سید خالد جاوید بخاری
پاکستان میں کرپشن کی جڑیں صرف سیاسی یا انتظامی اداروں تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ کے معاشی و تجارتی ڈھانچے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ناپ، تول، اور لین دین کا غیر شفاف نظام وہ بنیادی دیمک ہے جو معاشرتی اخلاقیات، انصاف، اور عوامی اعتماد کو کھا رہا ہے۔قرآن و سنت، تاریخ، معاشیات، اور موجودہ پاکستانی معاشرت کے تناظر میں تجزیہ کریںتو معلوم ہو تا ہے کہ کس طرح ناپ تول میں کمی، وزن و مقدار میں دھوکہ، اور مالی لین دین میں بددیانتی نے کرپشن کو نظامی شکل دے دی ہے۔
کرپشن صرف رشوت نہیں — یہ ایک رویے کا نام ہے۔ ناپ تول میں خیانت، جھوٹا حساب، یا ناجائز منافع دراصل بدعنوانی کی وہ نچلی سطح ہے جو بعد میں قومی سطح کی کرپشن میں ڈھل جاتی ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(ترجمعہ) "تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو خود لیتے وقت پورا لیتے ہیں، مگر دیتے وقت کم دے دیتے ہیں”۔ — (سورۃ المطففین: 1–3). یہ آیت دراصل ناپ تول کی بددیانتی کو صرف تجارتی جرم نہیں بلکہ اخلاقی تباہی قرار دیتی ہے۔
قدیم اسلامی معاشروں میں ناپ تول کی درستگی پر خاص زور دیا گیا۔ مدینہ منورہ میں خلیفہ عمرؓ نے بازار کے ہر دکاندار کے ترازو کی نگرانی کے لیے “محتسب” (بازار انسپکٹر) مقرر کیے۔اس کا مقصد یہی تھا کہ عوامی اعتماد قائم رہے، کیونکہ عدل کی بنیاد ناپ تول کے عدل پر ہے۔تاہم برصغیر میں نوآبادیاتی نظام کے بعد جب تاجروں نے خود کو احتساب سے آزاد سمجھ لیا، تو ناپ تول میں بددیانتی روزمرہ کی روایت بن گئی — یہی روایت آگے چل کر کرپشن کا “کلچر” بن گئی۔
پاکستان میں ناپ تول اور کرپشن کا تعلق جائزہ لیںتو سب سے پہلے مارکیٹ لیول پر کرپشن میںسبزی، آٹا، چینی، تیل، یا پٹرول — ہر سطح پر وزن یا مقدار میں کمی عام ہے۔یہ ایک نفسیاتی رویہ بن چکا ہے کہ "اگر سب کر رہے ہیں تو میں کیوں نہ کروں”۔یہی سوچ بعد میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری، اوور انوائسنگ، اور جعلی بلنگ کی شکل میں سامنے آتی ہے۔کنسٹرکشن اور سرکاری ٹھیکوں میں ناپ تول کے زمرے میںسڑکوں، پلوں یا عمارتوں کی تعمیر میں ریت، سیمنٹ، یا لوہے کی مقدار کم کر کے بل پورا کیا جاتا ہے۔ایک سرکاری رپورٹ (NAB, 2022) کے مطابق پاکستان کے پبلک سیکٹر منصوبوں میں اوسطاً 18% مواد چوری یا کم مقدار میں استعمال ہوتا ہے۔روزمرہ کاروبار میں بددیانتی کرتے ہوئے چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑی کمپنی تک، “ناپ تول میں کمی” اخلاقی نہیں بلکہ معاشی فائدے کا ہتھکنڈہ بن چکی ہے۔یہی غیر شفاف رویہ بینکاری، سیاست، اور بیوروکریسی میں منتقل ہو جاتا ہے۔
اقوامِ عالم میں ناپ تول کا نظام دیکھیںتو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ناپ تول کے نظام کو ریاستی احتساب کے دائرے میں رکھا ہے۔جاپان میں “Metrology Law” کے تحت اگر کوئی تاجر وزن یا پیمائش میں دھوکہ دے تو 10 سال قید اور کاروبار کی بندش کی سزا دی جاتی ہے۔برطانیہ میں “Weights and Measures Act 1985” کے مطابق ناپ تول میں کمی فوجداری جرم ہے۔سعودی عرب نے “نظام المیزان” کے تحت ڈیجیٹل تول نظام متعارف کرایا ہے جس میں فراڈ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستان میں 2019 میں “Weights and Measures Ordinance” موجود ہے مگر عمل درآمد صفر ہے۔
ناپ تول میں کمی دراصل ایک نفسیاتی عادت ہے — چھوٹے فائدے کے لیے بڑی اخلاقی قیمت دینا۔ماہرِ نفسیات کارل یونگ کے مطابق:
"Dishonesty in small things becomes the architecture of one’s moral failure”. یعنی (چھوٹے جھوٹ انسان کے بڑے زوال کی بنیاد بنتے ہیں)۔جب ایک قوم چھوٹے پیمانے پر ایمانداری کھو دیتی ہے، تو بڑے پیمانے پر بدعنوانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات اور کرپشن کے خلاف رہنمائی مکمل طور پر موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”جس نے ناپ تول میں خیانت کی، وہ ہم میں سے نہیں”(ابنِ ماجہ).”ایمان دار تاجر قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا”(ترمذی).اسلام نے تجارت کو عبادت قرار دیا ہے ، مگر شرط یہ ہے کہ تول اور لین دین میں صداقت ہو۔
اس لئے پاکستان میں ناپ تول میں کرپشن کے نظام کو درست کرنے کے لئے مختلف اصلاحی اقدامات کی بہت ضرورت ہے. جس میںڈیجیٹل پیمائش کا نفاذ کرتے ہوئے ہر مارکیٹ میں الیکٹرانک تول مشینوں کی لازمی تنصیب حکومت کرائے۔ احتسابی نظام میں وسعت دیتے ہوئے "Weights and Measures Authority” کو نیب یا ایف آئی اے کی طرز پر خودمختار حیثیت دی جائے۔نصابِ تعلیم میں اخلاقی معیشت کا مضمون شامل کرتے ہوئے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں “ایماندار تجارت” اور “کرپشن فری سوسائٹی” پر نصاب شامل کیا جائے۔دینی و سماجی مہمات چلاتے ہوئے مساجد، میڈیا، اور سول سوسائٹی مل کر عوامی سطح پر ناپ تول میں خیانت کے خلاف آگاہی پیدا کریں۔
ناپ، طول، اور لین دین کا نظام دراصل ایک قوم کی اخلاقی خودی کا پیمانہ ہے۔جہاں ناپ تول میں خیانت عام ہو جائے، وہاں انصاف، ترقی، اور ایمان سب کم ہو جاتے ہیں۔پاکستان کی کرپشن کا آغاز کسی دفتر سے نہیں بلکہ بازار کے ترازو سے ہوتا ہے۔اس لئے جب تک ہم تول، پیمائش، اور مالی لین دین میں دیانت واپس نہیں لاتے، تب تک کوئی ادارہ، کوئی قانون، اور کوئی لیڈر ہمیں کرپشن سے نہیں بچا سکتا۔
حوالہ جات و ریفرنسز:
1. قرآن مجید، سورۃ المطففین، آیات 1–3۔
2. صحیح ابن ماجہ، حدیث نمبر 2313۔
3. ترمذی شریف، باب البیوع۔
4. NAB Annual Corruption Report, 2022۔
5. Weights and Measures Act, UK, 1985۔
6. Metrology Law, Japan, 1992۔
7. Jung, C. G. Collected Works on Psychology and Morality, 1959۔
8. Pakistan Weights and Measures Ordinance, 2019۔
سینیئر قانون دان ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔


