اسلام آباد: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں متعدد ملز مالکان اور اُن کے نمائندوں نے شرکت کی جس میں انھوں نے یہ واضح مؤقف اختیار کیا کہ چینی کے سٹاکس موجود ہیں اور ان کے ختم ہونے پر ملز انفرادی فیصلہ کریں گی اور نیا کرشنگ سیزن شروع کر دیں گی جس کیلئے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرنے کی ضرورت نہ ہے اور اس حوالے سے کرشنگ سیزن شروع کرنے پر کسی حتمی تاریخ پر اتفاق نہیں ہوا تھا اور 15 نومبر کو ملیں چلانے کا کوئی جواز نہ ہے۔
اجلاس میںقرار دیا گیا کہ چینی کے ملکی سٹاکس 15 دسمبر تک ملکی ضروریات کیلئے کافی ہیں۔ اگر جلدی ملیں چلائی جائیں گی تو کچے گنے کی کرشنگ ہو گی جبکہ اس میں مٹھاس کی مقدار کم ہو گی اور احتمال ہے کہ تقریبا 3 لاکھ ٹن چینی بھی کم بنے گی جو نہ صرف پیداواری اندازوں سے کم ہو سکتی ہے بلکہ اس سے اربوں روپے کا ملکی معیشت اور شوگر انڈسٹری کو نقصان ہو گا۔
اجلاس میں مزید کہا گیا کہ اس کے علاوہ ملوں کے گوداموں میں موجود چینی کی وجہ سے ان کے مالی وسائل دباؤ کا شکار رہیں گے اور ان سٹاکس پر اضافی مالی اخراجات کا سامنا رہے گا۔ اس کا سب سے بڑا نقصان گنے کے کا شتکاروں کا ہو سکتا ہے کیونکہ ملیں مالی بحران کی وجہ سے فصل کی سابقہ سال کی طرح اچھی اور بر وقت قیمت نہ دے سکیں گی۔ کرشنگ سیزن کے جلد آغاز پر حکومت کو مہنگی درآمدی چینی کی فروخت میں مشکلات ہوں گی اور اس پر بھی ملک کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ترجمان نے کہا کہ جب تک مارکیٹ میں لو کل چینی کی سپلائی بحال رہی تو قیمتیں مستحکم رہیں مگر حکومت نے سوا 3 لاکھ ٹن چینی بلا ضرورت درآمد کی اور درآمدی چینی کے آتے ہی اُسے مارکیٹ میں بیچنے کی خاطر حکومت نے FBR پور ٹلز کو بند کر دیا جس سے مارکیٹ میں سے چینی کی سپلائی میں کمی ہونا شروع ہو گئی جس کی بدولت چینی کی قیمتیں بڑھنے لگیں جس کی ذمہ دار اور فائدہ وصول کنندہ شوگر انڈسٹری کسی بھی طرح نہیں تھی۔ تاہم اب یہ صور تحال بھی در پیش نہ ہے۔ شوگر ملوں سے مقررہ قیمت پر چینی کی سپلائی بحال ہو رہی ہے۔

