justice athar minallah

ہمارے ہاتھوں ہوئی تباہی کو تسلیم کرنا چاہئے، ججز نے بھی کردار ادا نہیں کیا،جسٹس اطہرمن اللہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا ہے کہ ججز آزاد ضرور رہے ہیں لیکن وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا، جوتباہی ہمارے ہاتھوں ہوئی ہمیں تسلیم کرنا چاہیئے۔

سپریم کورٹ میں ایک سیمینار سے خطاب جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ اگرہم یہ کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر ہم سب کودھوکہ دے رہے ہیں، 77 سالہ عدلیہ کی تاریخ میرے لئے کوئی قابل فخرنہیں ہیں۔ 77سال میں پاکستان قانون کی حکمرانی رہی ناآئین کی بالادستی رہی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق وردی میں بیٹھا بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ بھٹو کیس کی اپیل سپریم کورٹ میں ہے، جس پر عدلیہ کے دباؤ میں‌ہونے کا پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ عدلیہ آزاد ہے وہ جو فیصلہ دے گی قبول ہوگا، اور پھر عدلیہ نے بھٹو شہید کو سولی پر لٹکا دیا، اور اسی بینچ کے ججز نے بعد میں کہا دباؤ تھا اور یہ ججز خوشی خوشی استعمال ہوئے،

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میرے بطور جج حلف کے الفاظ کو پڑھیں تو کسی وعدے کی ضرورت نہیں ہے، حلف میں لکھاہے کہ بغیرکسی خوف کے فیصلے کرنے ہیں، سب سےبڑھ کر آئین کادفاع کرناہے، یہ حلف کاحصہ ہے۔

فاضل جج سپریم کورٹ نے کہا کہ ‏پاکستان میں اشرافیہ کی اجارہ داری ہے ناکہ آئین کی بالا دستی اور قانونی کی حکمرانی ہے ، پاکستان میں آئینی گورننس نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ 77 سال کے بعد بھی ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا، جب آئین کاڈرافٹ بناگیا تو سول اورملٹری بیوروکریسی نے حکومت پرقبضہ کرلیا، آئینی حکمرانی کامطلب یہ ہے کہ تمام ادارے آئین کےمطابق چلیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں