420580 1741807 updates

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور، 2 ججز کا متعفیٰ ہونے کا اعلان

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور کر لیا۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 کے تحت مقدمات سننے کے لیے بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی کو دیا گیا ہے۔

کمیٹی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس علاوہ سینیئر ترین جج شامل ہوں گے، بینچز بنانے والی کمیٹی کے تیسرے رکن جج چیف جسٹس کے نامزد کردہ ہوں گے۔ایکٹ کے تحت کمیٹی کے کسی رکن کی عدم موجودگی میں چیف جسٹس کسی اور جج کو رکن نامزد کر سکیں گے جبکہ کمیٹی بینچ بنانے کا فیصلہ اکثریت سے کرے گی۔
Untitled 2025 11 13T080841.327
قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور ہوگیا ۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دونوں ججز نے سپریم کورٹ میں اپنے چیمبرز خالی کر دیئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔

اپنے استعفے میں جسٹس منصور نے لکھا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمانداری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے۔ 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ 27 ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنادیا ہے۔27 ویں ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے۔
13 c7013e547e
جسٹس منصورعلی شاہ نےکہا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پرکاری ضرب لگائی گئی ہے۔ ترمیم سے انصاف عام آدمی سےدور،کمزور طاقت کےسامنے بےبس ہوگیا۔ جس عدالت سے آئینی کردار ہی لے لیا گیا اس میں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔

27 ویں ترمیم نے قوم کی اعلیٰ عدالت کی یکجہتی کو توڑ کر عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا ہے اور ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ آئینی نظام کی ایسی بگاڑ ناقابل برداشت ہے اور وقت کے ساتھ اسے پلٹا جائےگا۔ عدالت کے جج کے طور پر میرے سامنے صرف دو راستے کھلے ہیں۔ ایک راستہ ایسے نظام کے اندر رہنا ہے جو اس ادارے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔ دوسرا راستہ اس کی غلامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الگ ہو جانا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق 26 ویں ترمیم میں بھی سپریم کورٹ آئینی سوالات کا جائزہ لینے اور ان کا جواب دینےکے اختیار کی حامل تھی۔ موجودہ ترمیم نے اس عدالت سے وہ بنیادی اور اہم اختیار چھین لیا ہے۔ کمزور عدالت میں خدمات انجام دیتے ہوئے میں آئین کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ جج رہتے ہوئے اس ترمیم کا عدالتی جائزہ بھی نہیں لے سکتا جس نے آئین کو بگاڑا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوادیا.استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ کا کہناہےکہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔

استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہےکہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خودکو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پرکیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں