Untitled 2025 12 13T101503.815

طلاق کے3 دن بعد جسمانی تعلق پر شوہر کے خلاف زیادتی کا مقدمہ خارج

بہاولپور: لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ نے طلاق دینے کے3 دن بعد ازدواجی تعلقات قائم کرنے پر شوہر کے خلاف درج زیادتی کا مقدمہ خارج کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہری جمیل احمد کی درخواست پر12صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
422940 5867693 updates
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مسلم فیملی لاء آرڈیننس کے تحت طلاق کے بعد 90 روز کے اندر چیئرمین یوسی کے روبرو منسوخی کے لیے رجوع کیا جاسکتا ہے ،موجودہ کیس میں فریقین نے 22 اپریل 2024 کو شادی کی اور شادی کے بعد پتہ چلا کہ شوہر پہلے سے ہی شادی شدہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کے بعد درخواست گزار نے 14اکتوبر 2024 کو بیوی کو طلاق دے دی، خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف رحیم یار خان میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروا دیا تھا، جس کے مطابق 17 اکتوبر کو اسے گن پوائنٹ پر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایاگیا۔

درخواست گزار شوہر نے اپنے خلاف زیادتی کا مقدمہ خارج کرنے کےلیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسلامی قوانین کے مطابق شادی ختم ہونے کے متعدد طریقے ہیں، پہلا طریقہ بیوی کی وفات ہے، دوسرا شوہر کی مرضی، تیسرا فریقین کی رضامندی اور چوتھا طریقہ عدالتی ڈگری ہے۔

فیصلے کے مطابق مسلم فیملی لا آرڈیننس کے تحت 90 روز سے پہلے طلاق قانونی طور پر مؤثر نہیں ہوتی، 90 دنوں کے اندر شوہر کے پاس حق ہوتا ہے کہ وہ طلاق منسوخی کےلیے رجوع کرسکتا ہے، اگر مقررہ وقت میں طلاق منسوخ ہو جائے تو قانون کے مطابق شادی جاری رہتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں درخواست گزار نے 90 روز کی مدت کے اندر چیئرمین یونین کونسل کے روبرو اپیل دائر کی، خاتون نے بھی ان حقائق سے انحراف نہیں کیا، قانون کی نظر میں فریقین کی شادی جاری ہے اور طلاق نہیں ہوئی۔

عدالت کا کہنا ہےکہ درخواست گزار کے طرز عمل کو غیر اخلاقی سمجھا جا سکتا ہے مگر اس کے خلاف زیادتی کی دفعات کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی لہٰذا عدالت درخواست گزار کے خلاف زیادتی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ خارج کرتی ہے۔

خیال رہے کہ درخواست گزار شوہر کے خلاف اپنی بیوی کو طلاق کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں سیشن کورٹ نے ملزم کی ضمانت خارج کر دی تھی.

اپنا تبصرہ لکھیں