vacine

ویکسین کی عدم دستیابی سے سپر فلو وائرس کا خطرہ بڑھنے کامعاملہ پارلیمنٹ میں‌پیش

اسلام آباد:ویکسین دستیاب نہیں ہونے کی وجہ سے پاکستان میں سپر فلو وائرس کا خطرہ بڑھنے کا معاملہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پہنچ گیا.

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی اجلاس میں کمیٹی کنوینر شاہدہ اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ڈسپنسری میں بھی فلو اور الرجی کی ادویات دستیاب نہیں ہیں، پاکستان میں سپر فلو وائرس کے حوالے سے بڑی شکایات آرہی ہیں۔
Untitled 2026 01 08T084443.334
حکام وزارت صحت نے کہا کہ عالمی سطح پر ابھی تک سپر فلو کی تشخیص اور ویکسین دستیاب نہیں ہوسکی، وباء پھیلنے کی ایک بڑی وجہ فضائی آلودگی بھی ہے، شہری ماسک کی پابندی سمیت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سپر فلو کے حوالے سے نئی ویکسین کا انتظار ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ بیرون ملک سے کوئی بھی ویکسین لگوائیں تو مؤثر ہوتی ہے، پاکستان والی ویکسین مؤثر نہیں ہوتی ہے، جب تک کسی وبا سے متعلق تحقیق آتی ہے پانی سر سے گزر جاتا ہے۔

حکام نے شرکاء کو بتایا کہ ہر سال وائرس کا ویریئنٹ تبدیل ہورہا ہے، سپر فلو کے ساتھ ایک اور وائرس بھی چل رہا ہے، ان دنوں شمالی علاقوں میں یہ وائرس زیادہ ہے،

ماہرین کے مطابق یہ فلو نومبر سے مارچ تک ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں