419975 4115021 updates

میکسیکن خاتون صدر کو ہراسانی، مس میکسیکو ‘کو تضحیک آمیز رویہ کا سامنا

میکسیکو: خاتون صدر کلاڈیا شین بام کے ساتھ حامیوں سے ملاقات کے دوران ہراسانی کا واقعہ پیش آیا۔

اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق ایجنسی (یو این ویمن) کے اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کی تقریباً 70 فیصد خواتین اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جنسی ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میکسیکو کی صدر کے ساتھ ہراسانی کا یہ واقعہ منگل کو پیش آیا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔جس میں‌دیکھا جا سکتا ہے کہ میکسیکن صدر کی شہریوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ایک شخص نے پیچھے سے آکر ان کابوسہ لیا اور چھونے کی کوشش کی.

دوسری جانب تھائی لینڈ میں ہونے والی مس یونیورس 2025 کی ایک تقریب میں تضحیک آمیز رویے کے بعد چند حسینائیں واک آؤٹ کرگئیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق منتظمین کی جانب سے مس میکسیکو کے ساتھ مبینہ طور پر غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا گیا۔
419962 1019143 updates
دوران تقریب تھائی لینڈ مس یونیورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناوت اتسارگریسل نے مس میکسیکو فاطمہ بوش سے سوال کیا کہ ‘انہوں نے ایک تشہیری شوٹ میں حصہ کیوں نہیں لیا؟’اس موقع پر انہوں نے فاطمہ بوش کو انگریزی میں’Dumb‘ یعنی احمق کہا جس کے بعد تقریب کا ماحول بگڑنے لگا۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد کئی دیگر حسیناؤں نے اسے ذلت آمیز قرار دیا اور احتجاجاً تقریب چھوڑ کر چلی گئیں۔مقابلے میں شامل وکٹوریا تھیلویگ نے کہا کہ مس میکسیکو کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ کسی بھی عالمی مقابلے کے معیار کے خلاف ہے۔

اس کے علاوہ فاطمہ بوش نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ’بیلوں کی طرح خاموش نہیں رہیں گی‘ اور خواتین کی عزت و وقار کے لیے آواز بلند کرتی رہیں گی، ہماری آواز کوئی نہیں دبا سکتا۔ واقعے کے بعد مس یونیورس آرگنائزیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم تمام شرکا کے ساتھ باعزت سلوک پر یقین رکھتے ہیں، کسی کے ساتھ بھی غیر مناسب رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے بھی مس میکسیکو کے حق میں آواز اٹھائی اور تھائی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے رویے پر شدید تنقید کی جب کہ کئی صارفین نے مطالبہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

تنظیم کی جانب سے مزید کہا گیا کہ تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں