419812 6975173 updates

چار سینیٹرز سائبر فراڈ کا شکار — پارلیمنٹیرینز کو نشانہ بنانے والے ہیکرز سرگرم

اسلام آباد: پارلیمنٹیرینز کو نشانہ بنانے والے سائبر فراڈ اور شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے لیک ہونے کے معاملے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گرما گرم بحث کو جنم دیا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کی، جس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی نے تفصیلی بریفنگ دی۔
Untitled 2025 11 07T030330.584
بریفنگ میں ادارے کے اندر مبینہ بدعنوانی، افسران پر رشوت خوری کے الزامات اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر روشنی ڈالی گئی۔ حساس نوعیت کے ایجنڈے، جن میں پاکستانی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی غیر قانونی آن لائن فروخت شامل تھی، کو بند کمرہ اجلاس میں زیر بحث لایا گیا۔

خرم علی کو 2 نومبر 2024ء کو NCCIA کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، جب ادارے کے بعض افسران کے خلاف کرپشن سکینڈل منظر عام پر آیا تھا۔

اجلاس کے دوران اس وقت صورتحال ڈرامائی ہوگئی جب متعدد سینیٹرز نے انکشاف کیا کہ وہ خود آن لائن فراڈ کا نشانہ بن چکے ہیں۔سینیٹر بلال خان مندوخیل، سیف اللہ ابڑو، دلاور خان اور فلک ناز نے بتایا کہ وہ ایسے دھوکے بازوں کے جھانسے میں آئے جو خود کو حکومتی یا ذاتی واقف کار ظاہر کر رہے تھے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے بھی کہا: "مجھے بھی ایسے ہی جعلسازوں کی جانب سے فون موصول ہوا تھا۔”

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مطابق، ہیکرز عام طور پر پانچ سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے تک کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ سینیٹر فلک ناز نے بتایا کہ انہیں دو اقساط میں پانچ لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔سینیٹر دلاور خان نے انکشاف کیا کہ ان کے اکاؤنٹ سے آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے 8 لاکھ 50 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔فلک ناز نے بتایا کہ جعلسازوں کے پاس ان کے خاندانی اور ذاتی تفصیلات موجود تھیں اور وہ خود کو ایک "کاؤنسلنگ سینٹر” کے نمائندے ظاہر کر رہے تھے۔ اراکین نے NCCIA پر شدید تنقید کی کہ متعدد شکایات کے باوجود ادارہ مؤثر کارروائی نہیں کر سکا۔
Untitled 2025 11 07T030459.089
اجلاس کے دوران پاکستانی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے آن لائن فروخت کے مسئلے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے NCCIA حکام سے پوچھا کہ اس ڈیٹا بریک پر کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

ڈی جی NCCIA سید خرم علی نے کمیٹی کو بتایا کہ اب تک 851 مشتبہ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور متعدد ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ کوآرڈینیشن جاری ہے، ان کے سسٹمز کا آڈٹ بھی کیا جا رہا ہے، اور مکمل نتائج آنے میں تین ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات اس وقت شروع کی گئیں جب ایکسپریس نیوز نے 2024 میں شہریوں کے ڈیٹا کی فروخت سے متعلق پہلی خبر شائع کی تھی، جس کے بعد 7 ستمبر 2025 کو ایک نئی رپورٹ میں مزید انکشافات سامنے آئے۔ان خبروں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے مکمل انکوائری اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔

ڈیٹا فروخت کے نیٹ ورک پر قابو پانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) نے ستمبر میں 1372 ویب سائٹس، ایپس اور سوشل میڈیا پیجز بلاک کیے جو ذاتی معلومات کی خرید و فروخت میں ملوث تھے۔وزارت داخلہ نے بھی اس حوالے سے ایک تحقیقات کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

تاہم، اجلاس کے دوران ایک نئی الجھن اس وقت پیدا ہوئی جب سینیٹر پلوشہ خان نے پوچھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے اب تک کیا پیش رفت کی ہے؟اس پر وزارت داخلہ کے اسپیشل سیکریٹری اور ڈی جی NCCIA دونوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، جس پر سینیٹرز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
Untitled 2025 11 07T030805.835
میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہزاروں پاکستانی شہریوں سمیت وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران، اور پی ٹی اے کے ترجمانوں کا ذاتی ڈیٹا آن لائن فروخت کے لیے دستیاب ہے۔ڈیٹا میں موبائل سم مالکان کے پتے، کال ریکارڈز، شناختی کارڈ کی کاپیاں اور بیرون ملک سفر کی تفصیلات شامل ہیں۔

یہ انکشافات اس وقت مزید سنگین ہو گئے جب معلوم ہوا کہ 2024 میں انتباہ کے باوجود ڈیٹا کی غیر قانونی تجارت بدستور جاری رہی۔متعلقہ ادارے، بشمول PTA اور NCCIA، اس معاملے پر خاموش دکھائی دیتے رہے — حالانکہ ان کی جانب سے غیرقانونی ویب سائٹس بند کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس اور سائبر قوانین کے کمزور نفاذ نے ہیکرز اور ڈیٹا اسمگلرز کو مزید حوصلہ دیا ہے۔ڈیجیٹل فریب کاری کے اس بڑھتے خطرے سے نہ صرف عام شہری بلکہ ریاستی ادارے، سیاست دان اور میڈیا اہلکار بھی محفوظ نہیں رہے۔ماہرین نے تجویز دی ہے کہ حکومت فوری طور پرڈیجیٹل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ پر عمل درآمد یقینی بنائے،سائبر سکیورٹی ایجنسیوں میں احتسابی نظام بہتر کرے، اور عوام میں ڈیجیٹل شعور و آگاہی مہم شروع کرے تاکہ شہری خود کو فیک کالز، ہیکنگ اور آن لائن فراڈ سے محفوظ رکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں