ملتان: لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن ملتان سید ریاضالحسن گیلانی کو بھجوائے گئے جواب میں ملتان بینچ سے مصدقہ نقل حاصل کرنے کے لیے 500 روپے فیس (ٹکٹ) کی ادائیگی قانون کے مطابق قرار دے دی ہے.
ایڈیشنل رجسٹرار (قانون سازی و تحقیق) لاہور ہائیکورٹ عبدالحفیظ نے سابق صدر ہائیکورٹبار ایسوسی ایشن ملتان سید ریاضالحسن گیلانی کو بھجوائے گئے جواب میںکہا ہے کہ
مجھے آپ کی مورخہ 26.05.2025 کی درخواست کے حوالے سے یہ اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے کہ مجاز اتھارٹی نے اسے فائل کر دیا ہے.
ایڈیشنل رجسٹرار کے مطابق اس معزز عدالت کے ملتان بینچ میں وصول کی جانے والی مصدقہ نقل کی فیس عدالت فیس ایکٹ 1870 کے شیڈول-I، کالم 3 میں پنجاب فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے کی گئی حالیہ ترامیم کے مطابق ہے۔
مذکورہ جواب پر سید ریاض الحسن گیلانی نے کہا ہے کہ انہوںنے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سےدرخواست کی تھی کہ ہائیکورٹ ملتان بینچ میں نقل فارم کے ساتھ وصول کی جانے والی 500 روپے کورٹ فیس واپس لی جائے، جو مسترد کر دی گئی ہے.
ریاض گیلانی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہوئے ایک ہی معاملہ کے دو قانون نافذ کر دئیے گئے ہیں، کیونکہ یہ 500 روپےفیس صرف ہائیکورٹ کے ملتان اور بہاولپور بینچز میںلاگو ہے، جبکہ لاہور میں یہ فیس لاگو نہیںہے.
انہوںنے کہا کہ اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان کے احکامات کے باوجود جنوبی پنجاب کے وکلاء کو آن لائن سماعت کی ویڈیو لنک سہولت بھی فراہم نہیںکرکے امتیازی سلوک کیا گیا ہے.جس پر انہوںنے احتجاج کرنے کے ساتھ درخواست بھی کی، جبکہ لاہور سمیت ملک بھر کی دیگر بار ایسوسی ایشنز نے بھی ان کے مؤقف کی تائید کی ہے.
سید ریاض الحسن گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے وکلاء کے ساتھ اس خطے کے عوام کے حقوق کی بھی جنگ لڑ رہے ہیںاور اس جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور انصاف کی منزل حاصل کر کے رہیںگے.

