زاہد مقصوداحمد قریشی
حکومت پنجاب کی جانب سے خطرے کی گھنٹی بجادی گئی ہے، مہلت ختم ہونے پر ٹریفک قوانین کی سختی شروع کر دی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پورے پنجاب میں ٹریفک قوانین کے نفاذ کے لیے بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہونے کے دوران صرف گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 3195 افراد گرفتار، 3215 مقدمات درج، 12ہزار سے زائد گاڑیاں تھانوں میں بند، 50پزار سے زائد چالان،کروڑوں روپے کے جرمانے کر دئیے گئے. گذشتہ ہفتے 2لاکھ57ہزار سے زائد چالان کر کے 20کروڑ سے زائد جرمانے وصول کئے گئے۔
قانون بنانا اور اس پر عمل کرانا کسی بھی حکومت کا حق ہے،لیکن غریب عوام کے کچھ بجا سوالات ہیں انکے جوابات کون دے گا؟؟؟اگر عوام سے ٹیکسیزاور چالانات کی مد میں بھاری رقم گورنمنٹ وصول کرتی ہے تو اس کے عوض کچھ اس کی ذمہ داریاں بھی ہیں کہ نہیں،عوام گھر سے باہر نکلے تو سڑکوں پر بے شمار گڑھے، جنکا کوئی ذمہ دار نہیں۔گلیوں میں سیوریج کاگندہ پانی کوئی ذمہ دار نہیں۔مین ہولز کے ڈھکن نہیں روزانہ ایکسیڈنٹ نقصانات کوئی ذمہ دار نہیں ۔ناکارہ سگنل لائٹس کوئی ذمہ دار نہیں ۔سڑک کی کھدائی کے بعد اسکی مرمت نہیں ہوتی، کوئی ذمہ دار نہیں۔فٹ پاتھوں پر بے شمار تجاوزات کی کوئی ذمہ دار نہیں۔سڑکوں پر ابلتی کچرا کنڈیاں کوئی ذمہ دار نہیں۔سڑکوں پر رات کے اوقات میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں، کوئی ذمہ دار نہیں ۔کیاانتظامیہ اور حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں، ان پر کوئی قواعد و ضوابط لاگو نہیں ہوتے یا وہ مسائل کے حل کے لیے کبھی ذمہ دار نہیں۔
کیا ہمیشہ شہری فرائض ادا کریں، تکلیفوں کا سامنا کریں، ٹیکس ادا کریں، حکومتوں کے خزانے بھریں لیکن حکومت افسر شاہی کسی چیز کی ذمہ دار نہیں۔پولیس سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جگہ جگہ ناکے لگا کر کھڑی ہوگئی ہے،فوری مقدمے اور بھاری جرمانے کیے جارہے ہیں۔پولیس نے ڈاکوؤں، چوروں، لٹیروں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو چھوڑ کر صرف اور صرف نوعمر نوجوانوں کے خلاف اندھا دھندکریک ڈاؤن شروع کیا گیا، سینکڑوں طالب علموں کو گرفتار کرکے مقدمات ان پر درج کردیئے گئے۔کیا کوئی بتائے گا کہ ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو سکول چھوڑے یا روزی روٹی کمائے، بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اس نے بچوں کو موٹر سائیکل لے کر دی کہ بچے سکول چلے جائیں اور کیا ہماری حکومت یہ چاہتی ہے کہ بچے سکول میں نہیں پڑھیں.
ایساکالا قانون جس سے لاکھوں طلباء کی زندگیاں برباد ہو جائیں گی، تعلیمی سفر رک جائے گا.اس کے لیے آواز بلند کرنی ہو گی اورعوام کو اپنے حق کے لیے بیدار ہونا ہوگا اور پنجاب کی افسر شاہی سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ملک میں بہت زیادہ ترقی ہوگئی ہے، بے روزگاری ختم ہوگئی ہے، غربت ختم ہوگئی ہے، کیا ہر بندہ امیر ہے جو حکومت نے اپنا جگا ٹیکس بڑھا دیا ہے؟؟جو بھی اس ظالمانہ جگا ٹیکس کا قانون بنانے والا ہے کیا انہیں عوام کی معاشی حالات کا بھی اندازہ ہے ؟کیا 2ہزار کا چالان ہر کسی کے لیے آسان ہے؟موٹر سائیکل کی سواری عام غریب عوام کے لیے ہوتی ہے جسکا جرمانہ 2ہزار ،5ہزار کردیا گیا ہے تو جو غریب مزدوری کرنے کے لیے جاتا ہے اور اسکی دیہاڑی ایک ہزار ہو تو وہ جرمانہ کہاں سے بھرے گا جرمانہ بھرے گا تو بچوں کا پیٹ کیسے پالے گا؟.
ہیلمٹ نہیں پہننا voilationتو ہوسکتا ہے،جرم نہیں جبکہ ہتھکڑی لگانا خود ایک جرم ہے، ہیلمٹ نہ پہننے پر صرف عام شہریوں اور معصوم طالب علموں پر ایف آئی آر دینے اور انکو ہتھکڑیاں لگا کر جیلوں میں بند کرنے کے اس تعلیم اور غریب عوام دشمن عمل کی شدید ترین مذمت سول سوسائٹی کو کرنی ہوگی اور مؤثر طریقے سے آواز بلند کرنی ہوگی اور اپنے احتجاج کو عوامی بنانا ہوگا جو افسر شاہی خود کروڑوں کی گاڑیاں مفت کے پٹرول اور دیگر آسائشیں استعمال کرکے ایسے ظالمانہ قوانین کا نفاذ چاہتی ہے اور حکومت کو موٹر سائیکل سواروں پر بھاری بھرکم جرمانوں کا مشورہ دیتے ہیں ذرا ایک بار موٹر سائیکل استعمال کرنے والی اپنی غریب رعایا سے بھی تو پوچھ لے کے وہ کن مشکلوں میں ہیں اور کس طرح اپنے گھروں کا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔
بظاہر حکومت کا دعویٰ سڑکوں کو محفوظ بنانے کا لگتا ہے مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس عمل کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری پر ہی پڑرہا ہےاور وہ بھی اس صورت میں کہ جب حکومت کی طرف سے بنیادی شہری سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود ہی نہیں۔شہریوں کی حفاظت صرف ٹریفک قوانین سے ہی نہیں بلکہ پورے زندگی کے معیار اور سماجی تحفظ سے وابستہ ہے.اس طرح کے قوانین سے عام غریب شہریوں کا حکومت اور اداروں پر سے رہا سہا اعتماد بھی ختم ہوجائے گا۔قانون کا مقصد صرف جرمانہ لگانا یا پکڑنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسکا مقصد شہری زندگی کو محفوظ بنانا اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
سوال یہ بھی کہ اتنا سخت ظالمانہ قانون جس عوام پر حکومت نافذ کررہی ہے کیا اس عوام نے واقعی محفوظ راستے اور بہتر بنیادی سہولیات سے استفادہ کیا ہے؟اگر ادارے صرف سخت قوانین پر بھروسہ کریں اور عوام کو بنیادی سہولیات اور تحفظ فراہم نہ کریں توشہری ایک ظالمانہ بوجھ تلے ہی دبیں گے فقط۔قانون پر عملدرآمد اس طرح ہونا چاہیے کہ صرف جرمانے یا ضبطگیاں ہی نہیں ہوں بلکہ سڑکوں،گلیوں میں پارکنگ روشنی اور شہری سہولیات کو بھی ساتھ لایا جائے۔گلی محلوں ،چھوٹے بازاروں اور آبادی والے علاقوں میں بھی نگرانی اور سروسز فراہم کی جائیں تاکہ شہری غیر ارادی خلاف ورزی پر مجبور نہیں ہوں۔تعلیم اور عوامی شعور کوبڑھایا جائے۔قانون ایک جیسا ہو کوئی استشناء نہیں ہو تاکہ شہریوں میں اعتماد بحال رہے.
رکن مجلس عمومی جمعیتہ علماء اسلام پنجاب ہیں، اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔


