تکنیکی اور عوامی آگاہی دونوں پہلو رکھتی ہے۔ تاکہ عام شہری بھی آسانی سے سمجھ سکیں کہ ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کس قدر ضروری ہے۔

اگر اسے ایک آگاہی مہم کے طور پر دیکھا جائے تو یہ جدید دور کے "ڈیجیٹل فریب” کی مثال ہے۔ جیسے پرانے زمانے میں جعل ساز سادہ لوح عوام سے زمین یا زیور ہتھیا لیتے تھے، آج کے دھوکے باز انگوٹھوں کے نشان اور شناختی ڈیٹا چرا لیتے ہیں۔ اس میں طاقتور علامتی پہلو موجود ہے۔ ٹیکنالوجی جو انسان کی سہولت کے لیے بنی تھی، اب انسان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
Untitled 2025 11 08T070739.959
پی ٹی اے کی جانب سے یہ انتباہ بروقت اور ضروری ہے کیونکہ بائیو میٹرک معلومات ایک ایسا ڈیٹا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی کا شناختی ڈیٹا مجرموں کے ہاتھ لگ جائے تو اس کے ذریعے بینک اکاؤنٹس، قرضوں اور موبائل اکاؤنٹس تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔یہ اسکام پاکستان میں ڈیجیٹل لٹریسی کی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں میں شعور کی کمی اور مفت کی پیشکشوں کی کشش، انہیں ایسے جال میں پھنسنے پر مجبور کرتی ہے۔ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی عوامی آگاہی کے اس عمل میں شامل ہونا چاہیے تاکہ ڈیجیٹل تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جا سکے۔

مفت سم کارڈز کے نام پر بائیو میٹرک ڈیٹا چوری کا یہ اسکام صرف ایک مالی یا انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات کسی غیر مصدقہ فرد یا ادارے کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ پی ٹی اے کی یہ وارننگ عوامی بیداری کا حصہ ہے، اور اگر اسے سنجیدگی سے لیا جائے تو بہت سے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم “ڈیجیٹل احتیاط” کو اپنی روزمرہ عادت بنائیں، کیونکہ جدید دنیا میں سب سے قیمتی چیز اب صرف سونا یا زمین ہی نہیں بلکہ ہماری اپنی شناخت بھی ہے۔

Untitled 2025 06 27T172953.622
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے، آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں